حویلی کہوٹہ (سٹیٹ ویوز) آزاد جموں و کشمیر کے ضلع حویلی کہوٹہ میں ووٹر فہرستوں میں ہزاروں کی تعداد میں بے ضابطگیوں کے انکشاف پر ممبر کشمیر کونسل و امیدوار اسمبلی خواجہ طارق سعید نے نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے فوری اور غیرجانبدارانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔حویلی کہوٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کی تیاری کے دوران بڑے پیمانے پر ردوبدل، اندراج میں ہیر پھیر اور ہزاروں شہریوں کے ووٹ غیرقانونی طور پر خارج یا دوسرے سب ڈویژنز میں منتقل کیے گئے، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی مشینری کی مبینہ جعلسازی اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ خواجہ طارق سعید نے کہا کہ کے حلقۂ انتخاب میں ووٹر اندراج کے عمل میں غیرمعمولی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کے آبائی سب ڈویژن میں ووٹرز کی تعداد میں حیران کن طور پر تقریباً 6 ہزار کا اضافہ ہوا، جبکہ تحصیل خورشیدآباد اور تحصیل حویلی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے مرتب فہرستوں کے مقابلے میں بالترتیب 2200 سے 2500 ووٹ کم ہو گئے۔ مزید یہ کہ تقریباً 7 ہزار نئے ووٹرز کے اندراج کے باوجود ان کے نام جاری کردہ فہرستوں میں شامل نہیں کیے گئے۔
اس طرح صرف تحصیل خورشیدآباد اور تحصیل حویلی میں مجموعی طور پر تقریباً 8 سے 10 ہزار ووٹوں کے اخراج یا عدم اندراج کا معاملہ سامنے آیا ہے، جو ایک منظم انتخابی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن ہزاروں ووٹرز کے نام خورشیدآباد اور دیگر علاقوں سے خارج کیے گئے یا دوسرے سب ڈویژنز میں منتقل کیے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر اصل انتخابی فہرستوں میں بحال کیا جائے۔ بالخصوص خورشیدآباد میں شہریوں کی جانب سے درج کروائے گئے 5 ہزار سے زائد نئے ووٹ بھی فوری طور پر انتخابی ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں تاکہ کسی بھی شہری کو اس کے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ رکھا جا سکے۔
خواجہ طارق سعید نے چیف الیکشن کمیشن، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور کے ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، ووٹر فہرستوں کی جامع جانچ پڑتال کرائیں، درستگی و اندراج کے لیے ہنگامی اقدامات کریں، اور حتمی ووٹر فہرستوں کے اجرا کی تاریخ میں مناسب توسیع دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کا اندراج یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ چیف الیکشن کمشنر حکومتی مشینری اور محکمہ مال کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت کا سخت نوٹس لیں اور ہر ووٹر کو اس کے آبائی علاقے میں بلا تفریق ووٹ ڈالنے کا بنیادی آئینی و جمہوری حق یقینی بنائیں، کیونکہ شفاف، غیرجانبدار اور منصفانہ انتخابات ہی جمہوری نظام کے استحکام کی بنیاد ہیں۔