سید خالد گردیزی

15

۔۔ووٹ کا حقدار کون؟۔۔

حارث غریب والدین کا سب سے بڑا بیٹا ہے۔اس کے تین چھوٹے بھائی بھی ہیں۔ماں کھانستی رہتی لیکن دوائی نہیں خریدتی تھی۔باپ کو سخت محنت کے لیے خوراک کی ضرورت تھی لیکن وہ ایک روٹی کھاتا تھا ۔دونوں ماں باپ اپنے بچوں کے تابناک مستقبل کے حسین خواب آنکھوں میں سجائے اپنی تمناؤں،حسرتوں،ارمانوں اور خواہشوں کا قتل عام کرتے ہوئے حارث کو ایم بی اے کرانے میں کامیاب ہو گئے۔جس دن حارث ہونٹوں پے مسکراہٹ سجائے ڈگری ہاتھ میں تھامے گھر کی دہلیز پرکھڑا تھا تو اس دن اس کے والدین اور چھوٹے بہن بھائی خوشی سے پاگل ہونے کے قریب تھے ۔خوش بھی کیوں نہ ہوتے آخر ان کی برسوں کی محنت رنگ لے آ ئی تھی اور یقیناًان کے دن پھرنے والے تھے لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔
اب کی بار اماں نے اپنا چاندی کا زیور بیچا اور اور رقم لا کر حارث کے ہاتھ پر رکھ دی۔حارث تیار ہوا اور نوکری کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔سفارش نہ تھی جس کی وجہ سے اسے کوئی دفتر میں داخل نہ ہونے دیتا ۔کئی ماہ کی بھاگ دوڑ کے بعد وہ دل برداشتہ ہو کر سڑک کے کنارے کھڑا تھا کہ ایک سیا سی شخصیت کے جلوس کاوہاں سے گزر ہوا۔گاڑیوں کے ٹائروں سے اٹھتی دھول نے اس کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔عام الیکشن قریب تھے ۔ہر طرف گہماگہمی تھی ۔اس نے ایک سیاسی جماعت کے دفتر جا کر اپنی پریشانی بیان کی تو اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ اس سیاسی جماعت میں شامل ہو جائے ۔یہ جماعت اقتدار میں آئے گی تو چند ماہ بعد اسے نوکری ضرور مل جائے گی۔تھکے ہارے حارث کو امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ۔وہ روزانہ اس سیاسی جماعت کے دفتر میں آنے لگا ۔دن میں اپنے امید وار کے نعرے اور راتوں کو پوسٹر لگاتا۔وال چاکنگ کرتا ۔آہستہ آہستہ وہ جلسوں میں تقاریر کرنے لگا۔بلا کا مقر ر تھا۔جہاں بولتا محفل لوٹ لیتا۔امید وار سے بھی اس کے گہرے دوستانہ مراسم ہو گئے۔اب روزانہ گاڑی اسے گھر سے اٹھا تی اوروہ دن رات الیکشن مہم میں مصروف رہتا۔اس کی بہت جان پہچان بھی ہو گئی۔جیب خرچ بھی اسے مل جاتا تھا ۔الیکشن ہوئے تو حا رث والا امید وار بھاری اکثریت سے جیت گیا۔چند دن بعد حارث کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا جب اسے معلوم ہوا کہ اس کی پارٹی کی حکومت بن رہی ہے اور متعلقہ ممبر اسمبلی وزیر بن رہا ہے۔وہ دوڑتا ہوا اماں-ابا کے پاس گیااور انہیں بھی خوشخبری سنائی کہ اب نوکری پکی سمجھیں ۔سادہ والدین اس کی دلیل کے آگے ہمیشہ ہار جاتے اور اپنے بیٹے کی کامیابی کے لیے دعائیں کرنے لگتے۔
خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اوراس کی پارٹی کی حکومت ہی نہیں بنی بلکہ حا رث والا امید وار وزیر بھی بن گیا۔حارث تیا ر ہو کر فائل ہاتھ میں پکڑے کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے دارلحکومت پہنچا۔وہ بہت پر جوش تھا ۔اسے امید تھی کہ وہ وزیر کے پاس جائے گاتو اسے جاب ضرور مل جائے گی۔لیکن یہ کیا؟اسے وزیر کے دفتر میں کوئی جانتا ہی نہ تھا۔وہاں مبارکباد دینے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا ۔حارث دھکم پیل کرتا ہوا وزیر تک پہنچ گیالیکن وزیر موصوف کو جب معلوم ہوا کہ اسے جاب کی ضرورت ہے تو اس نے برا سا منہ بنا کر اسے کل آنے کا کہہ دیا۔حارث نے رات کا کھانا دربار پر کھایا اور نماز پڑھ کر وہیں سو گیا ۔صبح آنکھ کھلی تو بغیر کچھ کھائے پیئے وزیر کے دفتر پہنچ گیاجہاں اسے بتایا گیا کہ وزیر موصوف تو شہر سے باہر چلے گئے ہیں۔بھوک اور دکھ کی وجہ سے اس کے آنسو نکل گئے۔اس نے وہاں موجود صاحب کو اپنی پریشانی بتائی تو اسے جاب حاصل کرنے کا پراسس بتایا گیاکہ اخبارات میں اسامیوں کی تشہیر دیکھ کر وہ اپلائی کرنے کے بعد وزیر موصوف کو بتائے تو وہ سفارش کر کے اسے نوکری دلا دیں گے۔
جاب حاصل کرنے کا نیا سبق سیکھ کر وہ گھر واپس آ یا تو باری باری اپنے والدین کے گلے لگ کے خوب رویا۔حارث کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں تھا کہ وہ اپلائی کرے اور سفارش بھی کرائے۔وہ اخبار میں اشتہا ر دیکھ کر اپلائی کرتا ۔سخت محنت کرکے تحریر ی انٹرویو دیتا۔وزیر کے پاس جاتا ۔بڑی تگ و دو کے بعد ملاقات کرتا ۔ہر بار ایسا ہوتا کہ رزلٹ آتا اور وہ سلیکٹ نہ ہو پاتا۔ایک دن اسے معلوم ہوا کہ جن پوسٹوں کے لیے اسے مسترد کیا جاتا رہا ان پوسٹوں پر وزیر موصوف کے اپنے بیٹے ،بھتیجے اور دوستوں کے بچے سلیکٹ ہوتے رہے۔اس پریشانی کے عالم میں اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ اپوزیشن پارٹی جوائن کر لے جو بر سراقتدار آئے گی تواسے جاب ضرور مل جائے گی۔حارث کو بہت دکھ تھا اور جاب بھی حاصل کرنا تھی اس لئے اسے یہ مشورہ بھلا لگا۔اسے مخالف پارٹی کے ہارے ہوئے امید وار سے ملایا گیا۔اس نے تقریب رکھی اور ایک دھواں دھار تقریر کے بعد حارث کو پھولوں کا ہار پہناکر فوٹو بنائے گئے۔یہ پہلا موقع تھا جب حارث کی خبر اور فوٹو اخبار میں چھپی اور حارث کی زندگی کی گاڑی ایک نئی سڑک پر دوڑنے لگی۔
حارث کا معمول بن گیا کہ وہ روزانہ بازار آتا ۔کسی سے رقم ادھار لے کر چائے پانی کرتا۔اپوزیشن پارٹی کے ساتھ مل کر احتجا ج کرتا ۔گھر واپس جاتا تو والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ستے ہوئے چہرے دیکھتا ۔وہ بھی اب حارث سے کم بولتے تھے ۔حارث چپ چاپ اپنے بستر میں گھس جاتا اور گھنٹوں روتا رہتا ۔وقت گزرتا رہا۔آہستہ آہستہ حارث کو ادھار ملنا بند ہو گیا۔بازار میں ہوٹل والے بھی بقایا جات کا تقاضہ کرتے لیکن حا رث اپنے جیسے دوستوں کے ساتھ مل کر کسی نہ کسی ایونٹ کیلیے چندہ اکٹھا کرتا اور اس چندے سے اپنا نظام چلاتا ۔اس جدو جہد کے دوران پانچ سال گزر گئے اور الیکشن کا زمانہ آگیا۔حارث کے دل میں وزیر موصوف کے خلاف آگ لگی ہوئی تھی اور اب اس کی پارٹی کے امید وار سے اسے بہت توقع بھی تھی ،اس نے اپنے امیدوار کو جتوانے کے لیے ایک بار پھر انتھک محنت کی۔حارث والا امید وارجیت گیا اور اپوزیشن برسر اقتدار آ گئی۔حارث کے والدین جو حارث کو بھول کر اس سے چھوٹے بچوں کی پڑھائی کے لیے جتن کر رہے تھے۔ان کے دل میں بھی امید کی کرن پھوٹی۔
حارث ایک مرتبہ پھر پورے جو ش و خروش کے ساتھ جاب حاصل کرنے کے پراسس میں پڑ گیا لیکن چھ ماہ تک نتیجہ پہلے سے مختلف نہ نکلا۔حارث اور اس کے بوڑٹھے والدین کی ہمت اب جواب دے چکی تھی ۔اس نے ایک جوڑا کپڑوں کا ساتھ لیا اورپھر اپنی ریاست کو خیر آباد کہتے ہوئے راولپنڈی آ گیاجہاں اس نے ایک ہوٹل میں برتن دھونا شروع کر دیئے ۔چال ڈھال اوروضعداری سے وہ پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا ۔جب اکثر اس سے پوچھا جاتا کہ تم کتنا پڑھے ہو تو ایم-بی-اے کے لفظ اس کے گلے میں گولا بن کر اٹک جاتے ۔وہ منہ پھیر کر برتن دھونے لگتا تو اس کی آنکھوں سے آنسو خاموشی سے پانی والے ٹب میں گر جاتے ۔وہ کئی ماہ اپنے آنسوملے پانی سے برتن دھوتا رہا۔اکثر اس کی دماغ میں موجود اپنے والدین اور بھائی بہنوں کی تصاویر بڑی ہو کر اس کی آنکھوں کا پردہ بن جاتیں ۔وہ فارغ اوقات میں سوتا نہیں تھا بلکہ مختلف دفاتر میں اپنا سی -وی چھوڑ آتا ۔اس نے اپنے سی-وی پر ریفرنس والے خانے میں لکھ رکھا رتھا۔اللہ
ایک دن ایسا ہوا کہ اسے کال آ ہی گئی ۔ایک ملٹی نیشنل کمپنی کو اپنے دوبئی آفس کے لیے اسسٹنٹ مینجر کی ضرورت تھی۔انٹر ویو میں وہ کامیاب ہو گیاتو کمپنی نے اسے ایک تنخواہ ایڈوانس دے کر دوبئی رپورٹ کرنے کو کہا۔وہ اپنی پہلی تنخواہ کے طور پر ایک لاکھ روپے وصول کر کے کئی گھنٹے نوٹوں کو دیکھتا رہا ۔اس نے ایک لاکھ روپے ایک ساتھ پہلی دفعہ دیکھے تھے ۔وقت کم تھا اس لیے وہ پاسپورٹ بنوانے اور ضروری شاپنگ کے چکروں میں گھر جا کر اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے بھی نہ مل سکا۔اس نے سوچاکہ دوبئی سے گھر کال کر کے سب سے پہلے اپنی ماں سے بات کروں گا اور انہیں سرپرائز دوں گا پھر بابا اور بہن بھائیوں سے گھنٹوں باتیں کروں گا ۔وہ جلدی جلدی ایئر پورٹ پر پہنچا اور جہاز میں سوار ہو گیا ۔جہاز میں بیٹھ کر اسے لگا کہ اس پرسے منوں بوجھ اتر گیا ہے ۔اطمینان محسوس کرتے ہی وہ دوبئی میں جاب ملنے کی خوشی،والدین اور اپنی ریاست سے دور جانے کے غم کے بھنورمیں پھنس کر رہ گیا۔اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ ایک دفعہ گلہ پھاڑ کر روئے لیکن خوشی اسے رونے سے روک دیتی ۔وہ چاہتا تھا کہ کھل کر قہقے لگائے تو غم اس کو باز رکھتا ۔میں یہ بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ جب حارث بیک وقت خوشی اور غم کے آخری درجے پر تھا تو اس کو کیا کرنا چاہیے تھا ۔کھل کر ہنستا؟کھل کر روتا؟یا پھر بیک وقت قہقے لگاتا اور زور سے روتا؟
وہ خوشی اور غم کے بھنور میں غوطے کھاتا ہوا سمند پار کر گیا۔اس کے سامنے اب نئی دنیا تھی اور وہ گاؤں کا پینڈو۔دن دفتر میں گزار کر اپنے فلیٹ میں آیا تو اسے ایک ہی بھوک تھی ۔وہ اپنی اماں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا ۔دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے گھر کا نمبر ملایاتو کئی گھنٹیوں کے بعد اس کی چھوٹی بہن کی آواز سنائی دی ۔ہیلو۔
حارث صرف ’’منی‘‘ بول پایا اور منی صرف ’’بھیا‘‘۔
دو تین منٹ دونوں طرف صرف سسکیوں کی آواز تھی ۔حارث چند منٹوں بعد بول پایا ’’اماں۔‘‘
اسے آواز آئی’’بھیا اماں مر گئی۔‘‘حارث کو لگا کہ آسمان اس پر گر گیا ہے۔اس کی کل کائنات ختم ہو گئی ہے۔
چند سال گزرنے کے بعد حارث اب سعودی عرب کے اند ر اسی کمپنی میں مینجر ہے۔اس کے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک وزیر کے پاس ہوتاہے۔آزاد کشمیرمیں عام الیکشن آ رہے ہیں تو اس نے مجھے پوچھا کہ میں کس کو ووٹ دوں ؟کون میرے ووٹ کا حقدار ہے؟
میرے پاس تو حارث کے سوال کا جواب نہیں ۔شایدآ پ کے پاس ہو تو ضرور بتائیے گا۔
نوٹ: تقریباََ آٹھ ماہ قبل شائع کیا گیاکالم حالات کے پیش نظر دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں