سید خالد گردیزی

15

حماقتیں

حماقت کی بھی کوئی انتہاہوتی ہے مگربڑے پائے کھائیں تو ظاہر ہے کہ دماغ موٹا ہوجاتاہے اور لوگ حماقت کی انتہاء سے بھی آگے نکل جاتےہیں اورانہیں محسوس بھی نہیں ہوپاتا جیسے 19جولائی 1947 کو سرینگر میں سردار ابراہیم خان کےگھر میں قراردادالحاق پاکستان منظورہوئی اورپانچ عشروں سے19 جولائی کو کشمیری یوم الحاق پاکستان مناتےہیں تواسی روز بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر حکومت پاکستان کی طرف سے یوم سیاہ منانے کافیصلہ کرلیاجاتاہے جوجگ ہنسائی کےبعد موخرکیاگیا۔اسی طرح جب لوگوں کو متحد کرنے اوروادی میں بھارتی ظلم وستم سمیت میڈیا کی آواز دبانے پرتوانا پیغام دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہےتو لوگوں کو بری طرح سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرکےرکھ دیا گیا ہے۔

جولوگ گہرائی میں نظام کو دیکھتے ہیں انکاماننایہ ہے کہ جب تک ووٹ دینے والے اور ووٹ لینے والے کے کردار اور معیار کا تعین نہیں ہوتا یعنی پاکستان کےآئین کے آرٹیکل 61 اور62 پرعملدرامد نہیں ہوتااورآزادکشمیر میں انتخابی اصلاحات نہیں ہوتیں تب تک صاف وشفاف انتخابات کی بنیاد نہیں پڑ سکتی مگر پھر بھی تقریباً دو لاکھ جعلی ووٹرز کےانتخابی فہرست سےخارج ہونےاورشناختی کارڈ کےمطابق ووٹ کاحق استعمال کرنےسے کافی حد تک دھاندلی رک جائیگی اور پاک فوج کی زیر نگرانی انتخابات کے باعث امن و امان بحال رکھنے اورپولنگ سٹیشنز پر عملاً ہونے والی دھاندلی کا سلسلہ روکنے میں مددملےگی مگرحکومت کے اس اقدام کی وجہ سے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں جن میں سے ایک یہ کہ جب 21 جولائی کو پاک فوج کے جوان مختلف پولنگ سٹیشنز پرکھڑے انتخابی عمل کو دیکھ رہے ہونگے اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونگی تو حکومت پاکستان اپنے اس موقف کے برعکس کہ آزاد کشمیر میں اسلام آباد کی مداخلت نہیں ھے اس تاثر کو کیسے زائل کریگی کہ مقامی پولیس سے کام لینے کی بجائے فوج کی زیرنگرانی انتخابات کرائےگئے؟فوج کی زیرنگرانی انتخابات سے جڑا ہوا ایک آئینی اور قانونی سوال بھی سرابھار رہا ہے کہ اگر پاکستان کے آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج تعینات کی گئی ہے تو اس دفعہ کا اطلاق آزادکشمیر پر کیسے ہوتا ہے؟علاوہ ازیں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس سارے عمل پر اٹھنے والے اخراجات جو 50 کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کی توقع ہے وہ کون ادا کریگا جبکہ آزاد حکومت کے پاس تنخواہیں ادا کرنےکیلئے بھی رقم دستیاب نہیں ہوتی؟

سوال یہ بھی ہے کہ اگر آزادکشمیر کا محکمہ پولیس 41 حلقوں میں پرامن اور دھاندلی سے پاک انتخابات نہیں کراسکتا تو پھر اس محکمے کے نو ہزاراہلکار اورآفیسران کس مرض کی دوا ہیں؟اور کیا اگر یہی پچاس کروڑ روپے محکمہ پولیس کو دینے کی تجویز ہو تو کوئی اس محکمے کو دیگا کیا؟
جناب وزیراعظم صاحب ترکی میں طیب اردگان کی حکومت گرا کر مارشلاء لگانے کی کوشش کو لوگوں نے اس لئے ناکام نہیں بنایا کہ لوگوں کو طیب اردگان سے محبت اور فوج سے بیر ہے بلکہ لوگوں نے درحقیقت اس سسٹم کو سپورٹ کیا جسکے تحت سول اداروں خصوصاً پولیس کو اوپراٹھایا گیا اور پولیس نے ہی قانون توڑنے والوں کےخلاف قدم اٹھایااورلوگوں نےپولیس کاساتھ دیا۔اسی طرح تمام ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کرکام کررہے ہیں جبکہ پاکستان تو دور آزاد کشمیر جیسے چھوٹے سے خطے میں بنیادی ڈھانچہ ہی تباہ ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد کو فوج کی زیرنگرانی انتخابات کرانے کا فیصلہ کرناپڑا۔اس بنیادی ڈھانچے کو غور سے دیکھیں تو اس میں لینٹ آفیسران سب سے بڑی خرابی بنے ہوئے ہیں اوروہ خرابیاں کیوں کررہےہیں اس معاملے میں کسی کو جوابدہ ہیں ہی نہیں ۔بااثرحلقے پولیس آرڈر 2002 بلکہ اس میں خیبر پختو انخواہ کے اندر جدید بنیادوں پر ہونے والی مزید اصلاحات نہیں کردیتےکیونکہ اس صورت میں محکمہ پولیس آزاد ہو جائےگی اور لوگوں کی شکایات کا بھی ازالہ کرےگی جو بااثرحلقوں کومنظورنہیں ھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ چاروں صوبوں میں جس طرح آفیسران حکومت کو جوابدہ ہیں تو یہ لینٹ آفیسران کسی کو جوابدہ کیوں نہیں ہیں؟مادرپدر آزاد لینٹ آفیسران مسلط کرنے کا یہ رواج دنیا کے کس خطے میں ھے؟اسی طرح چھوٹاسا خطہ جہازی سائز کی حکومت کیسے برداشت کرسکتا ہے؟
جناب میاں صاحب ان سطور میں یہ عرض کیا جاچکا کہ گلوبل ویلج کے اس دور میں اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان آئینی اور مالیاتی معاملات لوگوں کے مملکت خدادادکیساتھ کچے دھاگے سے بندھے رشتے پر بری طرح اثرانداز ہورہے ہیں جن پر حکومت پاکستان کی عدم توجہ اور حماقتوں پر مبنی اقدامات مزید منفی اثرات مرتب کررہےہیں جنکو دیکھنے اور ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں