سید خالد گردیزی

21

کون بنے گا وزیر اعظم ؟

مودی کی یاری اورپانامہ لیکس کی طاقت کے کیپسول کھا کر اپوزیشن نے تو پاکستان کےحکام کےنرم و نازک گلے دبارکھے تھے۔چشم فلک نےان کی پھٹی آنکھیں اوراکھڑتی سانسیں دیکھیں مگراللہ بھلا کرے آزادکشمیر کے لوگوں کا جھنوں نے نہ صرف انکے گلے چھڑادیئے ہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کی بتیس نشستوں پر مسلم لیگ کے امیدوار کامیاب کراکرانکاعمل تنفس بحال کیا اورساتھ ہی غیرمتوقع ہیوی مینڈیٹ کی حیرت کےپہاڑ تلے دبا دیاہے۔
مسلم لیگی قیادت کو شاید حیرت کےکیفیت سے نکل کر ہوش میں آتے ہوئے دو تین دن لگیں مگرباہربیٹھے تماشائیوں نے صدارت اوروزارت عظمیٰ کو لیکر چائے کی پیالی میں طوفان برپاکررکھاہےجسکا سامناظاہر ہے مسلم لیگی قیادت کو ہوش میں آنے کے بعدکرناپڑےگا۔
ہمارے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار چار لوگ ہیں۔مظفرآباد ڈویژن سے راجہ فاروق حیدر خان وزارت عظمیٰ کے تگڑے امیدوارہیں۔پارٹی صدر کی حثیت سے انہوں نے پارٹی کھڑی کی اور کئی مقامات پر اس پارٹی کو بچایا اوروکٹری سٹینڈ تک لانے میں بھی انکا کردارنمایاں ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد فاروق حیدرکوپسندبھی کرتی ہے لیکن یارلوگ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ کو بھاری مینڈیٹ دلانے میں فاروق حیدرکانہیں بلکہ وفاقی ٹرائیکا کاہاتھ ہےاورمیاں نوازشریف سمیت ٹرائیکا اور پھولوں والی سرکارکو راجہ فاروق حیدرکا لب و لہجہ اور انکی اداپسند نہیں۔
وزارت عظمیٰ کے دوسرے طاقت ور امیدوار پارٹی کے جنرل سیکریٹری شاہ غلام قادرہیں جوہراوکھےسوکھے میں پارٹی اور راجہ فاروق حیدرکیساتھ کھڑےدکھائی دیئے۔آسان حلقہ وادی چھوڑ کرمشکل وادی نیلم میں جا گھسے اورایک بارہارنےکےبعد اب کی بارسرخرو ہوکرنکلے۔اعلیٰ قیادت کی نظرمیں وہ محتاط ومدبراوربین الاقوامی سطح پراثرورسوخ رکھنے والےشخص ہیں۔پھولوں والی سرکارکوبھی ان پراعتراض نہ ہوگامگر وزارت عظمیٰ کولیکر انہیں پارٹی کےاندر قبولیت کےمعاملےمیں سخت چیلنجز کاسامناہوسکتاہے۔
وزارت عظمیٰ کے تیسرے مضبوط امیدوارپونچھ ڈویژن سےمشتاق منہاس ہیں جنکے اعلیٰ سطحی مراسم تو کسی سےڈھکےچھپے نہیں اور انکے نتائج نےوزارت عظمیٰ کےدیگر امیدواروں کومشکل میں بھی ڈال دیاہے۔سب جانتےہیں کہ مسلم لیگ کی آزادکشمیر تک توسیع میں انہوں نےبحثیت صحافی میاں نوازشریف کے ساتھ ذاتی تعلق استعمال کیا اورنوازشریف کےروبرو وہ ضامن بھی ہیں۔انہیں وزیر اعظم نامزدکرنےکیلئےیقیناً وزیر اعظم پاکستان پارٹی سربراہ کےطورپربیتاب بھی ہیں مگرانتخابات سے چارماہ پہلےسیاست میں آنےاورپھر وزیر اعظم بننےکی افواء کے سبب انہیں آزادکشمیر میں پارٹی کےاندر اور باہر سخت تنقید کاسامناکرناپڑسکتاہے علاوہ ازیں پھولوں والی سرکاربھی انکےمعاملےمیں زیادہ بہترخیال نہیں کرتی۔
وزارت عظمیٰ کے چوتھے مضبوط امیدوارمیرپورڈویژن سےچوہدری طارق فاروق ہیں جوپارٹی کےسینئرنائب صدر ہیں اورانھوں نےمشکل الیکشن بھی جیتاہے۔اعلیٰ سطحی قیادت سےتعلق کے معاملے میں بظاہر وہ باقی تینوں امیدواروں سےکمزور ہیں مگردرحقیقت انکےپاس تین ایسےپتےہیں جو اعلیٰ قیادت کورام کرنےکیلئےیکے بعددیگرےپھینک سکتےہیں علاوہ ازیں پھولوں والی سرکارانکےلئےنرم گوشہ رکھتی ہے۔
ان چاروں امیدواروں کے درمیان اگلےچنددنوں میں اونچےنیچےراستوں پراعصاب شکن میراتھن کاآغاز ہوجائیگا
۔انکی ریس اپنی جگہ مگر ہمارااسلام آبادکومشوریہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کیلئے ایسی شخصیت کی ضرورت ہےجو ریاستی۔قومی اوربین الاقوامی سطح پرتنازعہ کشمیرکےمعاملےمیں اپناموقف بیان کرسکےاوراسکےساتھ ساتھ بردبارہواوراعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کامالک ہو۔اگراسلام آبادکودوہری صلاحیتوں کےمالک کسی امیدوارکووزیراعظم بنانےمیں مشکل پیش آئےتووزیراعظم انتظامی معاملات میں ماہر کسی کوبنادیناچاہیئےاورپھر اسکےساتھ صدرایسےشخص کوبناناچاہیئے جوریاستی۔قومی اور بین الاقوامی سطح پرتنازعہ کشمیر بارے جاندارکرداراداکرسکے بصورت دیگر مسلم لیگ کو راجہ عبدالقیوم خان اور سردار خان بہادر خان کی صورت میں دو ایسے عمر رسیدہ لوگ دستیاب ہیں جنہیں بالترتیب صدر اور وزیر اعظم بنانے کاایک فائدہ یہ ہو گا کہ انہیں کشمیر ہاؤس کے ریسٹ ہاؤس میں پڑے رہنے کی بجائے صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں آرام فرمانے کا موقع مل جائے گا جبکہ دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں حکومت کو وختہ نہیں پڑے گا اور وہ واک کرتے ہوئے پمز پہنچ جائیں گے.
آپس کی بات ہے کہ پیپلزپارٹی کے مجاوروں کے ہٹنے کے بعد مسلم لیگ نے متوالے مسلط کیے توآزادریاست پیچھےجائےگی آگے نہیں۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں