سید خالد گردیزی

16

تختہ الٹنے کیلئے پلان بی تیار

ایک چٹ مسلم لیگ نواز آزاد کشمیرکی قیادت کی خدمت میں پیش کردی گئی جس میں قانون سازاسمبلی کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کےنام تھے۔چٹ اوپر سے آئی تھی جسے تھوکتےتوراجہ فاروق حیدر وزارت عظمیٰ سےہاتھ دھو بیٹھتے اوراگرنگلتے تو سوالات جنم لیتے تھے۔انہوں نےمسلم لیگ آزادکشمیر کے صدرکی حثیت پرسوال اٹھنا مناسب جانااورمصلحت پسندی کامظاہرہ کیا تاہم ایک نام پرفاروق حیدر اڑ گئےاور وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی ڈاکٹرآصف کرمانی سے انکی تلخی ہوگئی۔اسلام آباد میں یہ خبر اس تبصرے کے ساتھ جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ فاروق حیدراب وزیر اعظم بن ہی نہیں سکتے۔اسلام آباد میں بیٹھے حکمرانوں نے پہلے ہی کسی دوسری شخصیت کو وزیراعظم نامزد کرنے کیلئے سوچ رکھا تھا جس سوچ کو راجہ فاروق حیدرکےردعمل نے مزید تقویت بخشی۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی ذاتی پارٹی کےپارلیمانی پارٹی کے اجلاس سےقبل اسلام آباد میں اقتدار کا کھیل کشمکش کےنقطہ عروج پرپہنچ چکا تھا۔تین مختلف جگہوں پر تین مختلف ٹولیاں سرجوڑے بیٹھی تھیں۔رائے بن گئی اور طے ہوچکاتھاکہ راجہ فاروق حیدر کی بجائےدوسری شخصیت کو وزیراعظم بنانے پراتفاق کیا جائے۔اس ماحول میں دو لوگ راجہ فاروق حیدر کی مدد کرسکتے تھے اور وہ دو لوگ تھے راجہ ظفرالحق اور سردارخالد ابراہیم۔ایک ٹولی نے دونوں سے رابطہ کیا اور دونوں نے میاں نواز شریف کو باور کرایا کہ صبح راجہ فاروق حیدر کو وزیر اعظم نامزد کیا جائے کیونکہ پارٹی صدرکےطورپر یہ انکاحق ہے۔

میاں نواز شریف دونوں کی بہت عزت کرتےہیں جسکی وجہ سے انہوں نےراجہ ظفرالحق اور سردارخالدابراہیم کی بات ردنہیں کی تاہم دو مختلف ٹولیوں کو آپس میں ملنے اور ایک رائے بنانے کاکہا گیا۔دونوں ٹولیاں ایک ایجنڈےپر اکھٹی ہوگئیں اور انہوں نے “پلان بی” ترتیب دے کرمیاں نواز شریف کو راجہ فاروق حیدرکیلئے گرین سنگل دے دیا۔

صبح پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہونے سےقبل سیاسی گھن گرج ختم ہو چکی اورفاروق حیدرکی لینڈنگ کیلئے موسم صاف ہوچکاتھا۔اس موقع پر راجہ فاروق حیدر والی ٹولی نے ایک خوفناک کھیل کھیلا۔انہوں نے سردارخالدابراہیم کو استعمال کرنے کےبعدپارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شمولیت کی دعوت ہی نہیں دی۔سردارخالد ابراہیم کو نظرانداز کرنے والوں کےپیش نظرتھا کہ میاں نواز شریف نے سردار خالد ابراہیم کو دیکھا تو وہیں انہیں صدر نامزد کر سکتے ہیں۔میاں نوازشریف نے اجلاس میں خالدابراہیم کونہ پا کرسخت برہمی کا اظہار کیا اورتاکید کی کہ حکومت سازی کے عمل میں انہیں شریک رکھاجائے۔

ادھر سردار خالد ابراہیم کو آزاد کشمیر کاصدربننے سے روکنے کیلئےیار لوگوں نے سہولت کاروں کے ذریعے سابق سفارتکار اور سردار خالد ابراہیم کے بھتیجےمسعود خان کا نام بھی مارکیٹ کردیا اور سردار سکندرحیات خان کی گرجتی برستی آوازبھی سنائی دی کہ خالدابراہیم کو نہیں بلکہ مجھے صدر بنایا جائے۔

یادرہےکہ جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ سے اتحاد میاں نوازشریف کی معرفت مسلم لیگ کی وفاقی ٹیم کے ذریعے ہواتھاجس میں راجہ فاروق حیدر اورانکی ٹیم شامل نہ تھی جبکہ اس اتحاد کو چلانے کی ذمہ داری پارٹی صدر پرہی عائد کی گئی اور انہیں اتحاد کے جزوی معاملات سے آگاہ کیا گیا تھا۔چونکہ یہ اتحاد براہ راست مسلم لیگ کی وفاقی ٹیم نے کیا تھا اس لئے راجہ فاروق حیدر اورانکی ٹیم نے جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کی قانون ساز اسمبلی کی نشست پر خاتون امیدوارنبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو بطور امیدوار کاغذات جمع کرانےکیلئے تائید کندہ تومسلم لیگی ممبر اسمبلی اسد علیم شاہ دے دیا مگر جے۔کے۔پی۔پی کو آخری وقت تک اندھیرے میں رکھ کر انکی امیدوار کو مکھن سے بال کی طرح نکال دیاگیا۔سردارخالد ابراہیم نے جن پتوں پراعتماد کیاوہی پتے ہوا دینے لگے تو انہوں نے بروز ہفتہ حلف کی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔

مسلم لیگ آزادکشمیرکی قیادت نے سردارخالدابراہیم کو تو دکھی کیا ہی مگر انہوں نے ان خواتین کو بھی ایک سیٹ نہ دی جو مسلم لیگ کے مرکزی عہدوں پر فائز ہیں اور ہرمشکل میں پارٹی کے ساتھ کھڑی دکھائی دیں۔ان خواتین میں مسلم لیگ کی جنرل سیکریٹری سیدہ الماس گردیزی۔مسلم لیگ پنجاب کی صدر زرقا جاوید اورسینئرنائب صدرشہنازراجہ شامل ہیں۔یہ خواتین اب سوچ رہی ہیں کہ جس قیادت کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہوں اور وہ اپنے حق کیلئے تو لڑتے نظرآئیں لیکن وہ خواتین ونگ کی عہدیداروں کیلئے بات بھی نہ کرسکیں تو پھر ایسی قیادت کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں رہ کر اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے مرکزی سطح پر راہ و رسم رکھ کر اوپر سے آنا ہی بہتر عمل ہے۔

خواتین کی ایک سیٹ تو مان لیاکہ جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں چلی گئی مگر
مسلم لیگ کی خواتین نشست پر منتخب ہونے والی سحرش قمرکون ہیں اور انکی پارٹی کیلئے کیاخدمات ہیں؟
نسیمہ وانی کون ہیں اور وہ کہاں سیاست کرتی رہی ہیں؟
فائزہ ممبراسمبلی بننے کی اہل کیسے ہوگئیں؟

خواتین کی پانچویں نشست پراتحادی پارٹی کی خاتون کو ووٹ دینے کی بجائے پیپلز پارٹی سے زیادہ انکی امیدوار شازیہ اکبر کو ووٹ کیوں دیئےگئے؟

یہ ایسے سوالات ہیں جو نامزد وزیراعظم کا اس وقت تک پیچھا کرتے رہینگےجب تک “پلان بی” پرعملدرامد کی صورت میں راجہ فاروق حیدر کی حکومت کا تختہ الٹ نہیں دیاجاتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ فاروق حیدر مختصر کابینہ کے ساتھ گڈ گورننس اور ایکٹ 74 میں ترامیم کیلئے کیاحکمت عملی ترتیب دیتے ہیں اور انکی اپنی ہی پارٹی کے پلان بی سےوہ کتنی دیر بچےرہیں گے۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں