سید خالد گردیزی

18

راجہ فاروق حیدر اپنے خلاف سازش میں ملوث

غیرمقبول فیصلوں کی کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔کشمیری گذشتہ پچاس سال سے یوم الحاق پاکستان مناتے چلے آرہے تھے مگر اب کی بار عجیب یہ ہوا کہ حکومت پاکستان نے آزادخطے میں قانون سازاسمبلی کے عام انتخابات سےچندروزقبل ایسے دن کشیمریوں کے حق میں اور بھارت کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا جس روز کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان منانا تھا۔حکومت پاکستان کے اس فیصلے پر زبردست ردعمل ہوا تو پھر حکومت کو ہوش آیا اور 19 جولائی کو یوم سیاہ منانے کافیصلہ واپس لیا۔

پہلا فیصلہ
آزادخطے میں حالیہ عام انتخابات میں بھاری مینڈیٹ ملا تو لوگوں کی توقعات کے برعکس یوم الحاق پاکستان کے موقع پر یوم سیاہ منانے کے فیصلے کی طرح مزید غیرمقبول فیصلے کرنا شروع کر دیئے۔ان غیر مقبول فیصلوں میں پہلا فیصلہ میاں محمد نواز شریف کی ذاتی سیاسی جماعت کے آزاد خطے میں صدر راجہ فاروق حیدر خان کو وزیراعظم نامزد کرنے کی کڑوی گولی نگلنے کے ساتھ مبینہ طورپر انہی کے خلاف خفیہ (پلان بی) بنانا ہے جسکا انکشاف انہی سطور میں کیا جاچکا ہے اوراب یہ منصوبہ راجہ فاروق حیدرکے خلاف عدم اعتماد کی سیڑھی ہے جس پرچڑھنے کا عمل شروع ہو چکاہے۔

دوسرافیصلہ
سیاسی عمل کا حصہ بننے والی مسلم لیگی خواتین عہدیداران کو نظرانداز کرکے دوسرا غیرمقبول فیصلہ من پسند تین خواتین کو ممبران اسمبلی بنانا ہے اور ان تین خواتین میں سے ایک سحرش نامی خاتون تو میاں نوازشریف کے ذاتی ملازم کی بیٹی ہوناہی ان کی سیاسی اہلیت ہے۔دوسری نسیمہ وانی نامی خاتون جو کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے وہ قانون ساز اسمبلی میں آئی ہیں انکی اہلیت اور قابلیت بھی قانون سازاسمبلی والی نہیں بلکہ کچن کیبنٹ والی ہے۔تیسری فائزہ نامی خاتون راجہ فاروق حیدرخان کی سیاسی ادار کاری کیلئے فنڈز مہیاکرنے والے خاندان سے متعلق ہے اوراسکی قابلیت بھی یہی ہے کہ وہ فنانسر کی بیٹی ہیں جبکہ خواتین کی چوتھی نشست انہوں نے جماعت اسلامی کو پیش کی۔

تیسرافیصلہ
تیسرا غیرمقبول فیصلہ پانچویں سیٹ پر اپنی اتحادی جماعت کی امیدوار نبیلہ ارشادایڈووکیٹ کی بجائے چار ووٹ اس پارٹی کی خاتون امیدوار کو دینا ہے جسکی کرپشن کے چرچے زبان زد عام کرنے میں مسلم لیگی قیادت ماضی میں صف اول میں کھڑی نظرآتی تھی اورسب جانتے تھے کہ شازیہ اکبرنامی جس خاتون کو وہ ووٹ دے رہے ہیں وہ دوہری تنخواہ وصول کرتی رہیں اور انکے خلاف ریفرنس تیارہے۔اس معاملے میں پیپلز پارٹی ہی کی نبیلہ ایوب نامی خاتون نے راحت فاروق ایڈووکیٹ کے ذریعے منتخب ہونے کے بعد ہی ہائی کورٹ میں نااہلی کی درخواست دے دی تھی۔

چوتھافیصلہ
چوتھا غیرمقبول فیصلہ قانون سازاسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں یعنی مسلم کانفرنس اورتحریک انصاف کےنامزد امیدواربرائے قائدحزب اختلاف سردارعتیق احمدخان کاراستہ روکنے کیلئے پیپلز پارٹی کے ایک ایسےامیدوار چوہدری یاسین کو قائدحزب اختلاف بنانا ہے جنکے بارے میں مسلم لیگی قیادت ازخودچارج شیٹ پیش کرتی رہی اور انکی کرپشن کے بھانڈے بیچ چوراہے پھوڑتے رہے۔گوکہ اتحادی پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراہیم کی طرف سے ابتداء میں ہی راہیں جداکرنے اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے فیصلے کے بعد حکومت مخالف تین اتحادی جماعتوں کی عددی اکثریت ہے جسکے باعث پیپلزپارٹی کےقائد حزب اختلاف کو چلتا کردیاجائےگا اوراگر انہیں بچانے کیلئے مسلم لیگ نے ایک مرتبہ پھر محبت کا اظہار کیا تو مسلم لیگ کو اپنے دو ممبران اسبملی پیپلزپارٹی میں شامل کرکے غیرمقبول فیصلوں میں مزید اضافہ کرناپڑسکتاہے۔دیکھنا یہ ہے کہ حکومت نے اسمبلی کے اندر جو بظاہر فرینڈلی اپوزیشن بنانے کی کوشش کی ہے اسکا نتیجہ اسمبلی کےاندراورباہر ریاست کے تین بڑے سیاسی گھرانوں کے وارث سردار خالدابراہیم خان۔سردارعتیق احمد خان اور بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کیا نکالتے ہیں۔اگر یہ تینوں حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے تو حکومت کام کرنے کی بجائے انکے الزامات کا جواب ہی دیتی پھرے گی۔

پانچواں فیصلہ
چہ جائیکہ مسلم لیگ کےاندرسے یا پھراتحادی جماعت میں سے صدر ریاست کاانتخاب کیاجاتا اور کشمیریوں کوحق حکمرانی دیاجاتایاوزیراعظم راجہ فاروق حیدر حق حکمرانی لیتے۔انہوں نے سب سے بڑاغیرمقبول فیصلہ کردیاگیا جسکےخلاف ہرسطح پرردعمل سامنےآرہا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ ردعمل باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیارکرتادکھائی دے رہا ھے۔اس فیصلے میں آزادخطے کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بغض معاویہ اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نےحب علی میں ایک ایسےسابق سفارتکار مسعود خان کو اپنا صدارتی امیدوار نامزدکردیاہے جو نامزد ہونےتک حکومت پاکستان سے دو تنخواہیں وصول کر رہےہیں اور دنیامیں انہیں پاکستانی سفارتکار کےطور پر جاناجاتاہے جسکی وجہ سے حکومت پاکستان بین الا قوامی سطح پرعملاً یہ تاثر ختم کررہی ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام متنازعہ حصہ آزاد ہےاورکشمیری ہندوستان سے آزاد ہو کرپاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔علاوہ ازیں نامزد صدارتی امیدوار کا ووٹ ہی موجودہ انتخابی فہرست میں درج نہیں اور نہ ہی اب ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر یاچیف الیکشن کمشنر کےپاس انتخابی اصلاحات فروری2016 ء کے مطابق قانونی طورپریہ اختیاررہا ہے کہ وہ اس مرحلے پر ووٹ درج کرسکیں۔

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس مصطفیٰ مغل سے نامزد صدارتی امیدوار کانام انتخابی فہرست میں ڈالنے کاقانونی جواز ڈھونڈنے کے لئےسازباز ہورہی ہے۔اگر قانون کو موم کی ناک کی طرح مروڑنے کی سازباز کامیاب ہوگئی اور غیر قانونی طور پرنام درج کیا گیا توشاید حکمرانوں اورچیف الیکشن کمشنرکوگلوبل ویلج میں رہتے ہوئے یہ اندازہ ہی نہیں کہ اس عمل کے کس قدر خوفناک نتائج برامد ہونگے۔اگر ساز باز کامیاب نہ ہوئی تو نامزد صدارتی امیدوارکے کاغذات ہی مسترد ہو جائیں گے۔اس ضمن میں حکومت نےاگر صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا توظاہر ہے کہ فردواحد کیلئےصدارتی آرڈیننس کو کورٹ میں چیلنج کرنےکیلئے وکلاء نےکالےکوٹ کھونٹی کے ساتھ باندھ رکھےہیں۔آپس کی بات ہے کہ حکمرانوں نےاگر مسعود خان کو صدربنانےکا فیصلہ مبینہ طور پر چھ ماہ قبل کردیاتھا توجناب انہیں کہتے کہ وہ استعفیٰ دیکراپنے انتخابی حلقے میں جائیں اور ووٹ درج کرانے سمیت تھوڑا عرصہ تولی پیر کی ہوا کھائیں مگر حکمرانوں کےعوام کی توقعات کے مغائر غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سے ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ راجہ فاروق حیدرحکومت چندماہ بعد ہی الٹنے اور پلان بی پر عملدرامد کیلئے راہ ہموار کی جارہی ہے جبکہ فاروق حیدربعض جگہوں پر دانستہ اور بعض پر غیر دانستہ اپنےخلاف منصوبےکا ازخود حصہ ہیں۔

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں