سید خالد گردیزی

14

متازعہ ترین صدر کو خوش آمدید

صدرآزادکشمیرکیلئےمسلم لیگ کےنامزدامیدوار مسعود خان کاووٹ انتخابی فہرست برائے 2016 میں شامل نہیں تھا جبکہ عبوری آئین کی دفعہ 5 کی ذیلی دفعہ 4سی کےمطابق وہی شخص صدرریاست بننےکااہل ہےجسکا ووٹ اس انتخابی فہرست میں شامل ہو جس کےتحت ممبران اسمبلی منتخب ہوئےہوں۔اسی طرح فروری 2016 میں ہونے والی انتخابی اصلاحات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ شیڈول جاری ہونے کے بعد ووٹ کااندراج کرسکیں۔اس پابندی کی وجہ سے نہ صرف کئی امیدواربلکہ شہری بھی انتخاب میں حصہ لینے سے محروم ہوئے۔

نامزد صدارتی امیدوار مسعود خان کے بارے میں بتایاجارہا تھاکہ وہ بہت اصول اورقانون پسند ہیں چہ جائیکہ وہ قانونی اور آئینی ہیچ سامنے آنےکے بعدازخود دستبردارہو جاتے انہوں نے اورانکے نوازی ساتھیوں نے اپنے ووٹ کے اندراج کیلئے ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہوئے مبینہ طور پر ملی بھگت کرکے5اگست کو راولاکوٹ میں اسسٹنٹ کمشنر کو ووٹ کے اندراج کیلئے درخواست دی جو اسسٹنٹ کمشنر نے مسترد کی بعدازاں حکومت نے الیکشن ترمیمی آرڈیننس جاری کرایاجو ووٹ کے اندراج کی درخواست کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کو پہنچا دیا گیا۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس مصطفیٰ مغل نے درخواست پر سماعت کے بعد اسے ناقابل قبول قرار دیکر متعلقہ فورم پر زیربحث لانے کیلئے کہا۔

منگل کے روز مذکورہ درخواست آزادجموں وکشمیر ہائی کورٹ میں پیش کردی گئی جہاں چیف الیکشن کمشنر مصطفیٰ مغل نے چیف جسٹس ہائی کورٹ کی حیثیت سے فوری انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے3 رکنی بنچ قائم کیا۔بنچ میں شامل 2 ممبران مبینہ طور پر چھٹی کے باوجود گھر سے عدالت تشریف لائے۔درخواست پرسماعت ہوئی اور چند گھنٹوں بعد عدالت نے مسعود خان کو صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کیلئے اہل قرار دے دیا۔

عبوری آئین، قانون، صدارتی ریفرنس، عدالت اور الیکشن کمشن کے درمیان جاری یہ کشمکش اب نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں نہ صرف الیکشن کمشن بلکہ عدالت پر بھی سوالات کی بوچھاڑ ہورہی ہے اور لوگ یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ اچانک آزادکشمیر میں انصاف کی فراہمی کیلئے تیز ترین کارروائی کے درپردہ عوامل کیا ہیں۔
سابق سفارتکاراور نامزد صدر مسعود خان اب وقتی طور پر آئین اور قانون سے نکل کر سوشل جسٹس صاحبان کے رحم و کرم پر ہیں جو انہیں تاریخ کا متنازعہ ترین صدر گرداننےلگے ہیں۔اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ مسعود خان نے جو عزت کمائی تھی وہ صدر ریاست بننے کی خاطر گنوا دی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ وقت اور تاریخ مسعود خان کے بارے میں مزید کیا فیصلہ کرتی ہے۔
اب آئیں اس کہانی کے سیاسی منظر کی جانب جہاں پارٹی کے عہدوں کے لئے نامزد کرنا یقیناً پارٹی کے صدر کا اختیار ہے لیکن یہ اختیار پارٹی کے فعال ، متحرک اور مستحق لوگوں سے ہٹ کر استعمال کرنا کسی طور پر اختیار کا جائز استعمال نہیں ہے- سابق سفارتکارمسعود خان کو صدر آزاد کشمیر نامزد کرنا ویسا ہی معلوم ہورہا ہے جیسا کہ کسی صوبے کے لئے گورنر نامزد کیاگیا ہے۔ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر آزاد ہے؟

مسعود خان صاحب بھلے کتنے ہی لائق ہوں لیکن پاکستان کی فارن سروس کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں آزاد کشمیر کے لوگوں کے نمائندے کی حیثیت سے نہیں۔ وہ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی نمائندگی کرتے ہیں یا کرینگے۔ ان سے کشمیر کاز کو اتنا ہی فائدہ مل سکتا ہے جتنا حافظ سعید کے جہاد کشمیر سے مل رہا ہے-تحریک کشمیر کے اس موڑ پر موجودہ کشمیری تحریک ، تہذیب، زبان ، تاریخ ، اس کے زمینی حقائق ، ہندوستان ، پاکستان اور کشمیر کے آئینی اور قانونی رموز سے واقف شخص کی ضرورت تھی نہ کہ کسی سرکاری ملازم کی۔جس شخص نے آزاد کشمیر میں اپنا ووٹ بھی درج کرانا مناسب نہیں سمجھاضرورت پڑنے پر اس شخص کے ووٹ کے اندراج کیلئے آزاد کشمیر کے اداروں کو آئین اور قانون کے خلاف ووٹ درج کرنے کے لئےجو سازشیں ہوئیں اور مجبور کیاگیا یہ ایک داستان غم بن گئی ہے۔ جس شخص کو آزاد کشمیر کے آئین اور قانون کا ادراک نہیں اسے پورے کشمیر کے گاؤں، گوٹھوں ، ضرورتوں ،تر جیحات اور سسٹم کا کیا ادراک ہو سکتاہے؟

کچھ فلاسفر یہ کہتے سنےگئے ہیں کہ مسعود خان کا نام دو سال سے زیر غور ہے، اگر ایسا تھا تو ان کا ووٹ کیوں درج نہیں کرایاگیا؟ میرے خیال میں مری والوں کی مداخلت کا محض تاثر دیکر کسی کا راستہ روکنے کے لئے مسعود خان کو میدان میں لایا گیا ہے اور اسکا اظہارنومنتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کربھی چکے ہیں وگرنہ اس کی تیاری شروع سے کی گئی ہوتی۔نوازلیگ نے بیشک الیکشن میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی مگر اسے غیر سیاسی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی عمل سے آزاد کشمیر میں حکومت کی ابتداکرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ جس عمل کی ابتداغلط ہےاس کی انتہا کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
ہم امیدکررہےتھے کہ راجہ فاروق حیدر خان سیدھاکھیلیں گےمگرانکی الٹی سیدھی شارٹوں کے سبب ابتداء میں ہی اتحادی سردار خالد ابراہیم کے الگ ہوکر تحریک چلانے، خان بہادر خان ، راجہ قیوم اور ان جیسے دیگر کہنہ مشق لوگوں کے ناراض ہونے سمیت غیر سیاسی صدر کی نامزدگی سے ان کی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔آزاد کشمیر کے آئین کے ماہرین کی رائے ہے کہ سوائے آئین کے کسی بھی قانون کی ترمیم سے مسعود خان کا ووٹ درج کرانا غیر اخلاقی، غیر جمہوری اور غیر سیاسی عمل ہونے کے علاوہ غیر آئینی عمل ہے جو آئین کی (دفعہ پانچ ذیلی دفعہ چار سی)سے ظاہر ہے۔

�الیکشن کمشنر نے آزادانہ الیکشن کراکر اپنی غیر جانبداری کا ثبوت دیاگو کہ مسعود خان کے ووٹ کے اندراج کافیصلہ ہائی کورٹ نے کیا ہے مگر اسکےباوجود الیکشن کمیشن کے کردار کو اس عمل سے داغدار کر کے سارے الیکشن کے عمل کو مشکوک بنایاجاچکا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ناجائز کو جائز بنانے کے بجائے جائز طریقے سے کام کیا جائے- مسعود خان نے بین الاقوامی واقفیت کے ساتھ باعزت زندگی گزاری ہے۔نہ معلوم وہ اب اپنی پگڑی اچھالنے کے لئے کیوں سیاست دانوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔جو عزت انہوں نے کمائی ہےاس کو سمیٹ رکھیں تو یہ ان کے لئے زندگی بھر کا اثاثہ ہے-مسلم لیگ کے پاس کہنہ مشق اور نامور سردارخالد ابراھیم ، کشمیری نژاد جسٹس منظور گیلانی ،جسٹس شریف حسین بخاری جو کشمیری النسل بھی ہیں، جسٹس عبدالمجید ملک جو کہنہ مشق سیاسی لیڈر اور چیف جسٹس بھی رہے ہیں ،جسٹس بشارت احمد شیخ۔شاہ غلام قادر یا مشتاق منہاس موجود ہیں جنہیں صدر بنا کر نیک نامی کماسکتی اور یہ تاثر بھی ختم کرسکتی ہے کہ آزاد کشمیر میں صرف سدھن، راجپوت ، گجر یا جاٹ ہی بڑے عہدوں کے لائق ہیں اور کوئی نہیں ہے۔جنکے نام پر تحریک چل رہی ہے وہ سیاستدانوں کی حرکات کا قبیلائی تعصب سے بالا تر ہوکر نوٹس لےرہے ہیں ایسا نہ ہو کہ جیتی ہوئی بازی سیاستدان ہار جائیں-اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ مظفر آباد میں مسلم لیگی حکومت کو بھی کسی کہنہ مشق ، سنجیدہ، تاریخ اورآئین کے ماہر کی ضرورت ہے جو خواہش کے مطابق نہیں بلکہ ملکی اور آئینی مفاد میں رائے دینے کی صلاحیت رکھتاہو۔کیا مسلم لیگ کے پاس قانون ساز اسمبلی میں اس سطح کا کوئی شخص نہیں ھے؟کیا مسلم لیگی حکومت ایکٹ 74 میں ترامیم کیلئے بھی اسی برق رفتاری کا مظاہرہ کریگی جو اس نے من پسند صدرکے ووٹ کے اندراج کیلئے کیا؟   سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں