سید خالد گردیزی

19

مسعود خان کے نام کھلا خط

جناب مسعود خان صاحب
سابق سفارتکاراورحاضرسروس صدرآزادریاست

ہمیں نہیں لگتا کہ کسی کو آپ سے ذاتی طور پر پرخاش ہے مگر مبینہ طور پرآپ آصف علی زرداری کی سفارش پر میاں نواز شریف کے ذریعے سہولت کاری نما سفارتکاری کے انعام کے طور پر آئین اور قانون کو روندھتے ہوئے آئے ہیں اس لئے ریاست جموں و کشمیرکے ایک حصے میں ظلم وبربریت کا بازارگرم ہےاوردوسری جانب آپ تماشا بنے ہوئے ہیں. آپ شاید آزاد کشمیرکےپہلےمتنازعہ ترین صدر بھی ہیں جن کا جب انتخاب کا ناٹک ہورہا تھا تو ساتھ ہی تین مقدمات بھی عدالت میں زیرسماعت ہیں اورپھر جب آپکو صدربنانے کیلئے ووٹنگ جیسا مذاق ہورہا تھا تو تحریک آزادی کے بیس کیمپ کے دارلحکو مت میں لوگ سراپا احتجاج تھے اور صدارتی انتخابات کابائیکاٹ بھی کیا گیا۔

ہم مانتے ہیں کہ ڈاکومنٹس اور ووٹ ہر شہری کی طرح آپکا حق ہے اوراگر یہ حق آپ نے صدرنامزد ہونے سے پہلے ایک شہری کی طرح بروقت حاصل کرلیا ہوتااورکسی بھی سرکاری پوسٹ پر تعیناتی کی طرزپر وقت، آئین اور قانون آپ کے راستے میں حائل نہ ہوتے تو ایک سرکاری ملازم کےصدرنامزد اور منتخب ہونے پر شاید لوگ شور شراباکرتے اورچپ ہوجاتے مگر دوستوں کے بقول چونکہ آپ گذشتہ تیس سالوں میں کبھی ووٹ بھی پول کرنے نہیں گئے اوراب جب آپکو اوپر سےنامزد کیا گیا تو شناختی کارڈ پر مستقل پتہ، ڈومیسائل اور سٹیٹ سبجیکٹ سمیت آپکا ووٹ ہی اس فہرست میں درج نہیں تھا جسکے تحت انتخابات ہوئے اورنہ ہی رولز کے تحت آپکا ووٹ بعد از انتخابات 2016 ء پرانی فہرست میں درج ہو سکتا تھا علاوہ ازیں عبوری آئین کے تحت پرانی فہرست میں ووٹ کے اندراج کے بغیر آپ صدر منتخب نہیں ہو سکتے تھے لیکن ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آپکے لئے راتوں رات صدارتی آرڈیننس جاری ہو گیا۔ آپکا ووٹ عبوری طور پر درج کرکے آپکو صدر منتخب ہونے کیلئے ہائی وے بناکردے دیاگیا۔ 4 اگست سے 10 اگست تک شناختی کارڈ اور سٹیٹ سبجیکٹ سمیت ڈومیسائل بھی بن گیا اور اب ماشااللہ آپ سابق سفارتکار سے حاضر سروس صدر ہوگئےہیں۔ آپ کے اقدامات سے ثابت ہوا کہ آپکااخلاقی اقدار، جمہوری روایات اور دیانت داری سےکوئی خاص تعلق ہے۔

کچھ دوست جنھوں نے آپ کی سفارتکاری کو سطحی طور پرجانا تھا وہ کہنے لگے کہ آپ دیانتداری، ایمانداری اور قانون پرستی کے برج الخلیفہ کی 164 ویں منزل پر کھڑے ہیں اس لئے آپ آئین و قانون کی دیواریں نہ پھلانگ کر اعلیٰ ظرفی کی مثال قائم کرینگے مگر ان بھولے بھالے دوستوں کو کیا معلوم تھا کہ آپ اسلام آباد میں اپنے موجودہ دفتر کے قریب ہی صدارتی کیمپ آفس میں داخل ہونے کیلئے آئینی اور قانونی جمناسٹک کا بہترین کھیل پیش کرینگےاور آپکو اس کی پرواہ ہی نہیں کہ صدر کی متنازعہ حثیت کی وجہ سے ریاست اور تحریک آزادی پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔

ہمارے دوست آپکو باقی سفارت کاروں کی طرح صرف سفارت کار سمجھتے تھے مگر اب وہ سفارت کاری کے درپردہ آپکی سہولت کاری کی خصوصیت کو نہ صرف جان چکے ہیں بلکہ وہ روٹین میں آپکی ترقی، دفترحاضری اور تقسیم کشمیر کے مشرف فارمولےکی وکالت سمیت آپ کےدیگر نامعلوم کارہائے نمایاں کو بے پناہ خدمات کے طور پر گرداننے لگے ہیں۔

وہ آپ کی خدمات اورنامعلوم کارہائے نمایاں کےمعترف ہونے کے بعد غصے میں ہیں کہ آپ کو شناختی کارڈ، ڈومیسائل، سٹیٹ سبجیکٹ، صدارتی آرڈیننس، ووٹ کے اندراج، صدارتی امیدوارکے طور پر کاغذات نامزدگی، مقدمات اور پھر انتخاب جیسے پراسس میں کیوں ڈالا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ آپکی سہولت کاری کے اعتراف میں آپ بس تشریف لاتے اور بندہ آپکے پاس حلف لینے کے لئے حاضرہوجاتا۔ آپ صدارت کے منصب پرفائز ہو کرسہولت کاری جاری رکھتے اورریاست مجاوری سے سہولت کاری کی طرف گامزن ہو جاتی۔

دوست کہتے ہیں کہ متنازعہ صدر بنتےہوئے آپکے دانتوں سے بھی پسینہ نکلا تو کیا ہوا۔ لوگ آپکو سابق صدر جنرل (ر)انور کی طرح سول ڈکٹیٹر تصور کرتے ہیں تو کیا ہوا۔ جنرل (ر)انور آپ سے زیادہ طاقتور تھے مگر آرام سے پانچ سال گذارنے کے بعد گمنام راہوں کے مسافرہیں تو کیا ہوا۔ آپ کے ذریعے ریاست مجاوری سے سہولت کاری کا سفرطے کرے گی تو مزاحمت کے باوجود پانچ سال انجوائے کرلیں گےتو بھی کچھ نہیں ہوگا۔

بس آپ دنیا کی بڑی کمپنیوں بجورن برگ الیگزینڈر کب ،ڈائی سل کے انڈرگار منٹس. بلیو گارڈ، کورگی، ایلٹرا ٹیک کی جرابیں
. رینبو کلب سلینا، کلارک فرینسس، برٹائی وون کے جوتے. ایج، جنید جمشید، بائیبا اور امارہ کی شلوار قمیض یاجان لیوائز، ہگو، ریس جارج کا سوٹ پہن کر گوچی، رےبن، ٹام فورڈ کی عینک ناک پر رکھ کر ایجنٹ پرووکیچر، ارامس، گوچی، ویلنٹینو کاپرفیوم چھڑک کر کوئنگسیگ، لمبرگینی، لکن ہائپر سپورٹس یا فیراری کی گاڑی پر بیٹھ کر ہوٹر بحاتے ہوئے آفس پہنچیں اورپارکر، سلو، شیفریا ارورا کےقلم سے کسی وائس چانسلر کی تقرری اور تبادلے کی فائل پر دستخط کریں گےتو یقین جانیں ہم یہ کہیں گے کہ آپ ریاست کو معاشی طور پر گوادر کے ساتھ جوڑکرساتویں آسمان پر پہنچانے لگے ہیں۔

آپ گھومنے پھرنے باہر جائیں گے تو ہم کہیں گے کہ آپ نے انگلش اور چینی زبان میں ایسا واویلا کیا ہے کہ بھارت دم دبا کربھاگ نکلا ہے۔ آپ کونسل کے اجلاس میں تشریف رکھیں گے تو ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ آپ نے وزیرامور کشمیر اور کشمیر کونسل کو سیدھا کرکے رکھ دیا ہے۔
بس آپ صدارتی دفتر تو سنبھالیں ہم آپ کے اندر چھپا ہوا ماؤزے تنگ، نیلسن منڈیلا، باراک اوباما، شاہ فیصل، امام خمینی، قائداعظم ڈھونڈ نکالیں گے کیونکہ ہمارے ہاں اقدامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ دکھاوے اورپہناوے سمیت تعلق واسطے کی بنیاد پر بڑا آدمی سمجھا، جانا اورپہچانا جاتا ہے۔
والسلام
عام آدمی

سید خالد گردیزی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں