justic-manzoor-gilani

15

آرٹیکل370پربھارت سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں: منظور حسین گیلانی

[button color=”green”]سابق چیف جسٹس آزادکشمیر منظور حسین گیلانی کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے علاقہ وادی کرناہ سسے ہے، وادی سے ہجرت کی اورآزادکشمیر میں آباد ہوگئے، کئی عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ چیف جسٹس بھی رہے ، وہ اکثروادی کشمیرجاتے رہتے ہیںں، حال ہی میں انہوں نے وادی کشمیر کا دورہ کیا ، اس دوران انہوں نے وادی کے معروف صحافی اور رائٹر ساحل مقبول کے ساتھ ایک مفصل گفتگو کی ، پیش ہیں اس ملاقات کے چند اقتباسات)[/button]

سوال: پاک بھارت تعلقات ایک اچھی شاہراہ پر جارہے ہوتے ہیں کہ اچانک انتہائی دلدوز حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں ، کیا اس کے لئے دونوں جانب کے حالات ذمہ دار ہیں یا آپ کسی بیرونی عنصر کی موجودگی محسوس کر رہے ہیں ؟

اس کے بعد بھی حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے علاوہ حیدر آباد، جونا گڑھ اور کئی دیگر معاملات کے حوالے سے تناﺅ قائم رہا لیکن اس دوران مذاکرات، افہام و تفہیم اور باہمی روابط کو وسعت دینے کی کوششوں میں کمی نہیں آئی اور دونوں نے کئی ایک تاریخی معاہدات کیے، جن میں تاشقند معاہدہ اور شملہ معاہدہ قابلِ ذکر ہیں، جہاں دونوں نے یہ بات تسلیم کی کہ وہ اپنے باہمی معاملات کو جنگ و جدل کی بجائے مذاکرات کی مدد سے حل کریں گے، میں سمجھتا ہوں یہ دونوں جانب کی قیادت کی دور اندیشی اور دانشمندی کا ہی اعجاز تھا حالانکہ ابھی ایک دہائی قبل تک بھی جنرل مشرف اور نواز شریف کے زمانے میں دونوں میں لاہور ڈیکلریشن پر دستخط کیے اور جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جس پر دونوں نے طویل عرصے تک عمل بھی کیا ،

ساحل مقبول سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی سے گفتگو کررہے ہیں

جہاں تک بین الاقوامی قوتوں ،خاص طور پر مغربی دنیا کا تعلق ہے، ان کی سوچ ہمیشہ اس خطے کے حوالے سے منفی رہی ہے، وہ سوچتے ہیں کہ اگر بھارت اور پاکستان نے روائتی دشمنی ترک کرکے دوستی کرلی اور کوئی نیا محاذ قائم ہوگیا تو اس سے ان کی منڈی پر برا اثر مرتب ہوسکتا ہے کیونکہ جھگڑوں اور تناﺅ کی وجہ سے مغربی ممالک کی بہت ساری اشیائے جنگ و جدل اس مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ جس کی ایک مثال چین کی ہے، جو اس وقت ایک مضبوط اقتصادی قوت بن چکا ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ اور پورا مغرب لرز ہ بر اندام ہے اور وہ اس کے خلاف کوئی نہ کوئی پابندی یا دیوار کھڑی کرتا رہتا ہے ۔ بالکل انہی بنیادووں پر اگر بھارت اور پاکستان بھی متحد ہوکر اس خطے میں ایک نئی طاقت کے طور پر ابھرتے ہیں تو ظاہر ہے ،ان ممالک کا بٹھہ بند ہو جائے گا ، لہذا وہ نہیں چاہتے کہ ان کے مفادات متاثر ہو ں۔

تیسری بات یہ کہ ہماری سیاست میں دونوں جانب انتہائی شدید نوعیت کی’ پولو رائزیشن ‘ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے بعض ایسے گروپ اور جماعتیں ابھر کر سامنے آگئی ہیں، جن کے ان افراتفری کے حالات کے ساتھ ذاتی و سیاسی مفادات منسلک ہوچکے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ بھارت اور پاکستان آپس میں دوست بن جائیں یا کم از کم ان کے باہمی تنازعات ختم ہوجائیں۔ یہ عناصر کشمیر جیسے معاملات پر اپنی سیاسی بھٹی گرم کرتے ہیں، جس میں دونوں جانب کے عام لوگ ایندھن کے بدلے استعمال ہوتے ہیں۔

مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے کہ جب کشمیر کے اِس حصے میں گورنر ایس کے سنہاءتھے، میں یہاں آیا ہوا تھا اور ان سے ملنے کی کوشش کی ، ان دنوں دونوں جانب سی بی ایمز کا خوب چرچہ ہو رہا تھا۔ ملاقات کے دوران میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا یہ CBMsمحض زبانی جمع خرچ ہیں یا ان پر کوئی عمل بھی ہوگا، ان کا سیدھا سا جواب تھا کہ بات زیادہ مشکل بھی نہیں بشرطیکہ دونوں جانب سیاسی خواہش نیک نیتی پر مبنی ہو لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب یہ کام تھوڑ سا مشکل ہوگیا ہے ، کیونکہ اب یہ کام دونوں جانب کے ایسے عناصر کے ہاتھ میں آچکا ہے، جن کی پہنچ سوسائٹی میں کافی اوپر سے کافی نیچے تک ہے اور ان معاملات کے ساتھ ان کے اقتصادی و سیاسی مفادات جڑ چکے ہیں۔

مجھے یہ بات بہت پسند آئی کیونکہ تب تک میں بھی سمجھتا تھا کہ اس میں محض بین الاقوامی یا بیرونی عناصر اڑچنیں پیدا کر رہے ہیں لیکن مجھے پتہ چلا کہ معاملہ تو اندرونی اور نچلی سطح کا ہے۔الغرض بات گھوم پھر کے پھر وہیں پہنچتی ہے کہ اتنی ساری سازشوں اور خطرات کے باوجود دونوں نے CBMsپر عمل کیا اور بڑا فیصلہ لیتے ہوئے تجارتی راستے کھولے اور گاڑی بھی چلائی۔ حالانکہ محدود ہی سہی لیکن پہلے جہاں مجھے مظفر آباد سے اپنے گھر کرناہ پہنچنے کے لئے اسلام آباد، لاہور اور نئی دلی وغیرہ سے ہوتے ہوئے ایک ہفتہ لگ جاتا تھا لیکن ا ب میں چاہوں تو ٹیٹوال کے راستے اندر داخل ہو کر دو گھنٹوں میں اپنے آبائی وطن کرناہ پہنچ سکتا ہوں۔ دیکھا جائے تو یہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ ہی جڑا ہوا ایک بہت بڑا فیصلہ تھا، جس کو انجام تک پہنچانے کےلئے کافی جرا¿ت کی ضرورت تھی ، ہزاروں بچھڑے ہوئے، منقسم خاندان آپس میں مل رہے ہیں اور اس کا اثر بہر حال دونوں جانب قبول کیا جائے گا۔

Sahil Maqbool Manzoor Geelani (1)
سری نگر میں منظور حسین گیلانی اور ساحل مقبول محو گفتگو

سوال: اکثر جب ہم بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ ریاست جموں و کشمیر کے سبھی خطوں کا جھگڑا ہے، جبکہ اصل تحریک محض وادی  کشمیر میں ہی نظر آتی ہے، آپ کا کیا نظریہ ہے ؟

جواب: ریاست جموں وکشمیر پوری کی پوری ایک Disputedیا متنازعہ ریاست ہے اور اس حقیقت کو ساری دنیا مانتی ہے لیکن ساتھ ہی ہمیں کچھ زمینی صورت حال اور حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ خوش ہیں اور ا س میں کسی کو کوئی شک و شبہہ نہیں ہونا چاہیے۔ جب کہ جموں کے ڈوگروں اور لداخ کے بدھسٹوں کا جھکاﺅ بھی واضح طور پر بھارت کی جانب ہے، اس میں بھی کسی حقیقت پسند اور ذی شعور انسان کو کوئی شک نہیں ہوگا لیکن جہاں تک جھگڑے کا تعلق ہے، وہ سمٹ کر ویلی آف کشمیر تک محدود ہوچکا ہے، مثلاً مزاحمتی تحریک یہاں ہے، قیادت یہاں ہے، جلسہ و جلوس یہاں ہوتا ہے اور گولی چلتی ہے تو یہاں کا انسان مرتا ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جھگڑا جو ساری ریاست کا ہے، وہ سمٹ کر اگرچہ وادی تک محدود ہو چکا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جھگڑا بالکل ہے ہی نہیں بلکہ آج یہ جھگڑا پہلے سے زیادہ واضح، نمایاں اورحساس بن چکا ہے اور جب تک اس کے سبھی فریقین کے ساتھ ایک آزادانہ اور مخلصانہ طریقے سے بیٹھ کر آپ بات نہیں کرتے، یہ ختم نہیں ہوسکے گا۔ ہم سب کو مل کر یعنی جو لوگ اس سے متاثر ہورہے، جو لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں اور جن لوگوں کا کاروبار اس کی وجہ سے جما ہوا ہے یا متاثر ہو رہا ہے، ان سبھی کو مل بیٹھ کر اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگااور اسے حل کرناہوگا۔

ہمارے سامنے برلن اور یو ایس ایس آر کی مثالیں موجود ہیں، جب عوام جلال میں آگئے تو انہوں نے راتوں رات ان ممالک کا جغرافیائی نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اس وقت آذر بائیجان کی GDP/capitaسولہ ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ ممالک ابھی1991ءمیں آزاد ہوئے ہیں اور اُس وقت ان کی یہ شرح محض چار ہزار ڈالر تھی یعنی ان ریاستوں نے آزاد ہونے کے بعد تین گنا زیادہ ترقی کی۔ یہاں تو بھارت اور پاکستان کے نام سے محض دو الگ ملک بنے، وسطی ایشیا میں روس کے تسلط سے آزاد ہونے کے بعد 13نئے اور چھوٹے چھوٹے ممالک وجود میں آئے ، جو متحدہ ریاست ہائے روس کا حصہ تھے، آج وہاں ویزا فری ہے، آپ کی مرضی، جس ملک میں چاہیں، جا سکتے ہیں۔ اگر وہ مل جل کر نا قابلِ یقین حد تک ترقی کررہے ہیں تو بھارت اور پاکستان کیوں ایسا نہیں کرسکتے ؟حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ ایسا کرنا نہیں چاہتے یا دونوں کی ایسی خواہش نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بھارت کا آئین اس قدر وسیع ہے کہ اس میںمسائل کے حل کے لیے کئی طرح کے میکانزم بھی مرتب کیے گئے ہیں یعنی ا س میںملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات اور مسائل کے حل کی اچھی خاصی گنجائش موجود ہے، میں نے اس کو کئی بار اور بڑی دلچسپی کے ساتھ پڑھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کے بہت کم ملکی آئین ایسے ہیں، جن میں اس طرح کی کوئی گنجائش موجود ہے۔

مثلاً اگر ہم آرٹیکل 370سے لے کر آرٹیکل 371-Jتک کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بھارت میں ایسی گیارہ ریاستیں ہیں، جن کے بارے میں یہ گنجائش موجود ہے کہ اگر ان کے حوالے سے کوئی اندرونی تنازعہ پیدا ہو جائے تو اس کا آئین کی حدود میں کیسے حل نکالا جاسکتا ہے۔، اسی طرح سے آئین کی دفعہ51کی رو سے بھارت پر لازمی بن جاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات کو قائم کرنے اور ان کو سدھارنے میں اپنا فعال رول ادا کرے۔

ان دفعات کی ترمیم بھی ہوتی رہتی ہے اور اب تک بھارتی آئین کی97مرتبہ ترمیم ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ اس میں بین الاقوامی ثالثی کی بھی گنجائش موجود ہے کہ اگر دونوں ملک کسی ایک نکتے پر متفق نہ ہوسکیں تو وہ کسی بین الاقوامی ادارے یا ملک کی ثالثی پر اعتبار کرتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آئین و قانون میںکوئی ملک تبھی کوئی گنجائش موجود رکھتا ہے جب وہاں کا نظام اور ذہنیت بھی اس کو قبول کرتی ہو اور یہ سب بھارت اور پاکستان میں ہی دیکھنے کا ملتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسی چیز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی نرسمہا راﺅ نے کہا تھا کہ sky is the limit۔ اُدھر سرحد کی دوسری جانب پاکستان کے آئین کی دفعہ40کے تحت بین الاقوامی ثالثی کی گنجائش موجود ہے ۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان کئی ایک معاہدے اور سی بی ایمز پر دستخط ہوئے ہیں ، اگر انہی کو سامنے رکھ کر پر خلوص کوششیں کی جائیں تو مجھے نہیں لگتا کہ دونوں کے لئے کوئی مسئلہ اتنا دشوار ہوگا۔

سوال: پاکستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کو اپنا بنیادی موقف مانتا ہے لیکن ان قرار دادوں میں لکھا ہے کہ ریاست میں ’رائے شماری‘ کرانے سے قبل پاکستان کو اپنی افواج ریاست کے اُس حصے سے واپس بلانی ہوں گی، جو 15اگست1947ءکو اس کا حصہ نہیں تھا، اگر ایسا موقعہ آتا ہے تو کیا پاکستان اپنی افواج ’آزاد کشمیر‘ سے واپس بلا لےنے کی پوزیشن میں ہے ؟

جواب: بالکل ہے اور مجھے اس میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی۔ اگر پاکستان ایسا کہتا ہے تو وہ یہ بات دل سے کہتا ہے اور اس کواس کے سبھی لوازمات کا احساس بھی ہے۔ حالانکہ قرار دادوں میں درج ہے کہ رائے شماری کے وقت دونوں ممالک امن و قانون کی صورت حال قائم رکھنے کے لئے علاقے میں کم سے کم افواج موجود رکھیں گے اور جب اس اصول کے تحت انڈیا جموں و کشمیر سے باہر نکلنا شروع کرے گا تو پاکستان کے لئے کیا چارہ ¿ کار باقی رہ جائے گا ؟ پاکستان نے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کے اُس حصے کو، جس میں ’آزاد کشمیر‘ کے علاوہ گلگت بلتستان کا علاقہ بھی شامل ہے، اپنے ملک میں شامل نہیں کیا ہے اور وہ اس سارے علاقے کو ریاست جموں و کشمیر کا آزاد علاقہ تصور کرتا ہے ، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پاکستان یہ بات جانتا اور مانتا ہے کہ جب اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بات آئے گی ، وہ ان کے حوالے سے ضروری لوازمات پوری کرے گا اور اس علاقے کا اپنے ملک میں شامل نہ کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اس صورت میں ہمیں وہاں سے اپنی افواج باہر نکالنے میں کوئی دشواری بھی پیش نہیں آئے گی۔

سوال: پاکستان اور چین کے درمیان جاری ’سی پیک منصوبہ‘ اور چین پاکستان ، روس دوستی کے تناظر میں کیا بھارت اس خطے میں کسی طرح کے دباﺅ میں ہے ؟

جواب: مجھے نہیں لگتا کہ بھارت دباﺅ میں ہے یا اسے اس حوالے سے کسی قسم کا دباﺅ تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ سی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے، جس سے محض چین اور پاکستان ہی نہیں بلکہ خود بھارت بھی مستفید ہوگا اور اس کے لئے اُسے با ضابطہ دعوت بھی دی جا چکی ہے کہ وہ اس منصوبے میں شامل ہوجائے۔

دوسری اہم بات یہ کہ سی پیک کوئی سیاسی منصوبہ نہیں ، جس میں کسی ملک کو باہر رکھنے سے اس کا نقصان ہوسکتا ہے بلکہ یہ کلی طور پر ایک اقتصادی منصوبہ ہے، جس کے ساتھ اس خطے کی تجارت وابستہ ہے ، اس پروجیکٹ میں تھرمل اور ہائیڈو پاﺅر کے علاوہ مینو فیکچرنگ ، روڈس اور تجارت کے باقی شعبے شامل ہیں، اس لئے تجارتی منڈی میں جس قدر زیادہ تاجر اورگاہک شامل ہوتے ہیں، اسی قدر یہ بہتر ہوتا ہے ،اس لئے بھارت کے اس سے الگ رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ دوسری بات یہ کہ یہ محض چین اور پاکستان کا ہی پروجیکٹ نہیں اگر آپ دوسری جانب دیکھیں تو مشرقی راستے سے چین ، تبت، برما اور بنگلہ دیش کے راستے ، بھارت کو جوڑتے ہوئے ایک اور بین الاقوامی گلیارہ یورپ تک نکل جاتا ہے۔

سوال: ابھرتی ہوئی عالمی سیاسی و اقتصادی صورت حال کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے حل کی کتنی امید بنتی ہے ؟

جواب: اول بات تو یہ ہے کہ خود بھارت کے آئین کے مطابق مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ تنازعہ ہے، یعنی بھارت خود مانتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کسی نہ کسی طریقے سے حل کرنا ہے اور یہاں کے مرکزی و سیاسی قائدین بھی اس بات کو مانتے ہیں اور اس کا بار ہا اظہار بھی کرتے ہیں، دوسری بات یہ کہ بھارت خود اس مسئلہ کو لے کر یو این میں گیا ہے اور وہاں اس حوالے سے باضابطہ بین الاقوامی ضمانت موجود ہے ،

تیسری بات یہ کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد معاہدے اور سی بی ایمز بھی ہوئے ہیں ،جن کو انٹرنیشنل گارنٹی حاصل ہے۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی توجہ کا تعلق ہے، میں کہوں گا کہ دنیا کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں ،جو اس کو کسی نہ کسی طرح سے ایک تنازعہ تسلیم نہیں کرتا ، بہت سارے ممالک کھلم کھلا کہتے ہیں کہ اس مسئلہ کو یو این او کی قرار دادوں کے تحت حل کیا جائے۔ اس تناظر میں جبکہ یہ ایک مسلمہ مسئلہ ہے تو اس کو کسی بھی حالت میں حل کرنا ہوگا، یہ بات دیگر ہے کہ کب اور کیسے ؟ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس سے مفر ممکن نہیں، یہ بیرونی بات ہوئی لیکن جہاں تک اندرونی بات کا تعلق ہے تو خود بھارت کی اعلیٰ و ادنی سیاسی قیادت بھی اس بات کو مانتی ہے کہ مسئلہ کشمیر موجود ہے اور حل طلب ہے ، اس لئے بھی ہمارا کیس مضبوط ہے ،

تیسری بات یہ کہ اگر حریت پسند یا مزاحمتی قیادت کو بھی اس سے باہر رکھ دیا جائے تو جتنی بھی مین اسٹریم کشمیری سیاسی جماعتیں ہیں ، وہ بھی اس کو حل طلب مسئلہ مانتی ہیں بلکہ بعض ایک کے پاس اس حوالے سے روڈ میپ اور فارمولے بھی ہیں، اس لئے آپ کتنے لوگوں کو اور کب تک نظر انداز کریں گے۔دونوں ممالک کو اسی علاقے میں رہنا ہے اور مل جل کر رہنا ہے، وہ کسی بھی طور پر بدلتے ہوئے عالمی حالات سے نہیں بچ سکتے اور اس ساری صورت حال کے درمیان صرف اور صرف مسئلہ کشمیر حائل ہے۔

سوال: کشمیر کی حریت پسند قیادت سے اگر کہا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل لے کر سامنے آئے اور کسی ایک قائد کا اس حوالے سے مذاکرات کے لئے انتخاب کرے آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ پروگرام کیا ہوگا اور اس کو لے کر جانے والا قائد کون ہوگا۔ ؟

جواب: آپ مجھے مخمصے میں ڈال رہے ہیں سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ میں ریاست کے جس حصے سے تعلق رکھتا ہوں، وہاں کوئی تحریک یا مزاحمت موجودنہیں ہے لیکن جس حصے میں تحریک ہے، میں وہ اس کی صورت حال کو مختلف انداز سے دیکھتا ہوں۔کشمیر میں بھارت کی قومی سطح کی سبھی سیاسی جماعتیں موجود ہیں، یہاں ریاستی لیول کی جماعتیں ہیں ، جو باضابطہ انڈین الیکشن میں حصہ لیتی ہیں اور باری باری اقتدار میں آتی رہتی ہیںاور ان سبھی قسم کی جماعتوں میں سے کوئی ایسی جماعت نہیں ہے، جو مسئلہ کشمیر کے وجود سے منکر ہو۔ ہاں، ان کے راستے اور طریقے مختلف ہوسکتے ہیں لیکن مرکزی نکتے پر سبھی کا اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کو حل کرنا ہے، یہاں تک کہ کانگریس اگر دفعہ370کو موجود رکھنے اور مضبوط بنانے کے حق میں ہے تو بی جے’ ٹرائی فرکیشن‘ کی بات کہتی ہے۔ اس طرح سے ایک نہ ایک دن ان سبھی نظریات رکھنے والی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا اور کسی نہ کسی مرکزی نکتے پر متفق ہونا پڑے گا اور وہی اس مسئلہ کا حل بھی ہوگا،

اس طرح سے مزاحمتی قیاد ت کہیں یا حریت کہیں، اس کا بھی ایک رول ہے اور وہ اس کو اپنے انداز میںادا کر رہی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر حریت والے بھی اس حوالے سے آرٹیکل370کے تحت بھارت کے ساتھ بات کرتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ آرٹیکل بھارت اور کشمیر کے درمیان تعلقات کے پل کی حیثیت رکھتا ہے ، اس پل کی بنیاد مہاراجہ کا وہ الحاق نامہ ہے ، جس میں صاف کہا گیا ہے کہ بھارت کو ریاست میں صرف تین چیزوں ( کرنسی، دفاع اور مواصلات) پر مشروط اختیار دیا جاتا ہے اور اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ جیسے ہی یہاں کے حالات ٹھیک ہوجائیں گے، یہاں کے عوام سے ان کی رائے طلب کرکے یہاں استصواب رائے کروایا جائے گا، اس لئے میرے حساب سے جتنی مضبوط بنیاد دفعہ370فراہم کرتا ہے، اس میں گھبرانے یا شرمانے والی کوئی بات نہیں اور حریت پسند قیادت چاہے تو اسی کو بنیاد بنا کر اپنا دعویٰ پیش کر سکتی ہے۔اگر حریت قیادت دفعہ135-Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو چند قدم آگے نکل کر دفعہ370کے تحت بھارت کے ساتھ بات کرنے میں کیا حرج ہے ؟ دوسری طرف جہاں تک پاکستان کی رائے عامہ کا تعلق ہے، مجھے لگتا ہے کہ اگر حکومت بالائی سطح پر کسی فیصلے پر متفق ہوجاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں بنتی کہ عوام یا باقی سیاسی قیادت اس کو تسلیم نہ کرے کیونکہ سرکاریں جب بھی کوئی فیصلہ لیتی ہیں تو سارے پہلوﺅں کو نظر میں رکھ کر لیتی ہیں اور عوام کو ایسے فیصلے تسلیم ہی کرنا پڑتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں