باعث افتخار/ انجینئر افتخار چودھری

11

نون لیگیے چھیڑخانیوں سےبازآجائیں

ایسے میں لوگ جب نون لیگیوں کی حرکتیں دیکھتے ہیں تو ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے بندر کے ہاتھ استرا اور باندر پستولیاں شروع ہیں باندر پستولی ہے کہا کہتے ہیں ایک حوالدار اپنا ریوالور رکھ کر سو گیا اتنے میں ایک بندر آیا اور اس نے آ کر ادھر ادھر فائر مارنے شروع کر دئے کسی کے پائوں کسی کی ٹانگوں کے درمیان نتیجہ کیا نکلا حوالدار نے دیوار سے لٹکتی رائفل اٹھا کر ٹھاس کر دی اور باندر ٹھس ہو گئے۔

زنگی بنگی خان پی ٹی آئی میں نیا نام پنڈی میں رہتے ہیں آئے ظاہر ہے فاٹا یا پختونخوا سے ہیں ان کی جانب سے پی ٹی آئی کے دوستوں کے اعزاز میں تقریب تھی۔اس قسم کی محفلوں میں کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھا جا سکتا وقت تھوڑا ہوتا ہے اور جی چاہتا ہے سب سے ملا جائے۔ برادر نعیم الحق اور عامر کیا نی مہمان خصوصی تھے ایک میز پر بیٹھا تو ہر دم مسکرانے والے جاوید قریشی ہمارے ایبٹ آباد کے دوست اور جازی خان ایم پی اے سے گپ شپ رہی دوستوں کا خیال تھا کہ الیکشن نہیں ہو رہے بھٹی صاحب ایک زیرک جوان ہیں ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ویکشن بھول جائیں اگلی حکومت کے وزیر اعظم اپنے بندے ہیں اللہ اللہ خیر صلہ۔بھٹی جانے یا اللہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ جمہوری عمل کو چلتے رہنا چاہئے۔یہ نہ ہو کیک سارا ہی ریچھ لے جائے اور جیو کی نوشین یوسف والی بات سچی ہو جائے جب میں ۲۸ جولائی کو سپریم کورٹ میں فیصلے کے بعد واپس آ رہا تھا تو نوشین جو جیو میں ہے اس نے کہا سر افتخار زیادہ خوش نہ ہوئیے کل روئیں گے نوشین ۲۰۰۷ سے صحافت میں ہے بیٹیوں جیسی ہے میں نے کہا بیٹا شادی (خوشی) کے وقت خوش ہونا چاہئے اور خدا نخواستہ غمی کا وقت آ جائے تو سوگوار بھی۔پتہ نہیں سوگواری کا وقت قریب ہے سیاسی اور جمہوری قوتوں کو کوئی ٹھکانے نہ لگا جائے ۔

ویسےتوغصے میں آکر میں لکھ بھی چکا ہوں کہ ان حالات میں مارشل لاء لگا تو دس کلو چم چم میری جانب سے لیکن سچ پوچھئے رواں رواں کانپ اٹھتا ہے مارشل لاء تو اب روانڈا میں بھی نہیں ہے۔ اور ہم تو رگڑا کھا بھی چکے ہیں۔نوشین پاس ہو تو اسے کہوں ان کاٹھ کے لیگیوں کو یہ تو بتائیں کہ فوج سے الٹے سیدھے پنگے نہ لیں اس نے سینگوں پر دھر لیا تو الحفیظ اور الاماں کہنے کے بغیر چارہ بھی نہیں ہو گا آج ویسے بھی بارہ اکتوبر ہے اسی روز جناب نواز شریف کی حکومت کو رخصت کیا گیا تھا۔ایک صاحب ہیں بڑے محترم اور مہربان میں نواز شریف کا ساتھ دیتے ہیں میں ان کے اخبار کا نمائیندہ تھا(خبریں نہیں تھا) یہ کوئی جدہ میں دو بجے کا وقت تھا میں نے کہا سر مارشل لاء لگ گیا ہے لگتا ہے موصوف دس سال کے لئے آ گئے ہیں کہنے لگے ہمیں کیا اعتراض ہے بے شک آئیں ان کی محتاط گفتگو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ موصوف اپنے معاملات میرے اس فون سے سیدھے کر رہے ہیں۔ میں نے بھی آٹھ ریال پر منٹ والے فون کو بند کرنے میں عافیت سمجھی ویسے تو مجھے اس وقت علم ہو گیا تھا جب میاں نواز شریف آخری پھیرہ لگا کے گئے تھے اور جدہ میں کیپٹن صفدر مریم نواز اور ان کی فیملی بشمول ارشد خان مرحوم پہنچ گئے تھے ارشد خان کمال کا دوست تھا بارہ منگے کا تھا اس سے دوستی اس لئے تھی کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے مرحوم بارک اللہ خان کا کزن تھا جن سے یاد اللہ تھی۔

وہی ہوا جس کا ڈر تھا میاں صاحب نے ایک کمال کام یہ کیا کہ وہ اس دورے میں سعودی عرب،ابو ظہبی اور واشنگٹن کا دورہ کر گئے جہاں کے حکمرانوں سے اندرونی معاملات طے کئے ہمیں اس وقت تو علم نہیں تھا کہ کیا طے ہوا مگر جب میاں نواز شریف جدہ پہنچے تو جان گئے کہ معاملات پہلے سے طے تھے۔خیر یہ ان کے اپنے مسائل تھے مگر بارہ اکتوبر کے روز جو کچھ ہوا اسے کسی طور بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب یہ بھی تو دیکھئے کہ اس روز لاہور کیا پورے پاکستان میں خوشیاں منائی گئیں اور مٹھائی کی دکانوں پر ہجوم اتنا تھا کہ دکانیں خالی ہو گئیں۔یہی چیز ۵ جولائی ۱۹۷۷ کو ہوئی ۔اس زمانے میں بھٹو نے شدت جذبات میں کہہ دیا کہ ہاں تھوڑی سی شراب پیتا ہوں کیا کروں بہت کام کرنا ہوتا ہے مولویوں کی طرح حلوہ نہیں کھاتا۔ موصوف کو یہ علم نہیں تھا کہ قوم کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گی۔یہ وہی بھٹو تھے جنہوں نے شراب پر پابندی جمعے کی چھٹی قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا تھا مگر قوم ان کے سات سالہ اقتتدار میں دھکے کھا چکی تھی۔گھر کا ہر فرد مصروف ہو گیا تھا کوئی آٹے کی لائین پر کوئی چینی کی تلاش میں میں لاہور پڑھتا تھا پانچ کلو گھی کا ڈبہ پرانے ریلوے اسٹیشن سے باغبانپورہ گھر کندھے پر اس شان سے اٹھا کر جا رہا تھا کہ لوگ دیکھ لیں گھی ہے میرے پاس اور واقعی راستے میں گھنٹہ گھر چوک گھوڑیوں والی حوضی پر کئیوں نے پوچھا باؤجی کتھوں آندا جئے۔یہ تو ۱۹۷۷ کے حالات اور جس دن بھٹو صاحب گئے لوگوں نے دیگیں پکائیں گجرانوالہ ویسے ہی قومی اتحاد والوں کا شہر تھا پورے شہر میں نو ستارے چھا گئے تھے۔

ہم جمیعت کے لڑکے بھی تحریک نظام مصطفی میں شریک ہو گئے میں تو غلام دستگیر خان کے جلسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا سٹیج سیکرٹری بھی بنا اور تقریریں بھی۔قوم فراڈو انتحابات کے بعد سڑکوں پر تھی قومی اتحاد نے پنجاب کے شہروں میں دھوم مچا دی تھی۔ہل نشان تھا اور ایک مقبول نعرہ بن گیا تھا ہل چلے گا ہل چلے گا۔مزے کی بات ہے شہر کے علماء کشمیر محل سینما کی چھت پر اجتماعات میں شریک ہوا کرتے بھٹو صاحب نے حاجی ابراہیم بلیک کا بھی ذکر کیا انہوں نے لکھا کہ کوئی حاجی بلیک ہے جو جھنڈوں کے لئے کپڑا دیتا ہے یہ حاجی ابراہیم انصاری تھے جو موجودہ وزیر عثمان ابراہیم کے والد۔ اللہ غریق رحمت کرے آمین۔ مارشل لاء ایسے ہی لگتے اس کے پیچھے جمہوری حکمرانوں کی ہمالائی غلطیاں ہوتی ہیں نئی نسل کو کسی نے بتایا ہی نہیں کہ بھٹو ایک فاشسٹ تھا نہ وہ سوشلسٹ تھا نہ کوئی دائیں بازو کا لیڈر اس نے قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا طالب علم کو استاد سے اور بس والوں سے کارخانہ داروں کو کے گلے پر مزدور کا ہاتھ جا بیٹھا ہاری مالک کے ساتھ لڑ پڑا ایک انارکی سی انارکی تھی ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ بھٹو کیا تھا میں اسے کہوں گا بھٹو مفاد پرست تھا اس نے قوم کے سامنے ڈکڈگی بجائی اور قوم پاگل ہو گئی۔اور مزید سچ یہ ہے کہ ستر کے انتحابات کے نتائیج کو تسلیم کیا جاتا تو کبھی پاکستان نہ ٹوٹتا اسے نہ مانوں نے توڑا اس نے کیا کیا ظلم نہ ڈھائے مساوات اخبار کی سرخی آج بھی یاد ہے جس میں ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا تھا۔

وہ بات بھی کوئی نہیں بتاتا جب یحی خان نے ڈھاکہ میں اجلاس طلب کیا تو بھٹو نے کہا تھا جو کوئی جائے گا اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا۔بھٹو ٹانگیں توڑ بھی دیتا اس نے اپنی پارٹی کے بانی رکن جے اے رحیم کو ایک تقریب میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔بھٹو کا یہ رخ بتانے والے مک مکا میں پھنسے ہوئے ہیں الطاف قریشی بوڑھے ہو گئے ہیں۔ایک مرد مجاہد ضیاء شاہد ہیں جو راہنمائی کر رہے ہیں۔اس قوم کے ساتھ بھٹو ولی خان نے جو کچھ کیا وہ ان پاکستانی نوجوانوں کی امانت ہے انہیں بتایا جانا چاہئے ۔اس دن ٹی وی پر مباحثے میں عدالتی قتل کی بات ہوئی اور کہا گیا کہ وہ فیصلہ نہیں قتل تھا میں نے جواب میں کہا ہر شخص کے لئے اس فیصلے کے اپنے اپنے پہلو ہیں بھٹو کی فیملی اور چاہنے والوں کے لئے واقعی وہ فیصلہ عدالتی قتل تھا مگر احمد رضا قصوری کے لئے صیح اسی طرح میاں طفیل جاوید ہاشمی ڈاکتر غلام حسین شورش کاشمیری ملک سلیمان انجینئر افتخار چودھری مولوی شمس الدین کو فیصلہ ٹھیک لگا۔بد قسمتی یہ ہے کہ حکمران خدا بننے کی کوشش میں انتہائی ظالم خدائوں کو مسلط کر دیتے ہیں جن کے سینے میں دل نہیں پتھر ہوتا ہے۔

ضیاء الحق کے مارشل لاء میں معمولی واقعات پر کڑکی لگا کر کوڑے مارے گئے لوگوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا مجھے یاد ہے مرحوم جہانگیر بدر کے پاس میرے ایک عزیز نے جانا تھا ان کے پاس گاڑی نہ تھی مجھے ساتھ لے گئے یقین جانئے ہم بدر صاحب کے مسلم ٹائون والے گھر میں چھپ چھپ کر گئے بھائی امین مرحوم سے جہانگیر بدر ایک ایک کارکن کی خیریت دریافت کرتے رہے اور میں پاس بیٹھ کر سوچتا رہا اس لئے حلوے کی دیگیں پکی تھیں روئیں تو آنسو خشک اور چپ رہیں تو اندر کا باغی مارتا ہے۔یقین کیجئے اس قوم کو نہ جمہوریت راس آئی اور نہ آمریت۔ضمہوری لوگ آمر بننے کے چکر میں لگے رہے اور آمر جمہوری۔پریشر ککر کی سیٹی خراب ہو جائے تو وہ پھٹتا ہے بھٹو کے پیچھے بھی لوگ لگے ہوئے تھے وہ گئے اور عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئے اور ضیاء کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔شامت اعمال سیکھتا کوئی بھی نہیں کرسی کے اس کھیل میں پنڈی اور منتحب حکومتیں مصروف رہیں اور مارا گیا غریب۔چیزوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں نوٹ چھپتے رہے۔ضیاء دور میں جب سعودی عرب گیا تو پاکستانی روپیہ ریال کے مقابلے میں پونے تین تھا اور اب اٹھائیس کے قریب ہے بنگلہ دیشی ٹکہ اس وقت بارہ کا تھا ہم بنگالیوں کا مذاق اڑاتے تھے۔

جاوید قریشی،ساجد ،بھٹی ،جازی خان کے ساتھ کھانے کھاتے سوچتا رہا کہ کیا پاکستان کو کوئی خالص چیز نہیں مل سکتی بلکل خالص جمہوریت جس کے ذریعے ملک ملا۔ہماری سب سے بڑی بدقسمتی یہہے کہ جو کچھ بھی ملا خالص نہیں ملا۔اب تو حالات اس قدر خراب ہیں کہ حکمران عدلیہ کے فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہیں ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ نون لیگ اپوزیشن میں ہے اور فوج اقتتدار میں۔قوم کی حالت یہ ہے کہ اب واقعی تھیلا بھر نوٹ لے جاتے ہیں اور مٹھی میں آٹا آتا ہے۔ٹماٹر ایک مذاق بن گیا ہے سبزیاں آسمانوں پر گوشت تو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔ہر کوئی پنگے لیتا ہے ہر کوئی فوج کو اکساتا ہے۔کہ کر لو جو کچھ کرنا ہے۔ایک صاحب اس دن ٹاک شو پر کہہ رہے تھے کہ فوج کون سی مقدس گائے ہے جس پر تنقید نہیں ہو سکتی ٹھیک ہے جناب کر لیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ مقدس تو یہ نہیں ہے مگر آپ جس قسم کی غلیظ اور اوچھی حرکتیں کر رہے ہیں اس سے ہزار درجے بہتر ہے۔قوم جائے تو جائے کہاں بارہ اکتوبر والے دن سر پیٹنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے ۔اگر کسی نے ٹیکنو کریٹس کی حکومت کا ڈول ڈالا تو نون والو پچھتائو گے۔اللہ کرے جمہوریت چلتی رہے اور قوم ۲۰۱۸ میں انتحابات میں جائے۔کسی نے کہا ہے کہ اگر جمہوریت اچھی نہیں تو کیا کرنا چاہئے۔بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ نون لیگئے چھیڑ خانیوں سے باز آ جائیں جائیں۔
اسے جواب ملا مزید جمہوریت۔