قمرکےقلم سے/ قمرالحق قمر

18

گھرکی رونقیں اورہاسٹل لائف

زندگی کے انتہائی کٹھن اور نازک موڑ میں گھر کو چھوڑنا اور پھر اپنے انتہائی عزیز واقارب سے جن کو بھلانا شائد کہ مُجھ جیسے شخص کے لئے ناممکن ہو اور پھر ایسی حالت میں ہوم لائف سے اچانک ہی ہاسٹل لائف کا رُخ کرنا۔ لیکن آغازِ سفر اور دُکھ درد۔ اور پھر حاضر کی مشکلات سہنا میرے بس میں تو نہ تھا لیکن آہستہ آہستہ ان مشکلات سے جب جب واستہ پڑنے لگا ۔ دُکھ درد جھیلے۔ مصیبتیں اُٹھائیں۔ حالاتِ ناقص کا بہ طریقہِ احسن سامنا کیا ۔ زمانے کے بدلتے رنگوں نے آخر مُجھ کو بے حسی کی نیند سُلا ہی دیا ۔ اب نہ اپنی فکر اور نہ ہی اپنے کسی اور کی فکر۔بس جیسے مُردہ اور بے روح جان ایک چلتے پھرتے کھوکھلے مجسمے کی طرح ان جان سا بن کے اس دنیا میں رہ گیا باقی میرے وجود کا میری حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ دیدہ ور چشم بھی میرے سامنے میری زندگی کو میرے لئے آسان بناناتوکیا اور بھی نازک بنا گئی۔

ایک تو پہلی مرتبہ گھر کی رونقوں سے باہر دنیائے حقیقت میں اچانک سے آکے سما نا اور شائد ہی کہ ایک نازک موڑ پہ ایسی حالت میں اپنا سب کچھ چھوڑنا میرے بس کی بات نہ تھی لیکن کچھ پانے کے لئے کچھ تو کھو نا پڑا۔ پھر اچانک سے آ کر ایک ویران جو کہ صرف میرے جیسوں کے لئے تھا اس میں قدم جمانا اور اپنی حالتِ زار پر خود ہی تعجب کرنا میرا معمول بن چکا تھا ۔اور اس کے بعد ہاسٹل لائف کا رُخ کرنا ۔ آج بھی جب ہاسٹل لائف کا ذکر کہیں میرے سامنے ہو تا ہے تو میں گھبرا سا جاتا ہوں ۔دل پہ اک لرزا سا طاری ہو جاتا ہے لیکن پھر سوچتا ہوں کہ کیا میں ہی اس طرح ایسی اکیلی ہی زندگی بسر کر رہا ہوں ۔کیا میرے ساتھ میرے دوسرے بھی تارکینِ وطن بھائی بھی تو ہیں ۔ آخر ان پہ کیا گُزرتی ہوتو دِ ل ایک لمحے کے لئے تسکین پاتا ہے۔ سب کچھ پھربھول جانا پڑتا ہے۔ میرے سب خیالات کی ترجمانی یہ نظم مسدسِ قمرکی صورت میں کچھ اس طرح کرتی ہے۔ کہ

گُزر ہوا ہاسٹل سے میرا کَل
یہی تو ہے وہ زندگانیِ حقیقی واصل
چلا جودیکھنے، رہا نہ دیکھنےکےقابل
کہ ہیں یہ شخصکس اہمیت کے حامل
پڑے تھے لاشوں کی طرح وہ کہیں
کہ آزمائش کی دنیا ہے یہ، یہیں
یہ ہیں ملت کے مُستقبل کے امیں
کہتے ہیں اقبال جن کو شاہیں
تھا میں گے بیڑا قوم کا یونہیں
ہو گی شاداب ان سے یہ سر زمیں
ہوئی مجھ کو حیرت انہیں دیکھ کر
کو ن ہے ان کا یاںشریکِ سفر
نصب ُ العین ان کا ہے محنت
کریں گے پھر قوم کی خدمت
بدل دیںگے ملک ک حالت
پائیں گے پھر ہی یہ لوگ راحت
یہی تو وہ ہیں جو ملت کے رکھوالے ہیں
آشفتہ حالی میں بھی خود کو سنبھالے ہیں
کوئی گھر کی رونقوں کو ترسے
بے خبر نہیں صبر کے اجرسے
بچاتے ہیں خود کو خدا کے قہرسے
مدتوں سے بنے ہیں رَہ گُزر سے
خدایا تو ان پہ مہر باں ہو جا
اے منزلِ مقصود تو بھی آساں ہوجا
کیا تھی ا ن کی حالت کیسے کروں بیاں
کہ اک شخص پڑا تھا یہاں، اک وہاں
تھا اک حیرت و تعجب کا سا سماں
کہ یہ لوگ ہیں عزت و محنت کے خواہاں
یہ زینت بنیں گے ملت کی بڑے ہو کر
پائیں گے دانے ہزار اک دانہ بو کر
لوٹتا ہے کوئی دن بھر کا تھکا ہوا
کوئی ہوتا ہے اپنے کام میں لگا ہوا
کہتا تھا کوئی کچھ ے میرے لئے پکا ہوا
کوئی اک ہوتا ہے رب کے آگے جھُکا ہوا
ان کی حا لت کس کو بتائیں قمرآہ!
آشفتہ حالی سے کیسے ان کو چھُڑائیں قمرآہ!