6

وزیر اعظم آزادکشمیر نے یورپی یونین کو جگا دیا

برسلز(سٹیٹ ویوز)وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی برادری خصوصاً عالمی برادری اور اقوام متحدہ ،یورپی یونین کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے قابض ہندوستانی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے مہذب اقوام سے مدد کے طلبگار ہیں یورپی یونین سے کشمیریوں کو بڑی توقعات وابستہ ہیںہم مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ لے کر آپ کے پاس آئے ہیں آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے طور پر جا کر تحقیقات کریں کہ وادی کے اندر جتنے مظالم ہندوستانی افواج ڈھا رہی ہے دنیا کے کسی خطے کے اندر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں ہو رہیںآزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں ہم آزادکشمیر میں آپ کو خوش آمدید کہیں گے لیکن مقبوضہ کشمیر بھی لازمی جائیں ہندوستانی مظالم روکنے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے یورپی اقوام سے مدد کی درخواست ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر کونسل یورپ کے زیر اہتمام کشمیر ای یو ویک کے سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا سیمینار سے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ،رکن برسلز پارلیمنٹ ڈاکٹر ظہور منظور ،یورپی یونین کے سابق سفیر انتھونی کرزنر،چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید اور کونسلر شازیہ منظور نے خطاب کیا سیمینار کا عنوان عالمی برادری اور جنوبی ایشیاءمیں انسانی حقوق کا تحفظ تھا جس کی نظامت کے فرائض یورپی یونین کے سابق سفیر انتھونی کرزنر نے انجام دیئے

وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ کشمیر ایک تسلیم شدہ عالمی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کو منصفانہ طور پر حل کرنے میں بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے یہ ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور عالمی برادری کو چاہیے کہمظلوم کشمیریوں کی آواز پر کان دھرے ،کم از کم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی راہ ہموار ہو سکے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں موجود ہیں لیکن افسوس ہے کہ اقوام عالم اس پر خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہے وزیراعظم نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے تاکہ ایک آزاد ماحول میں کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے

انہوں نے یورپی یونین اور کشمیر کے مابین تبادلوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یورپ کے لوگ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کشمیر کے دونوں حصوں کا دورہ کریں گے تو انہیں مسئلہ کشمیر سے آگاہی بھی ہو گی اور دونوں اطراف واضح فرق بھی ملے گا یورپین سکالرز بالخصوص نوجوان طلبہ و طالبات کشمیر کے اوپر تحقیق کریں وہاں تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیں اور دورہ بھی کریں تو انہیں پتہ چلے گا کہ ہندوستان کس قدر ظلم و بربریت سے کشمیریوں کی آواز کو کچل رہا ہے وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنی جگہ مگر بحیثیت کشمیری بھی ہماری اپنی جگہ پر ذمہ داریاں ہیں جنہیں پورا کرنا ہے اور اس حوالے سے تارکین وطن کا بنیادی کردار بنتا ہے وہ جہاں کہیں مقیم ہیں وہاں اپنی کمیونٹی کے اندر مسئلہ کشمیر کو انسانی نقطہ نظر کے تناظر میں اجاگر کرنے کے حوالے سے اپنا حصہ ڈالیں سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف بھارتی جرائم کی وجہ سے لوگوں کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور یہ جرائم بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں یہ انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے جس پر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے

سینئر وزیر نے کہا کہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر کوئی حل قابل قبول نہیں ہو گا انہوں نے یورپی یونین کو ایک بڑا اہم فورم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ای یو کو چاہیے کہ مسئلہ کشمیر پر اپنا موئثر کردار ادا کرے رکن برسلز پارلیمنٹ ڈاکٹر ظہور منظور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں لوگ مارے جا چکے ہیں ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں ،ہزاروں معزور ہیں ہزاروں جبری طور پر گمشدہ ہیں اور بے شمار لوگ پیلٹ گن سے آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ ان انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوایا جائے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیاجائے سیمینار کی میذبانی یورپی رکن پارلیمنٹ سجاد حیدر کریم نے کی چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں کشمیر کے دوستوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے دوست ممالک سے بھی بات کرنا ہو گی تاکہ انہیں بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جا سکے اوران مظالم کو رکوانے کے لیئے بھارت پر دباﺅ ڈالا جا سکے ان ممالک کو بتایا جائے کہ بھارت سات عشروں سے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے سے انکاری ہے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اجاگر کرنے کے لیئے ہمیں نئے جہتوں اور نت نئی طریقوں کو استعمال کرنا ہو گا انسانی حقوق سفارتی طریقے اپناتے ہوئے جدید رجحانات کے تحت دنیا کو اس جانب مبذول کرواتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالیاں رکوانے کے لیئے اپنا کرداد یاد دلانا ہو گا انہوں نے کہا کہ سات لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں بھارت طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی پر عمل پیرا ہے سیمینار میں انسانی حقوق کے کارکنان ،سول سوسائٹی ،صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔