Syed Zahid Hussain Naeemi

اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

21

شہداء منگ پونچھ 1832ء…احوال و آثار (حصہ دوئم/قسط دوئم)

تحریک بالا کوٹ
گزشتہ سطور میں ۱۸۳۲ء میں پونچھ میں تحریک آزادی کے محرکات اور پونچھ پر ڈوگروں کے حملے کے اسباب پر اظہار خیال کر چکے ہیں، ان سطور میں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کیا جہاد کشمیر کا تحریک بالا کوٹ سے کوئی تعلق تھایا کہ نہیں اور یہ کہ کیا سیّد احمد بریلوی نے کشمیر میں بالعموم اور پونچھ میں بالخصوص سدھنوتی منگ کا دورہ کیا تھایا کہ نہیں۔ تحریک بالاکوٹ کو تحریک المجاہدین یا تحریک جہاد بھی کہا جاتا ہے، اس تحریک کے روح رواں سیّد احمد بریلوی ہیں، آپ کے متعلق لکھا ہے، ’’ سیّد احمد شہید نومبر ۱۷۸۳ء میں رائے بریلی (یو۔پی بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ۱۸۱۰ء میں امیر خان کے ہاں سواروں میں بھرتی ہو گئے ، ۱۸۱۶ء تک سپہ گری کی، مسلمانوں میں ہندوانہ روسم و رواج بالکل پسند نہیں کرتے تھے، غیر اسلامی عقیدوں کو ختم کر دینا چاہتے تھے، ۳۰ جولائی ۱۸۲۲ء حج کے لیے رائے بریلی سے روانہ ہوئے، نومبر۱۸۲۲ء کلکتہ پہنچے، ۱۸۲۲ء کے آغاز میں جدہ روانہ ہوے، ۲۹ اپریل ۱۸۲۴ء کو وطن واپس پہنچے جنوری ۱۸۲۶ء میں جہاد کے سفر پر روانہ ہوئے، آپ کے ہمراہ قریباً چھ ہزار افراد تھے جو پنجاب اور سرحد میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی دلانے کی غرض سے جہاد کرنے گھر سے نکلے تھے، مجاہدوں کا یہ قافلہ گوالیار، اجمیر، سندھ اور افغانستان سے ہوتا ہوا پشاور داخل ہوا، کئی ایک معرکوں کے بعد ۱۸۳۰ء میں قریباً دوماہ تک پشاور سید احمد شہید کے ہاتھ رہا، ۶ مئی ۱۸۳۱ء کو بالاکوٹ کے مقام پر سکھ فوج نے مجاہدوں کو نرغے میں لے لیا ، ایک خون ریز لڑائی کے بعد سیّد احمد اورشاہ اسماعیل قریباً چھ سو مجاہدوں کے ساتھ شہید ہوگئے‘‘، (تاریخ برصغیر ۱۲۸، ۱۲۹،۱۳۰،۱۳۱)

سطور بالا میں سیّد احمد بریلوی کی سوانح اور تحریک کو جامع انداز میں پیش کیا گیا آئندہ سطور میں اسی کی بنیاد پر کچھ گزارش کریں گے ۔ بشیر سدوزئی کے موقف کا بھی جائزہ لیتے ہیں ، چنانچہ سدوزئی صاحب نے بھی اپنے مضمون میں لکھا ’’ سیّد احمد بریلوی ۱۸۲۶ء میں سرحد پہنچے ، لوگوں کو جہاد کے لیے تیار کیا، سوات کے قریب ایک چھوٹے سے گاوں سے پنجتار کو اپنا مرکز بناکر یہاں اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی مگر ان کی کوشش زیادہ عرصہ کامیاب نہ ہوئی، صرف ایک سال بعد ہی ان کو پنجتار چھوڑنا پڑا ، جہاد سے پرانا تعلق ہونے کی وجہ سے پونچھ اور پوٹھوہاری علاقوں کے عوام اور سرحد کے مسلمانوں کے ساتھ تعاون کی کوشش کی غرض سے کشمیر اور پونچھ کا سفر شروع کیااور ۱۲۲۵ھ مطابق ۱۸۳۰ء کو منگ کا دورہ کیا‘‘۔

مزید لکھا ہے ’’مظفرآباد کا دورہ بھی انہی دنوں میں ہی ممکن ہے پشاور سے منگ آتے ہوئے انہوں نے مظفرآبا د کا سفر اختیار کیاہو‘‘۔ (مضمون مورخہ ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۱ء روزنامہ اوصاف اسلام آباد) اس کے علاوہ بھی یہ لکھا کہ’’ شاید دورہ کا مقصد یہ تھا، کہ سدھن سرداروں سے تعاون حاصل کیا جا سکے ‘‘وغیرہ وغیرہ سدوزئی صاحب کو بھی شک ہے کہ شاید مقصد سدھن سرداروں سے تعاون حاصل کرنا تھا ، مظفرآباد سے پونچھ کے سفر کے لیے بھی شک کا اظہار کیا گیا، جبکہ اس کے برعکس سیّد احمد بریلوی کے سیر ت نگاروں اور مورخوں نے سفر ’’جہاد‘‘ کی تفصیل میں یہ لکھا ہے کہ’’ جمادی الثانیہ۱۲۴۱ء مطابق ۱۷ جنوری ۱۸۲۶ء یہ قافلہ رائے بریلی سے روانہ ہوا‘‘ (شہید بالاکوٹ‘‘۱۰۴، ’’علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘۱۸۴) یہ سفر مختلف راستوں ، پہاڑوں ، ریگستانوں ، صحرائوں سے ہوتا ہوا، رائے بریلی سے سرحد تک پورے دس ماہ میں مکمل ہوا‘‘۔ (شہید بالاکوٹ۱۱۲)

لیکن سیّد احمد بریلوی کا یہ قافلہ جب پنجتار پہنچا تو کیا فوری ہی جہاد شروع ہو گیا یا وہاں قیام فرمایا اور بعد میں شروع ہوا چنانچہ لکھا ہے ۔ قافلہ نے جیسے ہی اس آزا د مرکز پر پڑائو ڈالا ، سکھوں کی فوجوں سے تصادم شروع ہو گیا ، اب ہنگامی حالات میں ضبط قائم رکھنے نیز مفتوحہ علاقوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے باقاعدہ نظام حکومت کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔ ۱۰جنوری ۱۸۲۷ء (۱۲ جمادی الاخری ۱۲۴۲ئ) میں عارضی حکومت قائم کی گئی۔ سیّد احمد صاحب نے حلف لیا۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی ۱۹۰)’’ غلام رسول مہر کے نزدیک یہ بیعت جہاد کے لیے تھی، جبکہ سیّد محمد میاں کا خیال ہے کہ یہ حکومت کی قسم کا ایک نظام تھا جس کا حلف لیا گیا‘‘۔

’’حاشیہ علماء ہند کا شاندار ماضی‘‘صفحہ۱۹۰ دس ماہ تقریبا ایک سال کا سفر بھی یہ بتاتا ہے کہ یہ جہاد کا ہی حلف ہوا ہوگا اور ممکن ہے اس موقع پر حکومت کا اعلان بھی کیا گیا ہو اس طرح یہ ماننا پڑے گا، کہ سیّد احمد کا جہاد ’’۱۸۲۶ء میں نہیں بلکہ ۱۸۲۷ء میں شروع ہوا یا پھر ۱۸۲۶کا آخر اور ۱۸۲۷ء کا آغاز ہوگا، اس لحاظ سے بشیر سدوزئی کا موقف کمزور پڑ جاتا ہے ، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آغاز جہاد ۱۸۲۶ء میں ہی ہو گیا تھا تو بہرحا ل یہ ماننا پڑے گا، کہ سیّد احمد بریلوی نے عارضی حکومت ۱۸۲۷ء میں قائم کی تھی، جبکہ سیّد احمد بریلوی نے ۱۸۳۰ء میں پشاور پر قبضہ کر لیا اور پشاور میں حکومت قائم فرما کر اپنا سکّہ جاری کیا۔ (تاریخ برصغیر۱۳۰،۱۳۱)
مزید پڑھیں: شہداء منگ پونچھ 1832ء…..احوال و آثار(حصہ دوئم/ قسط اول)
سیّد احمد بریلوی کے سیر ت نگاروں اور مورخین کے مطابق ۱۸۲۶ء میں سفر جہاد رائے بریلی سے شروع ہوا، ۱۸۲۶ء یا ۱۸۲۷ء میں باضابطہ اسلامی ریاست قائم ہوئی ، جبکہ ۱۸۳۰ء میں حکومت کا قیام عمل میں لایا جا چکا تھا تو یہ سارادور افراتفری کا دور تھا، چناچہ لکھا ہے۔ ’’کہیں معرکوں کے بعد ۱۸۳۰ء میں دو ماہ تک پشاور سیّد احمد شہید کے ہاتھ میں رہا یہاں اُنہوںنے خودمختاری کا اعلان کر دیا اور اپنا سکّہ جاری کیا لیکن حالات اس رخ پر جا رہے تھے ،کہ انہیں جلد ہی پشاور سے روانہ ہونا پڑا‘‘۔ (تاریخ برصغیر۱۳۰)

۱۸۳۰ء میں سیّد احمد صاحب کو پشاور چھوڑنا پڑا ان کی اگلی منزل کیا تھی اور کس مقام کو مرکز بنا کر پھر سے ’’جہاد ‘‘کرنا چاہیے تھے۔ سیّد محمد میاں سے سنیے۔ ’’راز دانوں نے بتایاہے کہ سیّدصاحب کا ارادہ یہ تھا، کہ سندھ کو اپنا مرکز بنائیں گے‘‘ (علماء ہند کا شاندار ماضی ۲۲۲)

سیّدصاحب سندھ کو اپنا مرکز بنانا چاہتے تھے لیکن مولانا زاہد الراشدی کا موقف ہے، کہ نہیں وہ مظفرآباد کو اپنا مرکز بنانا چاہتے تھے (کالم مورخہ۱۹ جولائی) اور بشیر سدوزئی کا خیال ہے کہ شاید انہی دنوں میں انہوںنے مظفرآباد کا دورہ بھی کیا ہو(مضمون مورخہ ۱۰ اکتوبرروزنامہ اوصاف) سیّدصاحب سندھ کو مرکز بنانا چاہتے تھے لیکن اُنہوںنے سندھ کے بجائے بالا کوٹ کا رخ کیا۔ چنانچہ لکھا ہے، ’’بہرحال فتح پشاور سے تقریباً سولہ ماہ بعد اور عارضی حکومت قائم ہونے سے چار سال چار ماہ بعد جب ۱۲۴۶ھ میں آپ نے اس علاقہ سے کوچ کیا۔

خالصہ فوج ایک طر ف تو سیّد صاحب کا راستہ روکنے لگی مگر ان کو پے در پے شکست ہوتی رہی ، یہاں تک کہ مجاہدین کالشکر بالاکوٹ پہنچ گیا ، برف باری نے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی، یہی ایک محفوظ میدان منتخب کیا گیا اور جھونپڑیاں ڈال دی گئیں ‘‘۔ (علماء ہند کا شاندار ماضی جلد دوم ص۲۲۲)

سیّد صاحب نے بالاکوٹ کو کیوں مرکز بنایا اس کے متعلق لکھا ہے ،’’ چونکہ یہ ایک محفوظ مقام تھا ‘‘ سیّد صاحب اپنے مجاہدوں کی بہتر صف بندی کے لیے ایک محفوظ مقام ہی کے خواہش مند تھے۔ محمود الرحمن نے لکھا ہے ’’مسلمان سرداروں کی بے رخی سے بدل ہو کر سیّد احمد نے پشاور کا علاقہ چھوڑ دیا اور بالاکوٹ کو اپنا مرکز بنا لیا۔ یہ علاقہ شمال مغربی سرحد پر وادی کاغان کے جنوب میں واقع ہے، اونچے اونچے پہاڑوں سے گرا ہوا یہ مقام تین اطراف سے بالکل محفوظ تھا اس لیے ادھر سے بیرونی حملے کا خطرہ نہ تھا ، بقیہ راستے پر حفاظتی دستہ تعینات کر دیا گیا، البتہ اس وادی میں آنے کا ایک راستہ ایسا تھا، جو ناہموار اور جھاڑ جنکار سے محفوظ تھا، وہاں پر حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا، ویسے اس خفیہ راستے سے کوئی واقف نہ تھا ‘‘۔ (آزادی کے مجاہد حصّہ اوّل صفحہ نمبر۳۳)

سطور بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ سیّد احمد بریلوی نے جنگی حکمت عملی کے پیش نظر بالاکوٹ کو اپنا مرکز بنایا تھا، اس سے زاہد الراشدی صاحب کے اس موقف کی تائید نہیں ہوتی ہے کہ ’’ سیّد احمد بریلوی مجاہدین کی جماعت کے ساتھ (کشمیر)جا رہے تھے، راستہ میں اچانک سکھ افواج سے آمنا سامنا ہو گیا۔‘‘ اور نہ ہی بشیر سدوزئی صاحب کے موقف کی تائید ہوتی ہے ’’منگ سے مظفرآبادگئے تھے یا یہ کہ مظفرآباد سے منگ آئے تھے‘‘۔ اس لیے کہ بالاکوٹ میں ہی آخری معرکہ ہوا، سیّد احمد بریلوی اپنے ساتھیوں سمیت جان کی بازی ہار گئے۔

نذیر احمد تشنہ نے بھی سیّداحمد بریلوی کی تحریک کو تحریک آزادی کشمیر سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ دیکھئے ’’مسئلہ ریاست جمّوں و کشمیر صفحہ ۵۶تا۶۳‘‘۔لیکن خواجہ عبدالصمد وانی کے حوالے سے یہ بھی لکھ دیا، کہ بالاکوٹ کے معرکے میں تحریک مجاہدین کے قائدین کے جام شہادت نوش کرنے کے ایک سال بعد (۱۸۳۲ میں ریاست جمّوں و کشمیر میں ڈوگرہ راج کے آغاز سے ۱۴سال قبل ) ۔ ۔۔ سکھوں کی بالا دستی کے خلاف سردار شمس خان کی قیادت میں ہتھیار اٹھائے ، دو نامور سدھن سردار ، سردار ملّی خان اور سردار سبز علی خان اُن کے دست راست تھے ۔۔۔نے منگ اور پلندری کے مقام پر راجہ گلاب سنگھ اور اس کے بھائی راجہ دھیان سنگھ کی قیادت میں سکھ فوج کا مردانہ مقابلہ کیا ۔۔۔سدھن سرداروں سبزعلی خان اور ملّی خان اور اُن کے ۲۶ ساتھیوں کی زندہ کھالیں کھنچی گئیں۔ (صفحہ ۶۰۔۶۱)اس سے پوری طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ سیّداحمد بریلوی کی تحریک مجاہدین بالاکوٹ کا ۱۸۳۲ء کے معرکہ منگ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اور سردار سبز علی خان اور سردار ملّی خان کی تحریک، تحریک بالاکوٹ سے جدا تھی اور انہوں نے بعد میں جام شہادت نوش کیا۔ پھر کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ سیّداحمد بریلوی اور اُن کے ساتھی منگ پونچھ میں آئے تھے یا سردار ملّی خان اور سردار سبز علی خان بالا کوٹ گئے تھے۔