عمرفاروق /آگہی

28

مفتی محمود تاریخ سازشخصیت

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن غیرفعال متحدہ مجلس عمل کوبحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں اس حوالے سے گزشتہ روزایم ایم اے کااجلاس وفاقی وزیرہائوسنگ اکرم خان درانی کی رہائش گاہ پرمنعقدہوا جس میں غیرفعال متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی اورایم ایم اے بحالی کے لیے ایک سٹیرینگ کمیٹی قائم کردی گئی ہے اگلااجلاس 9 نومبر کو منصورہ لاہورمیں ہوگا ۔

مولانافضل الرحمن کی یہ خاصیت ہے کہ وہ بہترین نباض ہیں اورحالات کی نبض پرہاتھ رکھتے ہوئے قدم اٹھاتے ہیں یہ مولاناکاکمال ہے کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کاکرداراداکرتے ہیں اوراپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت کررہے ہوتے ہیں مولانانے تقریبا دس سال بعد ایک ایسے اتحادکوفعال اوربحال کرنے کابیڑہ اٹھایاہے کہ جب وفاقی حکومت مشکل میں پھنسی ہوئی ہے اوربھنورسے نکلنے کی کوششوںمیں مصروف ہے جبکہ مولانامستقبل کی سیاست کرتے ہوئے دینی جماعتوں کوایک پلیٹ فارم پرجمع کرنے میں کوشاں ہیں ۔دراصل مولانافضل الرحمن اپنے والدمفتی محمود کی سیاست کے امین ہیںجنھوں نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی اوراسی نظریاتی واصولی سیاست کانتیجہ تھا کہ مفتی محمود نے وزارت اعلی تک قربان کردی تھی ۔

مولانا مفتی محمود مئی 1972 میں صوبہ خیبرپختونخواہ (سرحد)کے وزیراعلی منتخب ہوئے،مفتی صاحب نے وزیراعلی سرحد بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی انہوںنے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور پہلی مرتبہ صوبہ سرحد میں شراب پر مکمل پابندی عائد کردی گئی مفتی محمود نے وزیراعلی سرحد کی حیثیت سے قرون اولی کے مصنف درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارت اعلی کے دور میں ایک دن بھی دفعہ144کا نہ لگنا ،جہیز پر پابندی ،سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلی ترین مثالیں ہیں۔جمعہ کی تعطیل کی سفارش اردو کو سرکاری زبان قرار دیناان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں جو فراموش نہیں کئے جاسکتے ۔

پاکستانی سیاست میں یہ روایت بھی پہلی مرتبہ مولانا نے قائم کی کہ جس اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوںنے بھی احتجاجا اپنی حکومت کا استعفی پیش کردیا۔جب1973 میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردیئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو مولانا مفتی محمود نے بھٹو کے اس اقدام پر نہایت جرات وبے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیراعلی کے عہدہ سے استعفی دے دیا ،ذوالفقارعلی بھٹو کو یہ خیال بھی نہ تھا کہ مولانا مفتی محمود استعفی دیںگے، انہوںنے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا ،آپ نے استعفی کیوں دیا؟آپ استعفی واپس لیں، مولانا نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایت کا تدارک کریں جو استعفی کا باعث بنی ہے بھٹو نے کئی دن تک ان کا استعفی منظور نہ کیا اور مولانا مفتی محمود صاحب کو استعفی واپس لینے پر مجبور کرتے رہے مگر انہوںنے اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں ایک روشن وتابندہ مثال قائم کی۔

انہوں نے اس بارے میں مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز مسترد کردی اور کہا کہ: ہم آئین کے پابند ہیں اور اس کی بالادستی کا حلف لیا ہے اس لئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا اسے درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہوں گے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا۔مولانا مفتی محمود نے وزارت اعلی کوٹھوکر مار دی اور یہ یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی مادی، سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی کہ اس کی ضرورت تھی ، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ وزارت اعلی کے منصب کو عوام کی امانت جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیںملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمود میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گائوں پنیالہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں میں ہی مکمل کی۔ آپ نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا اور بعد میں اعلی تعلیم کے لیے دیوبند تشریف لے گئے ۔ ایک سال دارلعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کے لیے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے ۔ حضرت مولانا مفتی محمود کی سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالب علمی سے ہوا۔ دوران تعلیم ہی آپ نے جمعیت علما ہند میں شمولیت اختیار کی۔ میں آپ نے تعلیم سے فراغت حاصل کی تو “ہندوستان چھوڑدو”کی تحریک زوروں پر تھی۔ انگریزی دور کی یہ تحریک بڑی اہم اوردور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی آپ نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔

آپ کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے اور سرحد جمعیت کے پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصر وف ہوگئے ۔بے پناہ صلاحیتوں اور بھر پور ساسی سرگرمیوں کی بدولت جلد ہی جمعیت علما سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علما کے کونسلر منتخب ہوگئے۔

قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی تعلیمی ادارے مدرسہ قاسم العلوم کے مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور آپ بہت جلد شیخ الحدیث اور مفتی کے مناسب پر فائز کر دیئے گئے۔ افتا کے سلسلے میں آپ کی شہرت و عظمت ملک و بیرون ملک تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی ،نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ کے مخالفین بھی مان گئے آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے چیلنج نہیں کیا جا سکا۔ آپ کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علما کرام میں ہوتا ہے۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر ،دور بین محقق ،نکتہ سنج فقہیہ،عمدہ مفسر ، بہترین ادیب اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانون وسیاست اور سائنس وفلسفہ پر بھی عبور رکھتے تھے آپ کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی ،فارسی اور اردو ادب پر آپ کو گہری دسترس حاصل تھی ۔

1973 کے آئین کو اسلامی آئین بنانے میں مولانا مفتی محمودکا کلیدی کردار ہے ،مولانا نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئین سطح پر بھی ہر فوجی وسول آمر سے ٹکر لی،1962 کے دستورپر مدلل تنقید کی بلکہ معقول ترامیم بھی پیش کیں۔ 1977 کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تومفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوق اٹھائیں گے بندوق اٹھانے سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔

مفتی صاحب نے بہت سے قبائلی رہنمائوں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیاسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عوام علما کرام و جے یو آئی پر اعتماد کرتے ہیں، جس کے لئے جے یو آئی کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل قبائلی جرگہ ہی واحداورپراثر پلیٹ فارم ہے اس وقت بھی فاٹاکے حوالے سے مولانافضل الرحمن اپنی ایک رائے رکھتے ہیں اوروہ اپنی رائے پرمضبوط دلائل بھی دیتے ہیں مولانافضل الرحمن نے فاٹاکے حوالے سے قبائلی جرگے منعقدکرکے فاٹاکے مستقبل کوفاٹاکے عوام کی رائے سے مقیدکیاہے اوراس کے لیے وہ تگ ودوکررہے ہیں اوراپنے والدکے مشن اورخواب کوآگے بڑھارہے ہیں ۔

مفتی محمود کی یہ صلاحتیں ہی تھیں کہ وہ وزارت اعلی کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلی تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نوسیاسی جماعتوں کے متحدہ محاذ نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کی سرزمین میں روشن ہونے والا علم کا یہ سورج 63سال تک دنیا کو روشن کرنے کے بعد 14اکتوبر1980 کو کراچی میںغروب ہوگیا۔ان کے قابل فخرصا حب زادے جمعیت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے اپنے سیاسی بصیرت اور تدبر و حکمت سے خود کو مولانا مفتی محمود کا صحیح جانشین ثابت کیا ہے اوروہ ان کے مشن کوآگے بڑھارہے ہیں ۔