Mishal Malik

30

یاسین نہیں میں مشال ملک ہوں

[button color=”custom” bgcolor=”#dda34b”]مشال حسین ملک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی اہلیہ ہیں ، مشال کا تعلق پاکستان کے ایک مشہورتعلیم یافتہ گھرانے سے ہے ، وہ آرٹ اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ہیں ، وہ پاکستان کے نامور تعلیمی ادارے بیکن سکول سسٹم میں زیر تعلیم رہیں ، انہوں نے گریجویشن بیرون ملک ایل ایس ای سے معاشیات میں کی۔ مشال ملک پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی چیئرپرسن ہیں ، ان کی آرگنائزیشن دنیا میں امن اور ہم آہنگی کے لئے کام کرتی ہے ، یہ آرگنائزیشن مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے سرگرم ہے ، اس کا اصل مقصد امن اور انسانی حقوق کو سپورٹ کرنا ہے، مشال وائلڈ لائف کی حفاظت کے لئے بھی متحرک دکھائی دیتی ہیں ، جانوروں کی نسل کشی کے خلاف نمایاں خدمات سرانجام رہی ہیں .

مشال حسین ملک واراینڈ کنفلکٹ زون میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے لئے سیمینارز ، کانفرنسز ، مظاہروں اور عوامی ریلیوں کے ذریعے آواز بلند کر رہی ہیں ، کشمیر میں کرافٹ اور ورثے کی بقاء کو لاحق خطرات کے لئےآگاہی مہم سمیت عملی اقدامات کر رہی ہیں. مسز یاسین دستکاروں کی فلاح وبہبود اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے بے چین دکھائی دیتی ہیں ، ان کے نزدیک دستکاری کے ذریعے غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے . مشال ملک کے والد ڈاکٹر ایم اے حسین ملک عالمی سطح کے ماہر معاشیات تھے ، وہ جرمنی میں بون یونیورسٹی کے شعبہ اکنامک کے سرپرست رہے، ڈاکٹر ملک پی آئی ڈی ای میں چیف آف ریسرچ اور قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے سربراہ بھی رہے ، اس کے علاوہ سابق وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے پہلے دور حکومت کے دوران غربت مکاؤ ٹاسک فورس کے ممبر رہے جو وزیر مملکت کے برابر تھا ، وہ پہلے پاکستانی ہیں جو نوبل پرائز دینے والی جیوری کے ممبر رہے۔ مسز ملک کی والدہ ریحانہ حسین ملک پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی وائس چیئرپرسن ہیں ، اس کے علاؤہ آئی سی سی اسلام آباد کے خواتین چیپٹر کی ہیڈ اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم سماجی رہنما ہیں، وہ مسلم لیگ ق خواتین ونگ کی جنرل سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں۔ مشال کے بھائی حیدر ملک نیول وار کالج میں اعزازی پروفیسر جبکہ نیول پوسٹ گریجویٹ سکول میں لیکچرار اور فلیچر سکول ہارڈوارڈ بوسٹن سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ، اس کے علاوہ خارجہ امور کے ماہر ہیں ، ان کی تحریریں اور تجزیئے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ جیسے بڑے میڈیاآؤٹ لٹس کی جانب سےشائع ہو چکے ہیں ، مسز یاسین کی بہن سبین ملک ریسرچر اور رائٹر ہیں ، اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن میں جنرل سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ، مشال ملک کی پانچ سالہ بیٹی رضیہ سلطانہ بھی ہے۔[/button]

رپورٹ۔سیدعامرگر​دیزی
سٹیٹ ویوز۔اسلام آباد

سٹیٹ ویوز ٹیم کے ساتھ چٹ چیٹ کے دوران مشال ملک کا خوشگوار انداز

پیس اینڈکلچرآرگنائز​یشن کی چیئر پرسن نامورحریت رہنمااورجموں کشمیر لبریشن فرنٹ کےچیئرمین یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نےڈیجیٹل میڈیاگروپ “سٹیٹ ویوز” کے دفتر میں ایڈیٹرسید خالدگردیزی۔چیف نیوز ایڈیٹر مقصود منتظر اور سپورٹس اینکر مسعودربانی کے ساتھ چٹ چیٹ کے دوران کہا ہے کہ بھارت نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا چہرہ کشمیر پر بولے جوماڈریٹ ہو۔ظلم برداشت کررہا ہو اوردنیا کیلئےقابل قبول بھی ہو اس لئے مجھ پر تنقید کی جاتی ہے۔میرا راستہ روکنے کی انڈین کوشش شروع دن سےجاری ہے۔جب میں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو لیکر گھرسے نکلنے کافیصلہ کیاتھاتو یاسین ملک نے کہا کہ اکیلی سڑک پرنکل کردکھاؤ اور اس خوف سے آزاد ہوجاؤ کہ لوگ ساتھ دیں گے کہ نہیں۔جس دن تم نے اس خوف کو توڑدیا اس دن تم کامیاب ہو جاؤ گی۔میری بچی رضیہ سلطانہ کوکھ میں تھی تو میں اکیلی نکل آئی۔میڈیا کے لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگوں کو کیوں نہ بلایا تو میں نے کہا کہ مجھے اکیلے نکلنا تھا پھر میڈیا کے لوگوں نے اپنی فیملیز بلا کر میرے ساتھ کر دیں۔اب ایسا ہوگیاہےکہ چاہے میڈیا کےلوگ ہوں یا پاکستان کےشہری یا حریت کانفرنس یا پھرآزاد کشمیر کی کسی سیاسی پارٹی کے یہ لوگ میری بات غور سے سنتے اور احترام کرتے ہیں کیونکہ میں اور میری فیملی براہ راست قضیہ کشمیرکی وجہ سےمتاثرہیں۔

سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالد گردیزی کا مشال ملک سے گفتگو کے دوران ایک انداز

انکا کہنا ہے کہ ایک سکالر کا ریسرچ کرنا ریکارڈ پر آسکتا ہےتو جو لوگ مشکلات کا شکار ہوں وہ جب دنیا کو اپنی مشکلات بارے بتاتے ہیں تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔دنیا ان کی باتوں کو سنجیدگی سے بھی لیتی ہے ، میں تو خودبھارتی مظالم کا شکار ہوں ، میرے شوہر اس وقت بھی جیل میں ہیں ، میری بیٹی بھی اپنے والد کی محبت کے لئے ترس رہی ہے ، اس لئے ہمارےبولنے کی بہت اہمیت ہے،دنیا کا کوئی بھی شخص ہو جس کی زندگی کا یہ مشن ہوکہ انسانیت کے لئے کچھ کرنا ہے توچاہے وہ ریسرچ کرتاہےاور انسانیت پر ہونے والے مظالم پر آواز بلند کرتاہےتواس کی بات میں وزن ہوتا ہے۔

آپ سرینگرکیوں نہیں جاتیں؟اس سوال کےجواب میں مشال ملک کا کہنا تھاکہ شادی کے بعدچھ بارگئی ہوں سرینگر۔اسکے بعد میں نے اپلائی کیا مگر بھارت جس نے ویزہ دینا ہے وہ انکارکررہا ہےاورنہ ہی اقرارکررہا ہےبلکہ ویزے کی درخواست موخرکر رکھی ہے۔میرےبس میں ہوتو آج ہی چلی جاؤں۔بچی والدکوبہت یادکرتی ہے۔
ہجر کے اس درد کو وہی محسوس کرسکتا ہے جسکے ساتھ بیت رہی ہو۔میں یہاں اورکچھ نہیں کرسکتی تو انڈین مظالم کو اجاگرکرکے دل کو راحت پہنچاتی ہوں اورسوچتی ہوں کہ یاسین ملک اورکشمیریوں کی جدوجہد میں اپنی بساط کے مطابق شریک ہوں۔

مشال ملک سٹیٹ ویوز کی ٹیم کے روبرو

یاسین ملک کیوں نہیں آرہے؟اس سوال کے جواب میں مشال ملک نے کہا کہ بھارت نے انکاپاسپورٹ ضبط کررکھاتھا۔جب آسکتے تھے تو وہ آتے رہے۔

یاسین ملک خود مختار کشمیر کے حامی ہیں تو آپ کشمیریوں کا مستقبل کیاخیال کرتی ہیں؟مشال ملک نےجواب دیاکہ یاسین ملک ایک تنظیم کےسربراہ ہیں اوروہ خودمختار کشمیرکیلئے جدوجہد کرنے کےباوجود یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کسی پر مسلط نہیں کرتے۔انکے مطابق کشمیری اگر پاکستان حتیٰ کہ انڈیا کیساتھ اپنا مستقبل جوڑنےکافیصلہ کرتےہیں تو وہ اکثریت کی خواہش کااحترام کرینگے۔میں مشال ملک ہوں یاسین ملک نہیں۔میں لبریشن فرنٹ میں ہوں اور نہ ہی حریت کانفرنس یاکسی دوسری تنظیم یا سیاسی جماعت میں ہوں۔میں لیڈر بھی نہیں ہوں بلکہ عام شہری ہوں۔اکنامکس میرا سبجیکٹ اورآرٹ میرا شغف ہے۔تنازعہ کشمیراوروہاں انڈیاکےمظالم اجاگرکرنے سمیت ثقافت کومحفوظ کرنےکیلئے اپنی ایک این جی اوبنائی ہوئی ہےجسکے پلیٹ فارم سےکام کرتی ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں گراس روٹ لیول پر لوگوں کو تنازعہ کشمیر کے ساتھ نتھی کرنےکیلئے کام کررہی ہوں اوراب بین الاقوامی سطح تک جانے کاارادہ ہے۔جب تک مسئلہ کشمیر کو عوام میں نہیں لے کر جائیں گے تب تک ہماری خارجہ پالیسی موثر نہیں ہو سکتی علاوہ ازیں پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لئےکوئی بھی آواز بلندکرتاہےتو مقبوضہ کشمیر کی قیادت چاہے وہ یاسین ملک ہوں یا کوئی اور لیڈر وہ کہتے ہیں کہ انہیں سپورٹ ملتی ہے،دنیا میں بھی کہیں سے کشمیریوں کے لئے آواز بلند ہوتی ہے تو مقبوضہ وادی کے لوگ خوش ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں خوشگوار زندگی گزار سکتی تھی لیکن میں نے ایک مجاہد کے ساتھ شادی کی ہے ، ان کی جدوجہد سے متاثر ہوں،میں انکی طرح گھر سےباہر نکلنے کو ترجیح دیتی ہوں ، پاکستان کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم سے آگاہ کرتی ہوں ، میرے گھر میں لفظ “بیچارے” کے استعمال پر پابندی ہے،میری والدہ کہتی ہیں کہ بیچارے وہ لوگ نہیں ہیں جوبھارت کی آٹھ لاکھ فوج سے نہتےلڑ رہے ہیں بلکہ بیچارے ہم ہیں جو ان پر مظالم کے حوالے سے آواز بلند نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر میں آرام سے بیٹھے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں آنے اور کسی سیاسی جماعت میں شمیولیت بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشال ملک کاکہنا ہے کہ میں سیاستدان نہیں، میری ایک این جی او ہے جس کے پلیٹ فارم سے کشمیر ، فلسطین اور برما سمیت دنیابھرکےمظلوم لوگوں کے انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرتی ہوں۔میرا نہ تحریک انصاف کے ساتھ تعلق تھا اور نہ ہی مسلم لیگ یا کسی اور جماعت سے بلکہ میری والدہ کہتی ہیں کہ کشمیرایک بڑا ایشو ہے اس کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو لے کر چلو ، کشمیر کو محدود نہیں کر سکتے ، جنوبی ایشیا میں امن بھی مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔

یاسین ملک کی اہلیہ چٹ چیٹ کے دوران ایک سوال پر سیخ پا ہوگئیں

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں ریجڈ نہیں اورنہ ہی لیڈرہوں بلکہ عام شہری ہوں۔ ریت کی طرح ہوں ، میرا بڑا واضح موقف ہے کہ کشمیریوں کے لئے دنیا کا کوئی بھی شخص آواز بلند کر سکتا ہے۔اس کا تعلق بیشک آسٹریلیا سے ہی کیوں نہ ہو، لیڈر وہی ہوتا ہے جیسے عوام بنائے۔

کس شناخت کیساتھ دنیا میں تنازعہ کشمیر پر بات کرنا پسند کرینگی اس سوال کے جواب میں مشال ملک کا کہنا تھا کہ دنیاگلوبل ویلج ہے اورمیں گلوبل شہری ہوں،میرا کشمیرسے خونی رشتہ ہے، مسئلہ کشمیر پرانا گلوبل ایشو ہے ، کشمیر کاز کے لئے میں ہر جگہ ، ہر شخص کےپاس اور ہر پلیٹ فارم پراسی شناخت کے ساتھ جاؤں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے والد انتہائی اہم عہدوں پر فائز رہے ، ہم محل بنا سکتے تھے لیکن میں نے والد سے ایک بامقصد زندگی گزارنا سیکھا ہے جس کے باعث پاکستان بھر میں ایک کاز کو لے کر نکلی ہوئی ہوں۔
مشال ملک نے کہا ہے کہ میں وی آئی پی کلچر کو پسند نہیں کرتی ، ہمارے گھر وزیر اعظم آئے یا کوئی عام انسان ، میں سب کوخود جوس۔پانی یاچائےلاکردیتی ہوں۔

انہوں نےسکولوں اورکالجوں میں اپنےدوروں کےدوران مشاہدات بتاتے ہوئےاس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آنے والی نسلوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔اب تو نصابوں سے بھی کشمیرکا تذکرہ ختم کردیاگیا۔جب تک انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بتایا نہیں جائے گا تب تک انہیں کیسے پتہ چلے گا کہ کشمیر ایشو ہے کیا، اس کے علاوہ کشمیری ثقافت کو بھی اجاگر کرنےکی ضرورت ہے ، سیاسی موبلائزیشن بہت ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حریت رہنما کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ شہ رگ کہنے سے نہیں بن جاتی بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے،کشمیرپرسال میں ایک یا دو بار تقریر کرنے سے کشمیرآزاد نہیں ہو گا بلکہ اس کے لئے دن رات ایک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں سے بہت پیارکرتے ہیں لیکن ان کو موبلائز کرنے کے لئے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے جب تک لوگ باہر نہیں نکلیں گے تب تک مشکلات کا سامنا رہے گا۔

Mishal Malik000000
مشال ملک سٹیٹ ویوز ٹیم کے ساتھ گفتگو کررہی ہیں

وزارت داخلہ کی طرف سے انہیں حاصل پروٹوکول اورسیکیوریٹی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر بولیں کہ مجھے سیکوریٹی یاسین کی بیوی ہونے کے ناطے ریاست کی طرف سے ملی ہے ، یہ یاسین کی فیملی کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے ، مجھے ذاتی طور پراس کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں زندگی میں رسک لینےسے نہیں ڈرتی۔اگرڈرتی ہوتی تویاسین ملک سے شادی نہیں کرتی۔انہیں اپنا آئیڈیل مانتی اورنہ ہی سرینگر جا کرلوگوں میں گھل مل جاتی۔

برصغیرکی تقسیم اورانگریزوں کی جانب سےدونوں ملکوں کےدرمیان تنازعہ کشمیرڈالنے کےحوالےسےان سے سوال کیاگیاتوانہوں نے کہا کہ اس معاملےپر”نوکمنٹس”۔جس سے یہ واضع ہوا کہ انہیں تنازعہ کی بنیادوں اورکرداروں کے بارے میں معلوم نہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر اس موضوع پربات نہیں کرنا چاہتیں۔

تنازعہ کشمیرحل کرانے میں پاکستان کےکردارکےحوالے سےسوال کیاگیاتوانہوں نےکہاکہ پاکستان میں سیاسی لوگوں کی صلاحیت اورقابلیت نہ تھی اس لئے ستر سالوں سے یہ مسئلہ لٹکاہوا ہے۔کشمیری مسئلےکے بنیادی فریق ہیں۔فریق اوروکیل کی حثیت سے پاکستان کوتنازعہ کشمیرکےحل کے لئے قدآورسیاسی لوگوں کی ضرورت ہے جو اس پیچدہ گھتی کو سلجھاسکیں۔

یاسین ملک سے شادی کولیکر گردش کرتی ہوئی مختلف باتوں بارے جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نےکہا کہ جوڑےآسمان پربنتے ہیں۔ ہماری شادی سی آئی اے یا آئی ایس آئی نے نہیں بلکہ اللہ نے کرائی ہے، جب کسی سے پیار ہو جائے تو پھر کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی،میں اورمیری بچی سمیت یاسین ملک ذاتی زندگی میں مشکل میں ہیں لیکن اسکے باوجود میں خودکوخوش نصیب گردانتی ہوں کہ ایک بہادر شخص سے شادی ہوئی ، وہ انتہائی خوبصورت اور سمارٹ ہیں ،وہ لیجنڈ ہیں،انہوں نے انکشاف کیا کہ میں یونیورسٹی سٹوڈنٹ تھی مگر یاسین ملک کو دیکھا ہوا تھا اور انکی جدوجہد سےمتاثرتھی۔پروی​ز مشرف کےزمانے میں وہ پاکستان آئےتوحکومت نے میری والدہ کو ایک تقریب میں بلایا۔میں بھی ساتھ تھی۔جب میں ہال میں داخل ہوئی تو یاسین ملک سٹیج پرایک انقلابی نظم پڑھ رہے تھے۔مجھےاردوزیا​دہ سمجھ نہیں آتی تھی مگر اسکے باوجود سحر طاری ہوگیا۔بعد ازاں انہوں نےکوئی نمائش رکھی ہوئی تھی جس میں انہوں نے مجھے طلبہ وطالبات کو ساتھ لانےکوکہا۔میں کافی نفری لیکر نمائش میں شریک ہوئی۔نمائش میں بھرپور کرداراداکرنے پر انہوں نےمیری والدہ کوشکریہ کہنے کیلئے ٹیلی فون کیا تو ساتھ مجھ سے بھی بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔والدہ نے کہا کہ وہ حریت لیڈر ہیں ان سے بات کرو۔یاسین ملک نے ٹیلی فون پر ہی شادی کی خواہش کااظہارکردیاتو میں گھبرا گئی۔جب مائنڈ بناتو ان سے محبت ہوگئی اور پانچ سال بعد شادی ہوئی،روٹین میں ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں