16

کوئٹہ میں خواتین کا پہلا ریسٹورنٹ

کوئٹہ (سٹیٹ ویوز)کوئٹہ میں خواتین کے عملے پر مشتمل پہلے ریسٹورنٹ کا افتتاح ہوا ہے جس کی مالکن اور کک سے لے کر صارفین کو کھانا پیش کرنے تک سب ملازمین خواتین ہیں۔

کوئٹہ کے ہزارہ ٹاون میں خواتین کے عملے پر مشتمل یہ رسٹورنٹ نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان میں خواتین کا پہلا ریسٹورنٹ ہے۔ اس منفرد ریسٹورنٹ میں کل پانچ خواتین کام کر رہی ہیں جو کھانا پکاتی ہیں اور صارفین کو پیش بھی کرتی ہیں۔ ریسٹورنٹ کی مالکن حمیدہ علی ہزارہ سماجی اور سیاسی کارکن بھی ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔ حمیدہ علی نے خواتین کو حقوق کی فراہمی اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لئے حرمت نسواں فاونڈیشن کے نام سے ایک تنظیم بھی قائم کر رکھی ہے۔

حمیدہ علی ہزارہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کو مختلف شعبوں میں آگے لانے اور ان کے حقوق کی فراہمی سے متعلق مختلف سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب انہیں خیال آیا کہ خواتین کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے بھی کوئی اقدام اٹھایا جائے اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ گزشتہ 10 سے 15 سالوں کے دوران کوئٹہ میں بم، خود کش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر واقعات میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نشانہ بنے جن میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد اور نوجوان جان کی بازی ہار گئے، جان بحق ہونے والوں میں سے پیشتر اپنے گھروں کے سربراہ یا واحد کفیل تھے، ان کے جانے کے بعد ورثا معاشی مشکلات کا شکار ہوئے جو ابھی تک بڑی مشکل سے اپنے گھر کا چولہا جلا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں