Nawab

24

محسن پاکستان (نواب آف بہاول پور )

صداقت عباسی
تقسیم برصغیر سے پہلے بہاول پور سب سے بڑی 480 کلومیٹر اور 20 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط امیر ترین مسلم ریاست تھی.انڈین حکومت نے قیام پاکستان سے قبل نواب صادق محمد خان عباسی کو ریاست بہاول پور , انڈیا میں ضم کرنے کے عوض ایک خالی چیک اور فیروز پور ڈسٹرکٹ بہاول پور میں شامل کرنے کی پیشکش کی , جسے نواب آف بہاول پور نے ٹھکراتے ہوئے ریاست بہاول پور کا الحاق غیر مشروط طور پر پاکستان میں کردیا اور اپنے خزانے کے منہ پاکستان کی عوام کے لئے کھولتے ہوئے اپنا تاج پاکستان کے لئے اتار دیا , قیام پاکستان سے قبل برطانوی حکومت نے نواب آف بہاول پور کو 52 ہزار پاونڈ کا چیک دیا ,

سر صادق نے یہ رقم قائد اعظم کو قیام پاکستان کی جدوجہد کے لئے ہدیہ کردی , قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کو وظیفہ ریاست آف بہاول پور سے ملتا تھا , علامہ اقبال کو ریاست کی طرف سے مالی امداد دی گئی , علامہ اقبال نے نواب صاحب کی توجہ لاہور کے تعلیمی اداروں کی طرف دلوائی جس کو ریاست نے قبول کر لیا اور جب گوشت صرف چار آنے کلو تھا (ایک روپیہ میں 16 آنے ہوتے تھے ) لاہور کے تعلیمی اداروں کے لئے معقول وظیفہ جاری کر دیا , کنگ ایڈورڈ ایجوکیشن فنڈ 150000روپیہ , اسلامیہ کالج لاہور 30000 روپیہ , انجمن حمایت اسلام 107000 روپے , پنجاب یونیورسٹی 14000 روپے , انجمن ہلال احمر 14000 اس کے علاوہ بھی کئی اداروں کو معقول وظیفہ دیتے تھے

قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سر صادق محمد عباسی کی گاڑی رولز رائس BWP-72 حلف اٹھانے اور گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے لئے , لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ استعمال کی , پاکستان بننے کے فورا بعد پاکستان کے خزانے میں 10 کروڑ روپے سے زائد رقم بطور امداد نواب آف بہاول پور نے دی , ریاست بہاول پور نے ابتدائی مہینوں میں پورے پاکستان کے گورنمنٹ ملازمین کو تنخواہیں دیں , نواب آف بہاول پور نے ایک لاکھ سے زائد مہاجرین اپنی ریاست میں آباد کئے , انڈیا نے بہاول پور کو سزا دینے کے لئے فیروز پور ہیڈ ورکس کے ذریعے دریائے ستلج کا پانی روک لیا , مگر نواب صاحب نے مزید پاکستان کی زیادہ کی امداد کی , جون 1948 میں سٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں قائد اعظم محمد علی جناح نے نواب آف بہاول پور کی شاہی بگی استعمال کی , بعد ازاں سر صادق خان عباسی نے بہاول پور کی افواج کو پاکستان کی افواج میں ضم کرتے ہوئے 2 کروڑ روپے پاکستان کے سرکاری خزانے میں جمع کرائے , پاکستان کے لئے شاندار کاوشوں پر قائد اعظم محمد علی جناح نے سر صادق خان عباسی کو محسن پاکستان کا خطاب دیا ,

قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد امیر آف بہاول پور نے کراچی می اپنے محلات القمر اور الشمس کے درمیان 12 ایکڑ پر محیط رقبہ محترمہ فاطمہ جناح کو بطور تحفہ دے دیا , سر صادق خان عباسی نے کئی تعلیمی و دیگر سرکاری اداروں, مساجد کے لئے زمینوں کو عطیہ کرنے کے ساتھ ان کی تعمیر بھی کرائی , اس کے علاوہ ہر عام آدمی کی ان تک دسترس تھی اور اپنی رعایا کو در پیش مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے تھے , جس کا ثبوت یہ ہے کہ بہاول پور کے بزرگ آج بھی ان کے دور کو یاد کرکے انہیں دعائیں دیتے ہیں , ایک عہد ساز شخصت ہونے کے ناطے سر صادق محمد خان عباسی کا نام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا …