18

سعودی عرب میں اوورسیزکمیونٹی کشمیریوں کےلیےامڈ آئی

ریاض (راجہ عابدعزیز/سٹیٹ ویوز) سعودی عرب کے دارالحکومت میں سفارت خانہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف یوم سیاہ کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی اورکشمیری کیمونٹی کےسینکڑوں افراد نےشرکت کی.

تقریب کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان خان ھشام بن صدیق تھے تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کا شرف قاری نعمت اللہ کو حاصل ہوا جبکہ نظامت کے فرائض محمد اکرم رانا نے سرانجام دیئے. سفارتخانہ پاکستان کے ہیڈ آف چانسری سیف اللہ خان نے ابتدائی کلمات پیش کرتے ہوئے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کشمیر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی.

یوم سیاہ کی تقریب سےخطاب کرتے ہوئےپاکستان کےسفیرخان ھشام بن صدیق کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیرکےعوام تنہا نہیں ہیں بھارتی تسلط سےکشمیریوں کےجذبہ آزادی کو سرد نہیں ہونےدیں گے انہوں نے کہا آج کے دن کے حوالے سے سب بڑے ہیرو وہ افراد ہیں جو کشمیر میں قربانیاں دے رہے ہیں اور پیلٹ گن کا سامنا کر رہے ہیں. اس کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، کشمیر کے ایشو پر ہمیں سعودی گورنمنٹ اور آو آئی سی کی جانب سے مکمل حمایت حاصل ہے ہماری سفارتی کاری میں مسئلہ کشمیر کو اولین حثیت حاصل ہے اور ہماری پوری سفارتی کوششیں اسی مسئلے کے گرد گھومتی ہیں.

نائب سفیر ڈاکٹر بلال احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر کسی صورت بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے کیونکہ 1996 میں ہندوستان اقوام متحدہ میں ایک بل لیکر گیا کہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دہشت گردی تسلیم کیا جائے جبکہ بھارتی فوج کی کاروائیوں کو قانونی طور پر جائز تصور کیا جائے مگر اکیس سال گزر جانے کے باوجود بھارت اس بل کو کامیاب کروانے میں ناکام رہا ہے،نائن الیون کے بعد ماحول تبدیل ہوا اور دنیا نے مسلمانوں کی جانب رخ کر لیا،روس بھی آج کشمیر کے معاملے پر بھارت کا ساتھ نہیں دے رہا جو کہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے.

راشد محمود بٹ نے یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے ایک قرداد پڑھی جس میں کہا گیا کہ آج کا یہ نمائندہ اجتماع عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے، اور ہم۔سعودی عرب اور او آئی سی کے تہہ دل سے مشکور ہیں کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر ہمیشہ کشمیریوں کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے، اور عالمی سطح پر اس ایشو کو اجاگر کیا ہے، اور ہم حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی تمام تر کوششوں کو بھی سراہتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ کشمیر جلد آزاد ہو اور وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے.

دیگر مقررین میں سردار محمد عبدالرزاق ، ریاض راٹھور، عبدالقیوم خان، حافظ عبدالوحید، حاجی احسان دانش، پروفیسر جاوید اقبال، چوہدری رفیق، فیاض علی خان،زاہد لطیف سندھو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر گزشتہ ستر سالوں سے جل رہا ہے اور اس کی نہتی عوام بھارتی ظلم وجبر کے عذاب میں مبتلا ہے، بھارت تحریک آزادی کو بندوق کی نوک سے دبانا چاہتا ہے جس میں وہ بری طرح ناکام رہے گا کشمیر کے اندر سینکڑوں قبرستان موجود ہیں جہاں ہر گھر سے کوئی نا کوئی شہید دفن ہے، آج کا کشمیری نوجوان آزادی کی تحریک کو تیزی سے آگے لیکر جا رہا ہے،کشمیری ہمارے بھائی ہیں اور ہم۔ان کا درد محسوس کرتے ہیں سفارت خانہ پاکستان کا چانسری  ہال کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے بھی گونجتا رہا آخر میں کشمیریوں کے ساتھ بھارت کی طرف سے کیے جانے والے ظلم و ستم پر ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں