17

شہروں میں بڑھتی ہوئی دھند کےمضراثرات سےبچاؤممکن

اسلام آباد (عطاءالرحمٰن عباسی/سٹیٹ ویوز) لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں اور قصبوں پر چھائی سیاہی مائل دھند کو آلودگی اور تیزابی دھند کہا جارہا ہے جو حقیقت پرمبنی ایسی تلخ اور خوفناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے کہ صنعتی ترقی نے انسان کو جینے اور مرنے کی واضح دھمکی دے دی ہے. سموگ اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ 1952 میں لندن میں سموگ پیدا ہوئی تو اس نے دنیا میں آلارم بجادئےتھے۔ اس وقت لندن دنیا کا ترقی یافتہ شہر تھا جہاں ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر دھواں چھوڑتی تھیں اور فیکٹریوں کا دھواں عام تھا۔ اب یہ عالم ہے کہ امریکہ کے دس بڑے شہروں میں سموگ خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے کئی دہائیوں سے امریکہ،چین سعودی عرب ایران، انڈیا، پاکستان، مصر ،روس سمیت کئی ملکوں کوٹریفک اورفیکٹریوں کی وجہ سے ایسے ممالک میں شامل کررکھا ہے جہاں سموگ کی مقدار بڑھ چکی ہے۔ پاکستان کے چار بڑے شہر،کراچی،لاہور۔کوئیٹہ ،پشاور،میں غیر معمولی طور پر سموگ کی مقدار کے بارے میں تشویش کا اظہارکیاگیاہے۔
لاہور کی ٹریفک پولیس نے جسطرح لوگوں میں ماسک کا شعورپیدا کرنے کے لئے مفت ماسک تقسیم کئے ہیں اس طرح کی تحریک عام ہونی چاہئے۔

سموگی علاقوں میں رہنے والوں کو درج ذیل احتیاطیں برتنی چاہیے۔
٭ منہ پر ماسک چڑھا کر باہر نکلنا چاہئے۔
٭ سانس پھولنے والی ورزش سے گریز کرتے ہوئے ان ڈور ورزش کرنی چاہئے۔
٭ صبح کے وقت درختوں کے نیچے بیٹھ کر ورزش کرنی چاہئے۔
٭جلن کی صورت میں آنکھوں کو پانی سے بار بار دھونا چاہئے۔
٭ طبی ماہرین کی ہدایت پر عرق گلاب کے ڈراپ سے آنکھیں صاف کرنی چاہئے۔
٭ کمرے میں بھاپ والا پانی رکھ کر ہوا میں نمی پیدا کرنی چاہئے۔
٭ کھانسی اور سانس کی پرابلم میں فوری معالج سے رابطہ کرنا چاہئے۔
٭ گاڑی چلاتے ہوئے شیشے بند رکھنے چاہئے اور گاڑی کے فین کو ان پٹ پر رکھنا چاہئے تاکہ باہر کی ہوا اندر نہ آسکے۔
٭ سموگ زیادہ نظر آئے تو گاڑی کی ہیڈلائٹس کو آن رکھیں ۔
٭ سموگ زیادہ دن رہنے کی صورت میں وٹامن ڈی کا استعمال کریں مگر اپنے معالج سے پوچھ کر۔کیونکہ اس کی وجہ سے سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی وٹامن ڈی میں کمی ہوجاتی ہے ۔
حکومتِ پنجاب نے بھی سموگ کی صورتحال کے پیش نظر لوگوں کے لیے اخبارات میں ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں