نقطہ نظر/دین اختر

41

بلیک بورڈ، تحقیق کاپہلاقدم

تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم کی کسی بھی معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اسکی مثالیں ماضی میں بھی بہت ملتی ہیں اور آگے بھی بہت نظر آئیں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیم استاد کے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی اٹھاکر دیکھ لیجئے آپکو استا د کی ضرورت ہر جگہ پڑے گی۔ لیکن اسکے برعکس کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو استاد کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ میں نے اکثر اپنی ذاتی زندگی میں محسوس کیاکہ جو زیادہ سوالات کرتاہے چاہے وہ کسی بھی حوالے سے ہوں لوگ اسکو پاگل تصور کرتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ جمہ کا دن تھا۔ میں کالج میں موجود تھا ، مطالعہ پاکستان میں وفاقی حکومت کے حوالے سے لیکچر جاری تھا۔ اس لیکچر میں استانی اپنے دلائل دی رہی تھیں۔ انہی دلائل کے دوران استانی نے فرمایا ہمارے ملک کی سب سے بڑی عدالت ، سپریم کورٹ ہے جہاں پر ہر کسی کو انصاف ملتا ہے اور یہ عدالت ہر شخص اور ہر ادارے کا احتساب کرتی ہے۔ لیکچر کے دوران میرے ذہن میں ایک سوال منڈلانے لگا اور میں خاموش رہا۔ جیسے استانی اپنا لیکچر ختم کیا میں نے سوال پوچھا کہ جو انصاف دینے والا ہوتا ہے یعنی سپریم کورٹ کے اعلیٰ عہدے پر فائز چیف جسٹس آف پاکستان اگر کسی جرم میں یا بدعنوانی میں ملوث ہوں تو انکا کون احتساب کرسکتا ہے۔ استانی یہ میرا سوال سنتے ہی آگ بگولہ ہوگئی اور میری ٹھیک ٹھاک چڑھائی کردی۔ مجھ سے مخاطب ہوکر کہنی لگی کہ آپ جیسی سوچ رکھنے والے لوگ ہی لے ڈوبتے ہیں۔ چنانچہ میں کلاس میں موجود تھا اور ساراواقعہ کلاس دیکھ رہی تھی ۔ مجھے ذاتی طور پر گہرے لگے اور کچھ دیر سوچ میں پڑ گیا۔

ایسا کیا سوال کردیا جو استاد نے مجھے سمجھانے کے بجائے ٹوک دیا اور ہمت افزائی نہیں کی۔ خیر اُس استاد کو اسوقت میں نے کچھ نہیں کہا کیونکہ اگر میں اپنے سوال کے مزید وضاحت کرتا تو بدتمیزی کا داغ بھی لگ سکتا تھا۔ چناچہ میں نے خاموشی اختیار کی۔ لیکن اس واقعہ سے مجھے ایک بات ضرور سمجھ آئی کہ اس استاد کے سامنے سوال کرنے سے کلاس میں بے عزتی بھی ہو سکتی ہے اور یہ سوچ کیوں نہ آتی۔ یہ چیز عملی طور پر ثابت ہوچکی تھی۔ اس سارے واقعہ سے شایداستاد کوئی فرق نہ پڑا ہو لیکن شاگرد کے ذہن پر منفی اثر پڑگیا۔ وہ شاگرد اول تو سوال ہی نہیں کرے گا۔ اور اگر کریگا بھی تو سو بار سوچے گا کیونکہ اُس ذہن میں ڈر جو آگیا ہے۔ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس سے شاگرد کو آزادانہ سوال کرنے کا بھی حق موجود نہ ہو۔

صرف میں نہیں ہزاروں شاگردایسے استادوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شاگرد تعلیم حاصل کرنے سے مایوس ہوجاتا ہے اور تعلیم اس پر بوجھ بن جاتی ہے ۔ اسکا ذہن قید ہوجاتا ہے اور وہ علمی میدان میں آزادانہ سوچ نہ رکھنے سے تعلیم سے اُکتا جاتا ہے۔ مختصر، تعلیم حاصل کرنے مقصد چھپے ہوئے رازوں کو تلاش کرنا اور معلومات حاصل کرنا ہے۔ سوال کرنے ہی سے رازوں سے پردہ اٹھتا ہے اور تحقیق کی طرف یہ پہلا قدم ہوتا ہے جو کہ بعد میں کسی چیز کی دریافت یا جدت کی شکل میں آتا ہے۔ سوال غلط ہو یا صحیح استا د کو چاہئے کہ وہ اسکا تدبر اور تحمل سے جواب دے اگر جواب نہیں آتا تو معذرت کرکے بعد میں جواب دیا جاسکتا ہے اور یہ رویہ مغربی ممالک تعلیم اداروں میں عام ہے جسکی بنا پر مغربی ممالک تحقیق میں ہم سے کہی دہائیاں آگے ہیں۔