122

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد شہید اور قرآن پاک کی بے حرمتی کردی


اسلام آباد(رپورٹنگ ٹیم/سٹیٹ ویوز)کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)کے ممبر سٹیٹ خوشحال خان اور ڈائریکٹر انفورسمنٹ عشرت وارثی نےنوٹس دیئےبناء عملے کے سینکڑوں افراد سمیت بدھ کوصبح سات بجے سینٹورس اسلام آباد کے عارضی تعمیراتی شیڈزکوبلڈوز سےگراناشروع کردیا۔

عارضی شیڈ گرانےسےزیرتعمیر سینٹوریس انتظامیہ کو کروڑوں روپے کانقصان اٹھانا پڑا۔ وہاں مقیم تین ہزارسےزائدملازم​ین کا انفرادی طورپربھی بھاری نقصان ہوا جبکہ مسجد گرانےاورقران پاک کی بے حرمتی پر موقع پرموجودسینکڑوں افراد تعیش میں آگئے اور نعرہ تکبیر بلند کرکے سی ڈی اے کے ملازمین کو پھتروں کے آگے دھر دیا. ہنگامےکےدوران کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کرپشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی قرار دیکر شدید نعرے بازی کی گئی۔

ہنگامےکےدوران آپریشن کی قیادت کرنےوالے سی ڈی اے کے افسر چھوٹے ملازمین کو چھوڑ کرموقع سے بھاگ گئےجبکہ چھوٹےملازمین نے جوابی پھتراؤ کیا جسکے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی افراد زخمی ہوگئے۔

یادرہے کہ غیرملکی سرمایہ کاری سے اسلام آباد کا بلند ترین مال سینٹورس تعمیر کرنے کیلئے سی ڈی اے کی تاریخ کا مہنگاترین پلاٹ خریداگیا اور 2005 میں سینٹورس تعمیر ہونا شروع ہوا۔سینٹورس کثیرالمقاصد عمارت ہے جس میں میگاشاپنگ مال سمیت تین رہائشی ٹاورز اور ایک 37منزلہ ہوٹل بھی شامل ہے۔
میگا شاپنگ مال تیارہوگیا جبکہ تین ٹاورز اور ہوٹل پر ابھی کام جاری ہے۔

سی ڈی اے کے قوانین کے مطابق تعمیرات کے دوران کمیپ لگانے کیلئےسائیٹ کے ساتھ موجود جگہ انتظامیہ کو مہیا کی جاتی ہے تاہم دوران تعمیر ہی سی ڈی اے نے کچھ عرصہ قبل انتظامیہ کو عارضی تعمیراتی ایریا میں موجود کمیپ ختم کرنے کو کہا جس میں تعمیراتی عملےکےدفاتر سمیت رہائش گاہیں موجودہیں تو سینٹوریس کی انتظامیہ نے عدالت سے رجوع کرلیا۔
عدالت نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا لیکن سی ڈی اے نے عدالتی حکم کو جواز بنا کر نوٹس دیئے بناء آج صبح چڑھائی کردی اورسینٹورس کی انتظامیہ سمیت تقریباً تین ہزار افراد کا ذاتی سامان ضائع کرکےکروڑوں روپے کانقصان کر دیا۔


موقع پرموجود لوگوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران ممبر سٹیٹ نے سر پر کھڑے ہوکرکیم​پ میں موجود مسجدگرائی اورقران پاک کی بےحرمتی کےمرتکب ہوئے جسکی وجہ سےلوگوں نےنعرہ تکبر بلند کرکےپھتراؤ شروع کردیا۔سی ڈی اے کے ملازمین نے جوابی پھتراؤ بھی کیا جسکے نتیجے میں دونوں اطراف سے لوگ زخمی ہوئے۔
پھتراؤ کے دوران سی ڈی اے کے ممبر سٹیٹ اور ڈائریکٹرانفورسم​نٹ عشرت وارثی چھوٹے ملازمین کو چھوڑ کر موقع سے فرار ہوگئے۔مشتعل افرادنےسی ڈی اے کو کرپٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی قرار دیکرشدید نعرہ بازی کی اورسٹیٹ ویوز سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کرپٹ ادارہ ہے جب تک انہیں بھتہ ملتا ہے اس وقت تک یہ چپ رہتے ہیں اور جب بھتہ ملنا بند ہوجاتا ہے تو آپریشن شروع کردیتے ہیں۔

Centaurus

آپریشن کے دوران سٹیٹ ویوز ٹیم نے ممبر سٹیٹ خوشحال خان سےپوچھا کہ آپ نے سینٹورس انتظامیہ کو نوٹس دیا تھا تو انکا کہنا تھا کہ ہم نے نوٹس دیا۔ان سے پوچھا گیا کہ نوٹس کی کاپی ہمیں دکھائیں تو افسروں کے پاس نوٹس کی کاپی موجود نہ تھی۔ممبرسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر اور عدالت کے حکم پر آپریشن کررہے ہیں۔

Cda santarus (3)

ان سے پوچھا گیاکہ عدالت کا حکم نامہ دکھائیں تو انکےپاس وہ بھی موجود نہ تھا۔
ان سےپوچھاکہ کشمیرہائی وے پر مارکیز۔کراچی کمپنی میں ٹرانسپورٹ اڈے،بڑے بڑےشو رومز سمیت فیض آباد سے ایئرپورٹ تک پلازے اورخصوصاً غوری ٹاؤن کیسے بن گیا تو انکےپاس کوئی جواب نہ تھا۔ان سے پوچھاگیا کہ آپ انکےخلاف کب آپریشنز کر رہے ہیں توانہوں نےٹال دیا اورکہا کہ آفس میں آئیں تو آپکو بتائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں