30

دولت کے ڈھیر لگانے کا فارمولہ کیا ہے؟ جانئے ایک بیوہ کی زبا نی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)ہم بہت غریب تھے شو ہر کی وفا ت کے بعد میں نے اور میری بیٹو ں نے مل کر یہ کام کر نا شروع کیا تو ہما رے گھر دولت کے خزانے کھل گئے میرے شوہر کی بیماری دن بدن بڑھ رہی تھی ایک رات اچانک ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ لوگوں نے خوب ہمدردی جتائی مگر کسی نے یہ نہ سوچا کہ اب یہ گھر کیسے چلائے گی‘ بچوں کی فیس کہاں سے ادا کرے گی؟ انہی دنوں میری ایک ہمسائی نے مجھے درج ذیل وظیفہ بتایا میں مصائب میں چاروں طرف سے گھری ہوئی تھی‘ مجھے راہ نجات صرف یہ وظیفہ ہی لگا۔

میں نے اور میری بچیوں نے پاگلوں کی طرح یہ وظیفہ پڑھا۔میری بیٹیاں جوان ہوچکی تھیں مجھے ان کی شادیوں کی فکر بھی کھائے جارہی تھی‘ اللہ کا شکر ہے کہ اللہ نے مجھے پاک دامن باپردہ پانچ وقت کی نمازی اولاد دی۔ ابھی وظیفہ پڑھتے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ میں نے کپڑوں کی سلائی شروع کردی‘ مجھے یقین نہیں تھا کہ مجھ سے بھی کبھی کوئی کپڑے سلوائے گا؟ مگر چونکہ ہمارا گھر ایک پوش علاقے میں تھا اور کافی عرصہ رہنے کی وجہ سے علاقہ میں سلام دعا بھی اچھی تھی اس وجہ سے خواتین نے اپنے کپڑے کچھ اچھی سلائی اور کچھ نے ہمدردی کے تحت مجھ سے سلوانا شروع کردئیے اور مجھے پیسے بھی منہ مانگے ملتے۔ آہستہ آہستہ میری بچیوں نے بھی میرا ہاتھ بٹاناشروع کردیا اور دو سے تین سال بعد میرے پاس اتنا کام ہوگیا کہ مجھے گھر میں تین مشینیں مزید لگانا پڑیں اور ساتھ کام کیلئے لڑکیوں کورکھنا پڑا۔ میری بچیاں اچھے کالجز میں جانا شروع ہوگئیں بیٹے کا داخلہ بھی اچھے کالج میں ہوگیا۔ یہ وظیفہ جاری تھا کہ بیٹیوں کیلئے ایسے ایسے بہترین جگہ سے رشتے آئے کہ میں خود حیران پریشان کہ یہ سب کیا کرشمات ہورہے ہیں؟ آپ یقین جانیے ہمارے علاقہ میں ایک بنگلہ ہے جن کاکپڑے کارخانہ ہے

‘ انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے میری بیٹی کا ہاتھ خود گھر آکر مانگا اور بیٹا بھی ایسا شریف کہ جس کی تعریفیں ہر چھوٹا بڑا کرتا ہے۔ ان کے ساتھ علاقے کے چند معززین بھی آئے اور یوں میری بیٹی ایک چھوٹے سے گھر سے نکل کر ایک بنگلہ میں بیاہی گئی۔ اسی طرح باقی دو بیٹیوں کے رشتے بھی بہت اچھے گھرانوں میں ہوچکے ہیں۔ بیٹے کی پڑھائی جاری ہے۔ آج شہر کے پوش علاقے میں میری بوتیک ہے‘ہر طرف سکون ہی سکون اور برکت ہی برکت ہے۔ وظیفہ الحمدللہ اب بھی جاری ہے‘ میرا کیا میری جو بیٹی بیاہی گئی وہ بھی یہ وظیفہ آج بھی صبح و شام اپنے گھرمیں کرتی ہے اور گھر میں اس کی نہایت عزت ہے۔ قارئین! یہ وظیفہ نہیں دولت کے ڈھیر لگانے کا فارمولہ ہے۔ آج تک جس دکھی نے بھی آزمایا اللہ نے اس کے گھر پر کرم کی بارش برسادی۔عمل یہ ہے: صبح و شام اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر درمیان میں آٹھ سو مرتبہ (یعنی آٹھ تسبیح)بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ِپڑھیں۔ حضرت حکیم صاحب! یہ تو صرف میں نے اپنی کہانی بیان کی ہے اس وظیفے کے میرے پاس ان لوگوں کے بے شمار تجربات و مشاہدات ہیں جن کو میں نے یہ عمل بتایا۔ بیٹے کی پڑھائی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں