Sikandar hayat

212

سردارسکندرحیات خان نےاپنےپاؤں پرکلہاڑی چلادی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) سابق صدر،وزیراعظم آزاد کشمیر اور سینئرمسلم لیگی رہنما سردارسکندر حیات نےاپنی پارٹی کی قیادت کےخلاف پے در پے محاذ کھول کر اپنےپاؤں پرکلہاڑی چلادی۔
تنقیدکانشانہ بننےوالی قیادت کی خاموشی اختیارکرنےکی پالیسی نے سردارسکندرحیات خان کی شہرت کاگراف گرادیا۔

چوہدری برجیس طاہر

بزرگ لیگی رہنماسردارسکندرحیات خان اور انکے بھائی سابق ممبر کشمیر کونسل سردارنعیم نے پہلے پہل وزیر امور کشمیربرجیس طاہر پرکرپشن کےسنگین الزامات عائد کئےاورکہاکہ وزیرامورکشمیر تیس فیصدکمیشن لیتےہیں۔ان الزامات کی بازگشت ابھی ختم نہ ہوئی تھی کہ سردارسکندرحیات خان نے آزاد کشمیرکےاولین روزنامہ جموں و کشمیر کے چیف ایڈیٹر عامرمحبوب اورایڈیٹرشہزاد راٹھور کو دیئے گئے ایک طویل انٹرویو میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ کےسربراہ سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف کے دست راست مسلم لیگ کے مرکزی ترجمان سینیٹرڈاکٹرآصف کرمانی کےخلاف بھی محاذکھول دیا اور ان پرکرپشن کےسنگین الزامات سمیت تنقیدکےنشتربرسائے۔

راجہ فاروق حیدر

سردارسکندرحیات کی تنقید اور الزامات کےجواب میں پہلے برجیس طاہر اورپھرراجہ فاروق حیدر سمیت ڈاکٹرآصف کرمانی نےوزراء اورایم ایل ایز کو ہدایت کی کہ وہ جواب نہ دیں اور خود بھی خاموش رہنے کو ترجیح دی تاہم مسلم لیگی کارکنان حتیٰ کہ دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی وسماجی لوگوں نے سردارسکندرحیات خان کے الزامات اورتنقید پرسخت برامنایااورالٹا سردار سکندرحیات پرالزامات لگادیئے کہ وہ ذمہ داران پرتنقید ذاتی مقاصد کیلئےکرتےہیں۔انہیں پارٹی ورکرز یا ریاست کاغم نہیں ھے۔حتیٰ کہ اپوزیشن پارٹی پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے بھی سردارسکندرحیات کو آڑے ہاتھوں لیا اورانہیں بھتہ خورقرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو جب بھتے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بولتے ہیں اورجب بھتہ مل جاتا ہے تو وہ خاموش ہوجاتے ہیں۔

سید آصف کرمانی

سابق وزیراعظم سردارسکندرحیات خان کے حکومتی ذمہ داران پر الزامات اور تنقید پر عوامی ردعمل کا بغور جائزہ لینے والے سول سوسائٹی،صحافت۔سیاست اور وکالت میں سرگرم سرداربشیراحمد،راجہ عبدالغفار،شہزاد خان۔نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ،کاشف میر،کامران احمد،خرم گردیزی،راجہ شجاعت۔عطا عباسی،چوہدری علی احمد اوردیگرنے سٹیٹ ویوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سردارسکندر حیات بارے زمینی حقائق کھل کر سامنے آئے ہیں۔لوگوں سے نکیال خاندان کا سیاسی رشتہ اب تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

سردار فاروق سکندر

گو کہ سردار سکندر حیات کےفرزند سردار فاروق سکندر موجودہ حکومت میں وزیرہیں مگر وہ لوگوں میں مقبول نہیں ہیں جبکہ انکی جگہ عام لوگوں میں راجہ فاروق حیدرکی شہرت اور انکے لئےہمدردی کاگراف بلند ہوا ہے۔واضع محسوس ہورہا ہے کہ عمر کے اعتبار سے بھی سردارسکندر حیات کے فالورز کی تعداد بتدریج کم ہوئی ہے جبکہ متنازعہ بیانات کی وجہ سے مسلم لیگ کی پارٹی قیادت کے روبرو بھی وہ متنازعہ ہوکررہ گئے ہیں۔ان حالات میں کسی قسم کا پارلیمانی ایڈونچر انکے اپنے لئے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں