sexual harrasment

152

لڑکیوں کوہراساں کرنےوالا208 لڑکوں کاوٹس اپ گینگ بےنقاب کردیاگیا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) صبغت نامی سوشل میڈیا صارف نےلڑکیوں کوہراساں کرنےوالا دو سوآٹھ لڑکوں کا گینگ بےنقاب کردیا۔

صبعت نے اپنی فیس بک وال پر لکھا ہے کہ

ہم لوگ شرمین کی بہن والی ہراسمنٹ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن ایک عام سی یونیورسٹی میں پڑھنے والی ایک عام سی لڑکی کی کہانی سنیئے۔

ان تصاویر کو دیکھیں ان میں بظاہر یہ ایک عام سا نظر آنے والا لڑکا ہے لیکن اس نے اسی عمر میں بڑے بڑے بدمعاشوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اس کے اپنے کہے کے مطابق ان کا دو سو آٹھ لڑکوں کا وٹس ایپ گینگ ہے۔ یہ لڑکیوں کو پھنساتے، ہراسمنٹ کرتے اور بلیک میل کرتے ہیں۔

میں نے اس کا نمبر فیس بک میں ڈال کر اس کا فوٹو لیا ہے۔اس لڑکے نے ہماری ایک کامریڈ کو وٹس ایپ میں میسج کیا کہ پانچ منٹ کے اندر میرے ساتھ چیٹ کرو ورنہ ہمارا دو سو آٹھ لڑکوں کا ایک گروپ ہے اس میں تمہارا نمبرڈال دوں گا۔

اس لڑکی نے جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد اس کو انجانے نمبروں سے کالیں آنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ تم کس کس کو بلاک کرو گی، بہتر یہی ہے کہ میرے ساتھ دوستی کر لو۔

اب اٹھتے بیٹھتے کال آ رہی ہے، ایک نمبر بلاک کرتی ہے تو دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر سے کال آ رہی ہے کہ ہمارے ساتھ دوستی کرو۔

وقت کا بھی کوئی حساب نہیں ۔ایک کال فجر کے وقت آتی ہے تو دوسری تہجد کے وقت۔ کوئی کھانا کھاتے سمے تو کوئی کلاس میں۔
ان تصویروں میں ان نمبروں کی لسٹ ہے جن کو بلاک کیا گیا ہےلیکن یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔

اس لڑکے نے اس لڑکی کو دھمکیاں دیں اور اس کو فیس بُک پر فرینڈ ریکوسٹ بھیجی۔ جس کو اس نے قبول نہیں کیا۔ اس کو دھمکی دی گئی کہ تمہاری فیس بُک ہیک کر لوں گا۔ اس دھمکی پر بھی اس لڑکی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نتیجتاً ایک دن اس کی فیس بُک چلنی بند ہو گئی۔

خیر ہیک اس نے کیا کرنا تھا۔ بہت بار ٹرائی کرتا رہا ہو گا کھولنے کی۔ فیس بُک والوں نے بند کر دی۔اب لڑکیوں نے فیس بُک کسی اور سہیلی سے بنوائی ہوتی ہے، اس کی ای میل صرف فیس بُک کے لئے بنائی جاتی ہے اور اس کے بعد پاس ورڈ بھلا دیا جاتا ہے۔ جس نے بنائی اس نے ریکوری میل میں اپنی میل دے دی، جس کا پاسورڈ بھی بھلا دیا گیا تھا۔ تو فیس بُک تو بند ہونا ہی تھی۔

خیر ایک سٹوڈنٹ کی فیس بُک میں ہو گا بھی کیا، اس نے نئی بنا لی اور جب مجھے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی تو مجھے غصہ آیا کہ پہلے ان فرینڈ کیوں کیا تھا جو اب پھر سے ریکوسٹ بھیج دی۔

حالانکہ لڑکی میری سٹوڈنٹ بھی ہےلیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس نے یہ سب ایک ماہ تک برداشت کیا اور کسی کو بتایا تک نہیں۔

حالانکہ یہ لڑکی ہماری میٹنگز میں آتی جاتی ہے، اور اس کو عام لڑکیوں والا کوئی ڈر خوف نہیں تھا لیکن پھر بھی اس نے کسی کو اس ھراسمنٹ کا بتانا شاید ضروری نہیں سمجھا یا شاید معیوب سمجھا کہ لوگوں کو پتا چلے گا تو کیا ہو گا کہ اس ایک لڑکی کو اتنے لڑکے تنگ کرتے رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ ماں باپ کہیں گے کہ فون بند کر دو۔ وٹس ایپ نہ استعمال کرو یا ایسے ماں باپ بھی ہو سکتے ہیں جو کہیں یونیورسٹی چھوڑ دو اور سیدھے سے گھر بیٹھولیکن جو لڑکیاں کامریڈز نہیں یا لبرل نہیں یا جن لڑکیوں کا لوگوں سے اور آدمیوں سے میل جول نہیں جو یونیورسٹیوں میں نہیں پڑھتیں۔ وہ بھلا کیا کرتی ہیں؟

میں نے دیکھا ہے۔ میں نے سنا ہے۔ مجھے چند ایک کیسوں کا علم ہے۔ جو ایسے لڑکوں کو خدا، رسول کے واسطے دے کر سمجھا رہی ہوتی ہیں کہ بھائی ایسے نہ کرو۔ ۔ ۔ بھائی ویسے نہ کرو۔ ۔ ۔ نتیجہ؟

ایسی لڑکیاں ہی ان جیسے لڑکوں کے لئے آسان شکار ثابت ہوتی ہیں۔
میں نے اس لڑکے کا نمبر فیس بُک میں ڈالا تو اس کی یہ تصویریں سامنے آئیں جو کہ اس لڑکی نے پہچان لیں کہ یہی تھا وہ اوباش۔ اب اس لڑکی کی ای میل کو دیکھا تو اس کو سیالکوٹ سے کسی نے کھولا تھا۔ جب اس لڑکے کے فیس بُک کے اباؤٹ میں دیکھا تو اس کا پتا ڈسکہ سیالکوٹ ہی کا تھا۔

اب میں نے ان سب نمبروں کو جو مجھے اس نے بھیجے تھےجو اس کی بلاک لسٹ میں تھے، فیس بُک پر دے دیا ہے۔ ان میں سے جس کا نمبر بھی فیس بُک پر ڈالیں، اس کی اگر فیس بُک آئی ڈی ہو تو سامنے آ جاتی ہے۔

اصلی پہلے والا وہ اوباش تو یہی فرحان میو نامی لڑکا ہےلیکن باقی دو سو سات لڑکے کون ہیں، ان کا وٹس ایپ کا مذکورہ گروپ کیا کام کرتا ہے۔ کس کس طریقے سے یہ معصوم نظر آنے والے لڑکے جو کہ پنجاب کالج سے تعلق رکھتے ہیں، لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

آیا کہ ان کی یہ ہراسمنٹ “کامیاب” بھی ہوتی ہے یا پھر صرف تنگ کرنے تک محدود ہے۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔

میں نے اکیلے کُڑھنے کی بجائے آپ سب سے شیئر کر دیا ہے۔ سب مل کر دیکھیں کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے معصوم بچے کیا گُل کھلا رہے ہیں۔ ایک دو نہیں، دوسو آٹھ لڑکوں کا گینگ۔ یہ کوئی چھوٹی دھمکی بھی نہیں ہے۔ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

ایسی شکلوں کے لڑکے ڈکیتیاں بھی کرتے پکڑے جاتے ہیں اور ریپسٹ بھی ہو سکتے ہیں۔

میری تو سب لڑکیوں سے اپیل ہے کہ ایسی کسی بھی ہراسمنٹ کی کوشش کو ہرگز ہرگز نہ چھپائیں۔ سب کے سامنے رکھیں۔

اپنے ماں باپ کو بتائیں۔ ورنہ فیس بُک پر یا اپنی یونیورسٹی یا کالج کے سب اساتذہ کو بتائیں۔

اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں اور ماں باپ سے التماس ہے کہ اپنی بچیوں کے مسائل کو اس طرح سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ بچیاں ہر بات آپ سے کریں اور لڑکوں کے والدین سے بھی یہی گزارش ہے۔ اپنے لڑکوں کو دھیان سے رکھیں۔ ان کی سرگرمیوں کی خبر رکھیں۔ وہ کیا کرتے ہیں۔ضروری نہیں کہ آپ کے لڑکے مجرم ہی ہوں۔ بعض اوقات لڑکے خود شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

کیا کیا جائے؟ میں ان کو سائبر کرائم والوں کو بھی نہیں دینا چاہتا۔ کیوں کہ یہ اپنی طرف سے شاید معمولی سا ایڈونچر کر رہے ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ پکے مجرم ہوں۔ خیر ان لوگوں کا سب کو علم ضرور ہونا چاہیئے۔ اپنی سی کوشش میں نے کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں