23

ایک ایسا ملک جہاں طلاق پر جشن منایا جاتا ہے

لاہور(سٹیٹ ویوز) اسلام میں طلاق کو حلال بنایا گیا ہے لیکن اللہ کے نزدیک یہ حلال کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ کام ہے۔ بیشتر اسلامی معاشروں میں طلاق کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ طلاق کی صورت میں لڑکی کے گھر والوں پر ایک سوگ کی کیفیت طاری ہوتی ہے مگر اسلامی جمہوریہ موریتانیا میں ایسا نہیں ہوتا۔موریتانیا مغربی افریقہ کا ایک ملک ہے اور یہاں کی اکثریت مسلمان ہے۔ یہاں پر اگر کوئی خاتون اپنی شادی سے خوش نہیں ہوتی تو وہ طلاق لے کر اپنے والدین کے گھر واپس جا سکتی ہے جہاں اس کی آمد کی خوشی میں ایک جشن منایا جاتا ہے جسے طلاق کا جشن کہا جاتا ہے۔موریتانیا میں شادی کے ساتھ ساتھ طلاق پر بھی اسی جوش و خروش سے جشن منایا جاتا ہے۔

طلاق یافتہ عورت کو معاشرے میں زیادہ عزت دی جاتی ہے اور گھر کے اہم معاملات میں اس کے مشوروں کو مقدم رکھا جاتا ہے۔ ایک مطلقہ عورت، حیات حسینہ کے مطابق طلاق کے اس جشن میں مطلقہ عورت کو دوبارہ سے گھر میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس جشن کے ذریعے مطلقہ عورت کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اُس کے اِس فیصلے میں اُس کا خاندان اُس کے ساتھ ہے۔انہوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ جب وہ طلاق لے کر گھر آئی تو ان کے والدین نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور انہیں دودھ کے ساتھ کھجوریں کھانے کے لیے پیش کیں۔ اس موقع پر ان کی دوستوں کو بھی بلایا گیا تھا جن کے ساتھ مل کر انہوں نے رقص بھی کیا۔ایک اور خاتون فاطِمتو داہ کا کہنا تھا کہ اس جشن کا مقصد سابقہ شوہر کو نیچا دکھانا نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف اور صرف عورت کو آگے بڑھنے کی تحریک دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی عورت کی زندگی طلاق لینے کے بعد ختم نہیں ہو جاتی۔ وہ دوبارہ شادی کر سکتی ہے اور اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں