33

دہشت گرد

شرکاء جلوس کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کیلئے فیض آبادکے مقام پر پولیس تعینات تھی شرکاء جلوس پولیس کافی دیر سے آمنے سامنے کھڑے تھے اسی اثناء میں ڈیوٹی پر مامور پولیس آفیسر نے سامنے کھڑ ے شرکء جلوس کو کوسنا شروع کردیا کہنے لگا تم لوگوں کی وجہ سے لوگوں کے راستے بند ہیں تم راستے بند کرکے اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کررہے ہو تمہیں جب کوئی اوربہانہ نہیں ملتا تو مذہب کے نام پر جلوس نکالنا شروع کردیتے ہو کل راستہ بند ہونے کی وجہ سے ایک بچہ ایمبولینس میں ہی ہلاک ہوگیا اب تم بتاؤکہ تم آج کل کس کے ہاتھ میں کھیل رہے ہو؟شرکاء جلوس پولیس آفیسرکی باتیں سنتے رہے آخرایک صاحب بول اٹھے “تھانیدار صاحب” !آپ ٹھیک کہتے ہو جب ہم ریاست کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں تو ڈالر بھی ملتے ہیں اورسرکاری سرپرستی بھی اورتم ہمار ے بچوں کو ورغلا کر امریکی جنگ کا ایندھن بناتے ہو تو ہم “مجاہدین اسلام بن جاتے ہیں لیکن جب ہماری ضرورت نہیں رہتی یاہم پرپُرزے نکالنا شروع کردیتے ہیں تو ہم شرپسند اوردہشت گرد بن جاتے ہیں تھانیدارصاحب! جنہوں نے تمہیں یہاں روکنے کیلئے بھیجا ہے جاؤان سے پوچھ آؤکہ ہم دوبارہ مجاہدین اسلام کب بنیں گے؟سناہے کہ وہ پولیس آفیسر دودن سے ڈیوٹی پر حاضرنہیں ہواہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں