آزاد آدمی/سید فیصل علی

51

لا علاج حادثے، کنٹینرزآباد سے براہ راست

علاج تب ہی میسر یا ممکن ہو سکتاہے جب تک کہ اس کی پیچیدگیاں معالج کی دسترس میں ہوں ، ایسی دوائیں یا وسائل دستیاب ہوں کہ جن سے مرض کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور بالآخر اسے ختم کر کے ہی دم لیا جائے ۔ اس سارے عمل کو علاج سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔۔ لیکن اگر علاج کی صورت یہ چارہ سازی بھی میسر نہ ہو تو مریض سے معذرت کر لی جاتی ہے ، مرض لاعلاج قرار دیا جاتا ہے کہ ، جایئے آپ کا مرض لاعلاج ٹھہرا، لہذا آپ کا اللہ نگہباں ہے ۔

گزشتہ چند روز سے ایسی ہی لاعلاج سی صورتحال راولپندی اسلام آباد میں پائی جارہی ہے ۔ وجہ مذہبی جماعتوں کا جڑواں شہروں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر اپنے مخصوص مطالبات کے حق میں دھرنا ہے ۔۔گزشتہ چند روز سے جڑواں شہروں کے کچھ انتہائی مصروف حصوں میں آدھی صدی پیچھے کا زمانہ چل رہا ہے.. نہ رابطے ہو پارہے ہیں نہ سواری ہی میسر ہے البتہ شہر کی اندرونی گلیوں میں خوب رش لگتا ہے… ان سارے عوامل کے پس پشت کچھ نعرے اور تقریریں ہیں، جو جڑواں شہروں کی مرکزی شاہراء سے یکے بعد دیگرے مختلف اوقات میں ایک پر ہجوم مجمعے سے سنائی دیتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس ساری صورتحال سے نمٹنے کے لئے بندوق بردار پہلے ہی شہر کے حساس حصوں میں تعینات کیے گئے تھے ، شاہرات کو کنٹینرز سے ایک بار پھر سجایا گیا ۔ ہجوم کی پیش قدمی کو محدود کرنے اور ہجوم کی تعداد مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے شہر کے مخصوص حصوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسرز محدود کر دی گئی ہیں۔اس سب سے کچھ اور تو نہیں البتہ عام شہریوں کی زندگی خوب مفلوج ہو کر رہ گئی.جڑواں شہروں میں نقل و حرکت کرنے پر خوب مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سرکاری میٹرو بس سروس بھی پہلے جزوی اور پھر مکمل معطل ہے۔

ماضی میں اس نوعیت کا بحران دیکھنے کو تو خیر ملا ہی ہے لیکن شہر کے مرکزی حصے شاید پہلے اس قدر متاثر نہ ہوئے تھے۔ ایسے دھرنوں اور احتجاجی سلسلوں میں حادثات ہونا تو خیر ان کا خاصہ ہوا کرتا ہے ۔اس بار بھی ایسا ہو رہا ہے ۔ ہجوم کی آویزش سے اور مستقل شہر کی اس مرکزی شاہراہ کو مفلوج کر دینے سے کئی اور حادثات ہو چکے ہیں سنا ہے کوی بچہ ایبولینس میں ہی دم توڑ گیا.. سرگودھا کے رہائشی محمد بلال کا آٹھ سالہ بچہ حسن بلال اسی بندش میں راستہ نہ ملنے کے باعث بر قت ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے انتقال کر گیا۔. راستہ نہیں دیا گیا .کہ اسلام کی آبیاری کے واسطے آپ بھی مریں … ہم. بھی کھڑے ہیں ..نہیں ہٹیں گے.

گزشتہ ماہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف میں ترمیم کی گئی تھی جس پرملک کی مذہبی جماعتیوں سمیت دیگر عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کیا تھا،، عوام کی جانب سے بھرپور رد عمل پر اس ترمیم کو واپس لے لیا گیا تھا ، تاہم اس کے بعد بھی ملک میں ختم نبوت کے عنوان سے اجتماعات منعقد ہوتے رہے اور حکومتی اقدام کی بھرپور مزمت کیجاتی رہی ،،اسی تسلسل میں تحریک لبیک یا رسول اللہ اور سنی تحریک کے کارکنان انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف میں کی گئی ترمیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب ان کا مطالبہ یہی ہے کہ جن احباب کیجانب سے اس ترمیم کی صلاح دی گئی یا ترمیم کی گئی ان کے خلاف کاروائی کی جائے ،، جبکہ حکومت اس معاملے کو لے کر خاموش سی نظر آتی ہے ۔

مذہبی جذبات کے پیش نظر مذہبی جماعتوں کا یہ مطالبہ جائز ہو سکتا ہے لیکن احتجاج کی یہ صورت قطعی جائز نہیں ہے . نظام زندگی مفلوج ہونے سے جا بجا حادثات جنم لے رہے عام شہریوں کی نقل و حرکت محال ہو چکی. اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک آٹھ سالہ ننھی زندگی اس احتجاج کی نظر ہوچکی۔ حکومت کی جانب سے آج تک اسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی کہ ملک میں ایسی بحران کی کیفیت میں کیسے نمٹا جائے اور بالاخصوص عام شہریوں کی زندگی جس سے متاثر ہو. سڑکوں کو بند کرنے سے ، شہروں کو مفلوج کرنے سے مطالبات منوا بھی لئے جائیں لیکن اس سارے بحران میں جو حادثات جنم لیتے ہیں کیا ان کی چارہ سازی میسر ہو سکتی ہے، ان امراض کا کوئی علاج ممکن ہو سکے گا جو بحرانی کیفیت میں شہروں کو لگ جاتے ہیں۔ نفرتوں کا ایک تسلسل ، ہیجانی کیفیات، اور بہت سارے مافیا ایسے صورتحال میں ہی جنم لیتے ہیں۔ مجبوریوں کا تسلسل تو ہوتا ہی ہے ایسے میں اگر شاہراہیں بند ہوتی ہیں تو متبادل ذرائع بھی مہیا ہوتے ہیں یا پیدا کر لئے جاتے ہیں، جہاں ٹرانسپورٹ مافیا کا طوطی بول رہا ہوتا ہے اور مجبوریوں میں ملوث ابن آدم کے پاس کوئی چارہ سازی میسر نہیں ہوتی.

اپنا ایک رونا رو کر اجازت چاہوں گا کہ ۔۔۔ موبائل کنکشن کی بندش کے سبب میں اپنے کچھ عزیزوں کو بروقت نا پا سکہ… تلاش گمشدہ کی طرح ایک آدھ گھنٹہ ڈھونڈنے پر ان تلک پہنچا…. یہ کوئی شاید زیادہ انہونی نہیں ہے..لیکن بے شمار لاعلاج حادثے آئے روز اس بحرانی کیفیت میں یہاں وقوع پذیر ہو رہے ہیں..,.جو لاعلاج ہیں۔۔ احتجاج اور دھرنوں کی صورت میں حکومت کی جانب سے متبادل راستے تو وضع کر دیے جاتے ہیں لیکن بروقت اور مناسب سواری میسر نہ ہونے کے باعث جو چاندی ۔۔ مافیا لوگوں کی ہوتی ہے اس کا کوئی علاج ہے۔۔ نہیں ۔۔۔ لاعلاج ہے یقینی طور پر..,
چارہ سازوں کی چارہ سازی سے درد بدنام تو نہیں ہو گا
دوا دو مگر یہ تو بتلا دو مجھے آرام تو نہیں ہو گا
(جون ایلیا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں