20

ای کامرس پالیسی 2 سال میں بھی تیار نہ کی جاسکی

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)وزارت تجارت حکام کی عدم توجہ کے باعث گزشتہ 2 سال سے ای کامرس پالیسی فریم ورک تیار نہ کیا جاسکا جب کہ پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں ایف بی آر حکام کی جانب سے ٹیکسوں کے امور سے متعلقہ ڈرافٹ بھی پیش ہی نہیں کیا گیا۔

گزشتہ 2 سال سے ای کامرس پالیسی کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور ابھی تک تمام شراکت داروں کی جانب سے تجاویز بھی نہیں دیں۔ ذرائع نے بتایاکہ ا ی کامرس پالیسی کی تیاری کے لیے ایف بی آر کی جانب سے اس ضمن میں تاخیر کی جا رہی ہے اور ٹیکسوں کے امور وای ٹرانزیکشنز کے حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے ابھی تک تجاویز فراہم نہیں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر دسمبر 2015 میں ای کامرس فریم ورک کے بارے میں وزارت تجارت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ای کامرس کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔

ای کامرس پالیسی کی تیاری کے سلسلے میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب ریگولیٹری فریم ورک، اسٹیٹ بینک کی جانب سے ای پیمنٹ رپورٹ اور لاجسٹکس کے حوالے سے وزارت مواصلات کی جانب سے تجاویز فراہم کردی گئی ہیں جبکہ نجی شعبے کی جانب سے بھی ای کامرس کے حوالے سے تجاویز وزارت تجارت کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اب تک موصول ہونے والی تجاویز میں انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشن ٹیکنالوجی انفرااسٹرکچر کی شمولیت، ای سگنیچرزاور ای کنٹریکٹنگ شامل ہیں۔

ملک میں اس وقت ای ٹرانزیکشنز پر ٹیکسوں سے متعلق کوئی مخصوص قوانین موجود نہیں اوراس حوالے سے مختلف تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سروس سیکٹر میں کام کرنے والی تمام کمپنیوں پر 6فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی نافذ کیا جات اہے چاہے وہ آن لائن یا آف لائن کام کر رہی ہوں، ان کمپنیوں سے12فیصد انکم ٹیکس وصول کیاجاتاہے، اس کے ساتھ آن لائن ٹرانزیکشنز پر صوبائی حکومتیں بھی ٹیکس وصول کرتی ہیں، سندھ میں آن لائن ٹرانزیکشنز سے 13فیصد سندھ سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں