Raja Nazie sikandar

520

راجہ نذیرخان نے سکندر حیات کی کرپشن کے نئے باب کھول دیئے

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)مسلم لیگ نواز آزادکشمیر کی مجلس عاملہ کے سینئرممبر اور رنگلہ سے تعلق رکھنے والے اولین سیکریٹری آزاد حکومت راجہ محمد نیاز خان مرحوم کے چھوٹے بھائی راجہ نذیر خان نے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندرحیات کوالزامات پرکرارا جواب دیدیا۔

انہوں نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر نہیں بلکہ سردارسکندر حیات خان مسلم لیگی کارکنوں پر اللہ کا   عذاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر مال وٹرانسپورٹ سردارسکندر حیات خان نے کرپشن کی جس پر انکے خلاف احتساب ٹریبونل میں کیس چلا جہاں راجہ محمد نیاز خان نے بطور گواہ گواہی دی اور سکندر حیات کی کرپشن کو جو تحریری طور پر موجود تھی آشکار کیا۔

سردارسکندر حیات کو اس بات کا غم تھا اس لیے انہوں نے بہانہ بنا کر راجہ محمد نیاز خان کو وقت سے پہلے ریٹائرڈ کیا۔عدالت عظمیٰ اور دیگر عدالتوں نے اس حکم کو بد دیانتی پر مبنی قرار دیکر منسوخ کیااور راجہ محمد نیاز خان کو جملہ تنخواہ ومراعات کیساتھ پیرانہ سالی مکمل ہونے پر ریٹائرڈ کیااس لیے سکندر حیات کا یہ اظہار کہ راجہ محمد نیاز خان کو کرپشن کرنے پر ریٹائرڈ کیا خلاف حقائق ہے۔

راجہ نذیر خان کا کہنا ہے کہ اگر کرپشن کے کوئی چارجز ہوتے تو عدالت میں پیش کیے جاتے .سکندر حیات نے راجہ محمد نیاز خان کی وفات پر سر عام سینکڑوں افراد کی موجودگی میں یہ اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے غلط فہمی کی بناء پر راجہ محمد نیاز کیساتھ زیادتی کی تھی .اس بات کے گواہ سینکڑوں لوگ آج بھی زندہ ہیں۔

انہوں نے سکندر حیات سے سوال کیا ہے کہ اگر راجہ محمد نیاز خان اتنے ہی کرپٹ تھے تو آپ ان کی وفات پر رنگلہ کیا لینے گئے تھے؟

راجہ نذیر خان نے کہا کہ سکندر حیات آزادکشمیر میں کرپشن کے بانی ہیں۔انھوں نے کرپشن کا آرگنائزڈ نظام بنایااور چھوٹی سطح سے وزیر اعظم تک رشوت ستانی، بددیانتی اور بے ایمانی کو فروغ دیا.آزادکشمیر میں لاکھوں افراد عینی شاہدین ہیں کہ میر پور ترقیاتی ادارہ میں پلاٹوں کا بازار سکندر حیات نے گرم کیا؟وزیر اعظم کا کوٹا کس نے کن کن افراد کو بیچا؟محکمہ جات ورکس،لوکل گورنمنٹ ،زکوٰت ،منافع فنڈ ،ہائیڈل بورڈ اور ریاست کے ہر ایک محکمہ میں لوٹ مار کس نے کی؟ اگر چیف سیکرٹری رکاوٹ نہ کرتے تو سکندر حیات کا دور ریاست کا کرپٹ ترین دور ہوتا۔ اختیاری فنڈ کی رقوم کس نے ہڑپ کیں یہ سب کچھ فائلز میں موجود ہے۔

سکندر حیات کے پاس کوٹلی میں ایک نوپختہ گھر تھا کیونکہ وہ وکالت میں کوئی نام نہ کماسکے تھے .پہلے جب وہ وزیر اور بعد میں وزیر اعظم بنے تو کریلا مجہاں نکیال ،کوٹلی ،اسلام آباد ،راولپنڈی کھنہ اور مظفر آباد میں کروڑوں روپے کے بنگلے بنائے۔سکند رحیات کی ساری تنخواہ اورمراعات بھی جمع کر لی جائیں تو کوٹلی کا بنگلہ نہیں بن سکتا.نکیال میں سینکڑوں کنال خالصہ پر کس نے ناجائز قبضہ کیا اور سینکڑوں دوکانیں،شاپنگ پلازے اور پٹرول پمپس سکندر حیات نے بنائے ۔سکندر حیات کی کرپشن کو ممتاز حسین راٹھور وزیر اعظم وقت نے آشکار کیا تھا اور بوستان کمیشن کی رپورٹ میں اس وقت تک کی کرپشن کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔

راجہ نذیرخان کاکہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کو فتح محمد خان کریلوی کے سیاہ کرتوت بھی نہیں بھولے اور ان کی مشہور واسکٹ بھی لوگوں کو یاد ہے۔سکندر حیات کی عمر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی ہے مگر ان پر اللہ کا عذاب ہے وہ اس عمر میں بھی دوکانوں اور پلازوں کی تعمیر کے لیے لوگوں سے سامان مانگتے ہیں۔ وہ شخص جو اپنے عظیم محسن اور قائد سردار عبدالقیوم خان کی وفات پر کھل کر اظہار تعزیت بھی نہ کر سکا اس کی احسان فراموشی ،بے ادبی اور کذب بیانی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا؟

انہوں نے کہا کہ فاروق حیدر حکومت کاایشو نہیں بلکہ سکندر حیات کا مسئلہ ہے اور وہ بھی صرف پیسے کا ہے جب انکو کو مال مل جائے گا تو وہ حکومت کی بھی حمایت شروع کر دیں گے۔اخبارات کے ذریعے وہ اس لیے نوٹس نما بیانات دیتے ہیں ہے تاکہ مال پہنچایا جائے۔
سکندر حیات کی بداعمالیوں کے گواہ تو انکا بیٹا طارق سکندر ایڈووکیٹ ہے جو کھلے عام انکے کارنامے بیان کرتا ہے .سکندر حیات خود کوبڑے منتظم سمجھتے ہیں اگر ان کے غیر قانونی احکامات کو دیکھنا ہو تو جو غلط اور خلاف قانون احکامات انہوں نے دیئے اور چیف سیکرٹری نے ان پر عمل کے بجائے انہیں رد کر دیا بڑی تعداد ہی کافی ہے.

سکندر حیات کا دوسرا دور حکومت تو فوجی مانیٹرنگ کے باعث بے اختیار دور تھا مگر اس کے دوران بھی اس کے اثاثہ جات میں بے شمار اضافہ ہوا ہے.قومی پریس کو سکندر حیات کی جائیداد اورجائز ذرائع آمدن کو سامنے لانا چاہیے تاکہ اس کے خلاف نا جائز اثاثہ جات کا ریفرنس سامنے آسکے۔

راجہ نیاز کی زندگی میں سکندر حیات نے ایسا کوئی الزام نہیں لگایا کہ وہ ان کو موثر جواب دے دیتے. یہ اخلاق باختہ شخص ہیں ایک محروم شخص کے خلاف الزام تراشی کررہےہیں۔

راجہ نذیرخان نے مزید کہا کہ راجہ نیازخان سکندرحیات کے ساتھ ہی نہیں رہے بلکہ وہ کےایچ خورشید مرحوم۔غازی ملت سردارابراہیم خان مرحوم اور سردارعبدالقیوم خان مرحوم کے ساتھ رہے۔وہ انکی ایمانداری اورقابلیت کے گرویدہ تھے بس یہ سکندر حیات خان ہیں جنھیں وہ بددیانت نظرآئے اور انکی وفات پر سب کے سامنے معذرت کرنے کےبعد اب پھر انہیں یاد آگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں