نوشتہ دیوار/سردارعبدالخالق وصیؔ

41

سردار سبز علی خان وسردار ملّی خان میموریل کانفرنس

علماءو مشائخ کونسل آزاد جموںو کشمیر کے چیئرمین اور تاریخی دھرتی منگ کے سپوت مولانا عبیداللہ فاروقی اور ان کے رفقاءتبریک و تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سرزمین منگ میں انسانی تاریخ کے منفرد اور بے مثال شہداءسردار سبز علی خان و سردار ملّی خان اور ان کے دیگر رفقاءکی خدمات اور شہادت جلیلہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اس میموریل کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں آزاد جموںو کشمیر کی جملہ سیاسی و مذہبی ،سماجی جماعتوں کی قیادت اور مختلف مکاتب ِ فکر ، اربابِ حکومت، زعمائے ملت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اربابِ فکر ونظر کو مدعو کرکے اظہار خیا ل کا موقع فراہم کیا۔

سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان کے اسم ہائے گرامی اور ان کے فقید المثال کارنامے اور شہادت کے تذکرے تو نہ صرف آزاد جموںو کشمیر و پاکستان بلکہ دُنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں بھی ان کا تذکرہ ہوتا رہا ہے بالخصوص سابق صدر و وزیراعظم آزاد جموںو کشمیر سردار سکندر حیات خان اپنے مختلف ادوار حکومت و دورِ صدارت میں جب بھی بیرون ملک گئے

انہوں نے سردار سبز علیخان اور سردار ملی خان کی شہادت کا ضرور تذکرہ کیا بلکہ گذشتہ روزانہوں نے تحریک آزادیکشمیر کے نامور راہنما خان صاحب مرحوم کی56ویں برسی کے موقع پر پلندری میں منعقدہ اجتماع میں سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان کے ذکر سے اپنے خطاب کا آغاز کیا اور ماضی کا ایک واقعہ یاد کرایا کہ جب جنرل ضیاءالحق مرحوم پلندری کے دورے پر یہاں آئے تو ایک مقرر نے کہا کہ پلندری کی سرزمین اور اہلیان پونچھ خوش قسمت ہیں کہ آج جنرل ضیاءالحق یہاں آئے ہیں تو سردار سکندر حیات خان نے اپنے بحیثیت وزیراعظم خطاب میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ آج اس سر زمین پر کھڑے ہیں جہاں سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان کی ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے الٹی کھالیں اتاریں اور اس سرزمین کے باسیوں کی قیادت میں جنگ آزادی لڑی گئی اور آج آزاد جموںو کشمیر کا یہ خطہ تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے۔

مہاراجہ گلاب سنگھ جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ریاست جموںو کشمیر بشمول گلگت و اسکردو75لاکھ نانک شاہی میں خرید کر اس سرزمین کو اپنی جاگیر بنایا تھا انتہائی چالاک، سفاک، خود غرض اور ظالم حکمران تھا کہ اس نے سرزمین پونچھ بالخصوص کاہنڈی کے بسنے والے جری بہادر اور حق گو و بیباک سدہن خاندان کو سبق سکھانے اور ان کی سرکوبی کیلئے جب یہاں مظالم کا آغاز کیا تو اس خطے سے تعلق رکھنے والے سردار سبز علی خان و سردار ملی خان نے اپنے دیگر رفقاءو ساتھیوں سمیت اسے چیلنج کیا۔ ابھی معاہدہ امرتسر1846ءوجو د میں نہیں آیا تھا یہ1832/36کے دور کی بات ہے کہ گلاب سنگھ نے ان دوسرداروں اور ان کے رفقاءکو دیدہ عبرت بنانے کیلئے ایک درخت کیساتھ الٹا لٹکا کر ان کی زندہ کھالیں اتاریں ۔

کہتے ہیں کہ گلاب سنگھ کے بیٹے نے جب یہ منظر دیکھا تو اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا اس پر گلاب سنگھ نے اس کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم یہ دیکھ نہیں سکتے تو تم ان پر حکومت کیسے کرو گے۔

مہاراجہ گلاب سنگھ1792ءمیں کشورا سنگھ کے گھر پیدا ہوا اور1857ءمیں مرا۔ رنجیت سنگھ کے دربار میں 3روپیہ یومیہ پر رسالہ فوج میں بھرتی ہوا۔ انتہائی چالاک، عیار اور سازشی شخص تھا دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کرتے ہوئے اسے 12000روپے کی جاگیر کیساتھ90 گھوڑوں کی کمان اس کے حوالے کی گئی رنجیت سنگھ نے اپنے دور حکومت میں گلاب سنگھ کے والد کشورا سنگھ کو 1820 میں جموں کا والی مقرر کیا کشورا سنگھ1822میں انتقال کر گیا تو رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو جموں کی نگرانی سپرد کی اس کا اس نے فائدہ اٹھا کر اس علاقے کی بھاگ ڈور سنبھالنے کیلئے پڑوسی راجگان و والیان کیساتھ ساز باز کرکے اپنا اختیار بڑھاتا چلا گیا اور جب رنجیت سنگھ کی فوجیں دریائے جہلم کے کنارے کے اس علاقے کو جسے کاہنڈی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے پہنچی تو انہیں مزاحمت کا سامنا ہوا اور یہاں اس کے ایک کمانڈر لچھمن سنگھ کو تہ تیغ کر دیا گیا تو اس علاقے کو سر کرنے کیلئے گلاب سنگھ نے بھرپور حملہ کیا لیکن اس حملہ اور اس علاقے پر قبضہ کرنے میں سدہن مزاحم ہوئے اور اس جنگ و جدل میں بعض روایات کے مطابق16ہزار اور بعض کے مطابق25ہزارمرد وزن شہید و قیدی بنائے گئے جن کے سروں کے مینار اور قیدیوں کو جموں لے جایا گیا۔

سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان اور ان کے دیگر رفقاءنے اس موقع پر
1836ءمیں وہ تاریخی قربانی دی جس کی دُنیا کی آزادی کی تاریخوں میںکوئی مثال نہیں ملتی کہ اس طرح زندہ ان کی الٹی کھالیں اتاری گئیں ہوں یہی وجہ ہے کہ1836ءسے1832ءکے دور کو 185سال گذر گئے لیکن ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکا۔

ان قربانیوں کو اجاگر کرنے میں جہاں اہلیان کا ہنڈی نے کلیدی کردار ادا کیا اور 1947ءکی جنگ آزادی کی کامیابی کا سہرا ان کے سر ہے۔ آج اہلیان منگ بھی مبارک باد اور داد تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے آج اس عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کرکے نہ صرف آزاد جموںو کشمیر کے صدر سردار محمد مسعود خان اور وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کو یہاں مدعو کیا بلکہ جملہ سیاسی عمائدین و قائدین یہاں جمع ہوئے اور ان شہداءکے ایصال ثواب اور کارہائے نمایاں پر خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت جس کے قائد راجہ محمد فاروق حیدر خان ہیں یہ نہ صرف اس تاریخ کے مبلغ اور علمبردار ہیں بلکہ آج کے صدر سردار مسعود خان اس قبیلہ کے چشم وچراغ ہیں جن کی قیادت میں1947ءکے جہاد آزادی میں آزاد جموںو کشمیر کا یہ خطہ نصیب ہوا جو آج تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے۔

غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ آزادی جو مختلف مراحل سے گذرتے ہوئے 1832ءسے2017ءتک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اس میں نشیب و فراز آتے رہے کبھی حق ملکیت کی تحریک میں سردار بہادر علی خان نے ڈوگرہ مہاراجہ کو مجبور کیا کہ وہ یہاں کے لوگوں کے حق ملکیت کو تسلیم کرے۔ یہ طویل جدوجہد ہے جو ایک کالم میں محیط نہیں ہو سکتی۔ البتہ ہر دور میں مورخین اور ارباب قلم و سخن نے اس مشن کو زندہ رکھا اور انشاءاللہ اس دھرتی کے سپوت جو اس تحریک کے امین اور وارث ہیں اس کوبھارتی پنجہ استبداد سے آزاد کرانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں