Gun and gitar

37

گن سے گٹار تک

مقصود منتظر

بندوق کا ٹرِگر دبانے والی اُنگلی نے جب گٹار کے تار چھیڑے تو یقین نہیں ہوا کہ موت اُگلنے والی بندوق کی عادی یہ اُنگلی زندگی کا ساز بھی چھیڑ سکتی ہے۔

عاشق حسین بٹ

جب وہ گھر سے سر پر کفن باندھ کر نکلا تھااس وقت وہ کسی ریس میں شامل گھوڑے کی طرح صرف تیزدوڑناہی جانتا تھا۔وہ جذبۂ ایثار سے سرشار تھا اور منزل ِمقصود یامستقبل کے پیچیدہ سوالات کا ابھی سامنا نہیں کیا تھا۔قافلے میں وہ سب سے کم عمربچہ تھالیکن موت سے آنکھیں ملاکر جب وہ برف پوش پہاڑوں کا سینا چیرتا ہوا سب سے آگے نکلا تب سفر میں شامل ایک بالغ نظر ساتھی نے پیش گوئی کی کہ یہ ’’شرارتی بچہ‘‘ جہاں بھی جائے گاراستے پیار سے اس کا استقبال کریں گے۔

کئی دنوںکے سفرِمسلسل اور ٹھنڈی راتوں کو جھیلنے کے بعد جب وہ عارضی منزل پر پہنچا تب وہ سب کچھ کھوچکاتھا۔اس کے خالی اور معصوم ہاتھوں میںدلوں کو دہلانے والی بندوق آگئی۔ہواؤں میں اُڑنے والی عمر تھی ،اس لیے AK47 کی محبت نے اسے جلد پگھلادیا۔چونکہ اب بندوق ہی اس کا سرمایہ تھا لہذا وہ جلد کمال کا نشانہ باز بن گیا۔ بندوق کی گولی اوراس کی نظر ایک ہی ہدف کو نشانہ بنانے لگے۔

اداکار،گلوکار، موسیقی کار اور شاعر عاشق بٹ کا ایک دلکش انداز

دنیا کے حالات نئی کروٹ لے رہے تھے اور وہ عمرکی اس دہلیز پر پہنچ چکا تھاجہاں وہ منزل اور مقصدسمجھ گیا تھا۔ بندوق کے ساتھ بنے اس رشتے کے دس سال ہوچکے تھے کہ نائن الیون کے واقعہ نے دنیا کی پوری صورتحال بدل دی۔کرۂ ارض پربدلتی صورتحال عسکری محاز کے سرگرم عسکریت پسند کیلئے تبدیلی کا پیغام لائی۔کم تعلیم، اپنوں سے دُوری اور پردیس کی مجبوریوں نے اسے اس راستے پر لاکھڑا کیا کہ جن ہاتھوں میں کل تک بندوق تھی اب انہی ہاتھوں میںگِٹار آگیا۔

کل کا عسکریت پسند عاشق حسین بٹ اب راک سٹار بن چکا ہے۔پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کئی سرکاری اور نیم سرکاری تقریبات میں اپنے فنی مظاہرے سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے والاعاشق خونی لکیر کی دوسری جانب دم توڑتی کشمیری زبان کو بھی اپنی آواز کے جادوسے مزئین کررہا ہے۔اُردو اور کشمیری شاعری کا آمیزہ اور اُس پر سحرانگیز گٹار کی دُھن،گویا عاشق کا ادائے دلفریب آرپار کشمیریوں کے زخموں پر عارضی مرحم کا کام کرتی ہے۔عاشق گَٹار بجاتا ہے، خود گاتا ہے، موسیقی کار بھی خود اور اُس پر غضب یہ کہ گانوں کے اشعار خود اسی کے ہیں۔گٹار کے ساز اور شاعری کے سوز اور دلگداز آہنگ کا آمیزہ لے کر جب عاشق کسی محفل میں تار چھیڑ دیتا ہے تو سامعین کیف و سرور کی مسرتوں سے آسودہ ہوجاتے ہیں۔کسی کو یقین نہیں ہوتا کہ لمبے بال ، چست جینز اور جدید لہجے والا یہ راک سٹار کل تک کسی ایسے میدان کا شاہسوار تھا جہاں گن گولی اور موت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

آزادکشمیر کے یوم تاسیس پر کلچرل فلوٹ پر عاشق بٹ اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں

عاشق بٹ کاتعلق وادی کشمیر کے علاقہ ہندواڑہ سے ہے۔کشمیر میں مسلح جدوجہد کے دوران دیگر ہزاروں کشمیری کمسن لڑکوں کی طرح بلاخو ف وخطرعاشق بٹ بھی کنٹرول لائن عبور کرکے پاکستانی زیر انتظام کشمیر آگئے۔ میٹرک پاس کرتے ہی قلم سے رشتہ توڑ کر بندوق سے رشتہ جوڑا۔طویل عرصہ تک عسکریت سے جڑے رہنے کے بعد 2007میں زندگی کے اس شعبے سے وابستہ ہوگیاکہ جس کا اس نے سوچا تک نہیں تھا۔

وادی کشمیرکے اس اُبھرتے گلوکار اور اداکارعاشق بٹ سے پوچھئیے کہ اِن کی زندگی میں180ڈگر ی کی یہ تبدیلی کیوں کہ ہوئی تو لمبی مسکراہٹ بکھیر کر وہ لمبے بالوں کوہوا میں جھٹکتے ہوئے حیران کن جواب دیتے ہیں:’’میرا نام عاشق ہے جس میدان میں اتراعشق کے ہتھیارسے لیس تھا۔سنگر بننا میرا شوق نہیں بلکہ اتفاق تھا۔ایک وقت ایسا تھا کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ ایک دن کچھ گنگنا رہا تھا کہ دوست بول پڑا،یا تو پکا گلوکار ہے، بس اس کی بات کو پلے باندھ کر جب نکلا تو خود کو گلوکار سمجھنے لگا۔گٹار لیا اور بجانے لگا۔‘‘ بہتر آواز اور متاثر کن شکل و صورت تو تھی ہی ، عاشق نے مظفر آباد میں ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کی تقریب میں پہلی بار اپنی پوشیدہ صلاحیت کا لوہا منوایا۔
عاشق بٹ جب آٹھویں میں تھاتو سکول کے پروگرام میںکشمیری زبان کی طنزیہ شاعری’’لڑی شاہ‘‘گا گا کر داد ِ تحسین لوُٹ لیتا تھا۔

عاشق سے پوچھیے کہ بندوق کا شوق ختم ہوگیا کیا؟ تو وہ نہایت اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں،’’انسا ن پہلی محبت کبھی بھول نہیں سکتا ، تاہم عارضی طور اس سے ناطہ توڑ دیا۔گتار تو بس روزگار کا ایک ذریعہ ہے۔‘‘

Aashiq butt (5)
سنگر عاشق بٹ ایک تقریب میں ساز کے ساتھ سر بکھیر رہا ہے

قارئین!عاشق حسین کی خدادادصلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے کبھی کسی استاد سے باقاعدہ تربیت نہیں لی ہے۔ سُر ہو یا ساز ،وہ خود ہی استاد بھی ہے اور شاگرد بھی۔ وہ اداکاری بھی کرتا ہے اور بانسری کے سُر بھی خوب بکھیرتا ہے۔وہ کشمیرکے لوک گیتوں اور لڑی شاہ اور قومی ترانوں کو جس منفرد انداز میں گاتا ہے، سیکھنے اور سننے والا راک سٹار کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اُردو بولنے والے معاشرے میںوہ اُردو گیتوںپر جب کشمیری کا تڑکالگاتا ہے ، تو سامعین مکرر مکرر کا ورد کرتے ہیں۔

کشمیر کے اس اُبھرتے گلوکارنے رواں سال کئی کشمیری اور اردوگانے گائے ہیں جن کو عوام میں خاطر خواہ پذیرائی ملی۔ ان میں ’’ہیے بالی(کشمیری)۔۔۔ کا ری مکس ورژن، فریڈم، فریڈم،سلام ان شہیدوں پر جو کھو گئے ہیں۔۔وطن کو جگاکر وہ خود سوگئے ہیں، لٹ گیا میرا چناروں کا وطن‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔عاشق کی آواز میںدرد اور مٹھاس بھری ہوئی ہے۔ گزشتہ سال ہندواڑہ میں اس کے دو قریبی رشتہ دار پیلٹ گن کے آہنی چھروں سے زخمی ہوئے۔ اپنے ان عزیزوں کو عاشق نے اپنی شاعرہی اور گلوکاری میں جس درد بھرے اندازمیں خراج تحسین پیش کیا ہے، سن کر آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔

نوٹ:مقصود منتظراسلام آباد ،پاکستان میں مقیم نوجوان صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا گروپ ’’سٹیٹ ویوز ‘‘کے چیف نیوز ایڈیٹر ہیں.اس میل ibnekarim@gmail.com پر رابطہ کیاجاسکتا ہے۔)

بشکریہ ہفتہ روزہ نوائے جہلم سری نگر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں