پیش رفت/عمر منہاس

70

تحریک لبیک کا دھرنا اور عوامی مشکلات

1973کا آئین پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔ لبرل اور آزاد خیال سمجھے جانے والے ذوالفقار علی بھٹو نے ”عقیدہ ختم نبوت“ کے آئینی و قانونی پہلوﺅں کو اپوزیشن اور تمام مذہبی جماعتوں سے مل کر آئین میں سمویا۔ طے پایا کہ جو شخص رسول کریم ﷺ کو کسی بھی مفہوم میں اللہ کا آخری نبی تسلیم نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں۔

اس دن کے بعد سے پاکستان میں مختلف سرکاری دستاویزات میں مسلم و غیر مسلم کی شناخت واضح کرنے کے لیے ایک حلف نامہ شامل کیا گیاجس میں حلف اٹھا کر مذہبی شناخت واضح کی جاتی ہے ۔ عوامی نمائندگی کے لئے خود کو پیش کرنے والے افراد پر لازم ہے کہ وہ حلفاً اپنے عقیدے کی وضاحت کریں ۔

1973ءسے لے کر 2017ءتک لگ بھگ 44برس کا عرصہ گزرا ہے ۔ اس دوران پاکستان میں کئی حکمران آئے اور گئے لیکن کسی بھی حکومت نے عقیدہ ختم نبوت کی ذیل میں آنے والے معاملات سے چھیڑ چھاڑ یا اس میں ترمیم کی جرائت نہیں کی لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ جو قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے افکار کو اپنا فکری اثاثہ قرار دیتی ہے اس کی قیادت کا طرز فکر اس کے دعوﺅں کے برعکس دکھائی دیا اور انتخابی اصلاحات بل میں ختم نبوت جیسے مقدسی عقیدے سے متعلق آئینی ڈرافٹ کی حساسیت کا احترام بھی نہ کیا۔

زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومتی کی اتحادی مذہبی جماعتیں بھی اس معاملے پر سوئی رہیں۔ انتخابی اصلاحات کمیٹی ساڑھے تین سال تک ایک سو کے قریب اجلاس کر چکی تھی ۔ حکومت اور اس کے اتحادیوں کی اکثریت کے باعث کمیٹی نے پاکستان تحریک انصاف کی متعدد ایسی تجاویز کو مسترد کر دیا جن سے انتخابی شفافیت اوراعتباریت کو بہتر بنایا جا سکتا تھا۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی کی یہ تجاویز ڈرافٹ کی شکل میں ڈھلیں ، قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت سے دستخط کروائے گئے اور عین اگلے دن ہی عدالت سے نا اہل قرار دئے گئے میاں نواز شریف کو مسلم لیگ ن نے اپنا صدر منتخب کر لیا۔

تعجب اس بات کا ہے کہ کیا پاکستان کی عوام کی ترجمان پارلیمنٹ نے پورا ترمیمی مسودہ پڑھا؟اگر پڑھا تو الفاظ پر غور کیا؟غور کیا تو کیا نتیجہ اخذ کیا؟ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف آئینی مسودے کی جزئیات اور تفصیلات سے آگاہ نہیں تھے۔ اگر ایسا ہے تو پھر انہیں عدالتی نا اہلی کے بعد خود کو اخلاقی طور پر نا اہل تصور کر لینا چاہئے تھا۔ وہ کیسے پارٹی سر براہ ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ عدلیہ کو نیچا دکھانے کے لئے کس سطح تک جا سکتے ہیں۔

حلف نامے کی تبدیلی کی جسارت کے بعد میاں نواز شریف اور ان کے حامیوں کی غیر تسلی بخش وضاحت اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ پارلیمانی جمہوریت اور ملک کی نظریاتی شناخت کے درمیان ہم آہنگی کی صلاحیت برقرار رکھنے سے محروم ہیں۔

اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ تھی کہ جے یو آئی کے امیر زمان اور جماعت اہلحدیث کے ساجد میر کا نواز شریف کے حق میں یہ بیان آیا کہ حلف نامے میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لیکن بعد میں خود نواز شریف کے اس بیان سے کہ حلف نامے میں تبدیلی کلیریکل مسٹیک سے ہوئی ہے ان دونوں حکومت نواز صاحبان کو اپنی شناخت اور ساکھ پر ازسر نو غور کرنا چاہئے۔مسلم لیگ بلاشبہ دو تہائی اکثریت رکھنے کی بنیاد پر ترمیم کا اختیار رکھتی ہے لیکن حساس دینی معاملات پر ترمیم کا مینڈیٹ اس کے پاس نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ملک بھر میں حکومت کے اس اقدام پر غم وغصہ کے جذبات سامنے ا ٓئے اور حکومت نے 05اکتوبر کو قومی اسمبلی میں ختم نبوت کی شق کو بغیر کسی ترمیم کے بحال کرنے کی منظوری دی ۔

لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم تھا کہ اس ترمیم کا آخر کار مقصد کیا تھا ؟ اسی لیے ا سلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان اور سنی تحریک کے کارکنان انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے میں کی گئی ترمیم کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مطالبے کی تکمیل کے لیے ان دونوں جماعتوں نے راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے فیض آباد انٹر چینچ پر دھرنا دیا ہوا ہے۔ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی وزیر قانون کو برطرف کر کے ان کے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ اتنی بڑی تبدیلی محض کلیریکل مسٹیک نہیں ہو سکتی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے اہم سنگم فیض آباد انٹر چینچ پر تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی دھرنے سے جہاں جڑواں شہروں میں معاملات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں وہیں ٹریفک کا نظام بگڑنے سے اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز جانے والے طلباءو طالبات سمیت دفاتر جانے والے افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اورر رہی سہی کثر اسلام آباد پولیس نے سڑکوں پر رکاوٹیں اور کنٹینرز لگا کر پوری کر دی ہے۔ تحریک لبیک پاکستان نے اگلے اقدام کے طور پر ملک بھر کے ایئر پورٹس اور ریلوے سٹیشنز بند کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

تحریک لبیک کے اس دھمکی پر عملد درآمد سے حکومت کتنا اثر لے گی اس کا درست اندازہ تو ممکن نہیں لیکن ان کے اس اقدام سے ملک کے اندر اور باہر آنے جانے والے مسافروں اور عوام الناس کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملکی معاملات مکمل طور پر درہم برہم ہوں گے ۔ ایک جمہوری ملک ہونے کی حثیت سے علامہ خادم حسین رضوی کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے لیکن فیض آباد میں بیٹھ کر کیسے حکومت کو پریشانی ہو گی۔۔؟جو حکومتی لوگ ہیں ان کے لیے نہ تو وسائل کی تنگی ہے اور نہ ہی راستوں کی کمی۔۔۔ نہ ان کا پٹرول خرچ ہوتا ہے اور ن ہی وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں۔ہاں اگر ٓآپ کے دھرنے سے مشکلات ہیں تو مجھ جیسے عام شہریوں کے لیے ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر منزل مقصود تک جاتے ہیں۔۔۔

آپ دھرنا دیں لیکن کسی ایسے مقام پر جہاں حکومت کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہو۔۔۔!ٓپ کے مطالبات بالکل جائز ہیں لیکن آپ کے اس دھرنے سے حکومت نہیں بلکہ عام عوام براہ راست متاثر ہو رہی ہے اور اسی لیے پنڈی اور اسلام آباد کی عوام ابھی تک آپ کو منظور کرنے سے معذور ہے۔۔۔آپ کے تو ملک بھر میں ہزاروں مریدین ہیں جن کے کاروبار چل رہے ہیں، جن کی دفتروں میں حاضریاں لگ رہی ہیں اور وہ آپ کو چندہ بھی بھیج رہے ہیں لیکن خدارا! ان غریب لوگوں کا خیال بھی رکھیں جن کے روزگار میں یہ دھرنا رکاوٹ بنا ہوا ہے میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ تحریک لبیک کے مطالبات پر کان دھرے۔ کیونکہ حکومت کا ٹس سے مس نہ ہونے کا رویہ کسی صورت درست نہیں ہے ۔ حکومت کو چاہنے کہ وہ تحریک لبیک کے رہنماﺅں سے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالے اور احتجاج کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے کوشش کرے تا کہ جڑواں شہروں کے باسیوں کی مشکلات ہنگامی بنیادوں پر کم کی جا سکیں۔