میزاب/حفیظ عثمانی

137

اسلام آباد دھرنے کی اصل صورتحال

6 نومبر 2017 کو لاہور سے چلنے والا ختم نبوت مارچ 7 نومبر کو اسلام آباد فیض آباد کے مقام پر پہنچا جہاں انتظامیہ نے کنٹینر لگا کر اس مارچ کوآگے جانے سے روک دیا ۔

اصل ختم نبوت مارچ مری روڈ کے راستے سے اسلام آباد میں داخل ہونا چاہتا تھالیکن فیض آباد سے مری کی طرف جانے والی روڈ پر جب کنٹینر لگا دیئے گئے. تو قافلے نے فیض آباد اور آئی جے پی روڈ کی طرف سے آنے والی ٹریفک کو مری اور اسلام آباد ہائی وے کی طرف راستہ دینے والے پل پر پڑائو کیا ۔۔۔

اب یہ قافلہ مری کی طرف جانے والے اور آنے والےدونوں پلوں کے دونوں اطراف خیمہ زن ہے .اسٹیج کارخ مری روڈ کی طرف ہے اور آواز چوہدری نثار علی خان صاحب کے گھر کے پاس سے گزرتے ھوئے ۔ ۔ ۔ آگے تک جاتی ہے فیض آباد انٹر چینج چاروں اطراف سے ٹریفک کیلئے بند ہے .

شرکاء کی رہائش کے لیے شامیانے اور خیمے پل کے دونوں اطراف اور گرین بلٹ میں لگائے گئے ہیں جبکہ کثیر تعداد میں لوگ بغیر خیموں کے کھلے آسمان تلے آرام کر رہے ہیں سخت سردی میں مشکلات ضرور ہیں مگر لہوگرم رکھنے کے لیئے ورذشی نعرے ، پرجوش تقاریر اور نعت ونظم کا دور چلتا رہتا ہے جبکہ چائے اور سلیمانی قہوہ حسب ضرورت الگ سے دستیاب یے.

یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ شرکاء کی تعداد صرف پندرہ سوہے .رات کے ساڑھے بارہ بجے ہیں اور میں دیکھ رہا ھوں کہ پانچ ہزار سے زائد لوگ جلسہ گاہ میں موجود ہیں جبکہ آرام کرنے والے اس کے علاوہ ہیں . رضا کاروں کی طرف سے سیکورٹی کا بہترین انتظام ہے جگہ جگہ تلاشی اور نگرانی کا سلسلہ موجود ہے جب کے حاضرین کے لیے کھانے پینے کا انتظام بھی اجتماعی طور پر کیا گیا ہے.

مجھے تو ایسا لگا کہ جیسے یہ لوگ مستقل طور پر قیام کے ارادے سے یہاں پر آئے ہیں اور مطالبات کی منظوری کے بغیر جانے کا ارادہ نہیں رکھتے ۔خیموں کی تنصیب کا عمل جاری ہے ۔جھنڈے تیار کیے جارہے ہیں ۔

مقررین اور شرکاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سکیورٹی ادارے ان کے خلاف کسی قسم کے آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی مسلمان ہیں جبکہ حکومت کے پاس ہمارے مطالبات کو ماننے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے
میں نے بعض لوگوں سے پوچھا کہ کتنے دن کے لئے آپ آئے ہیں .ان کا سیدہ اور صاف جواب تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے ہم واپس نہیں جائیں گے .

اگر عمران خان پارلیمنٹ کے جنگلے توڑ کر دنیاوی مفاد کے لیے 120 دن بیٹھ سکتا ہے تو ہم اللہ کے رسول کے عشق میں کئی سو دن بیٹھ سکتے ہیں .یہ سرد ہوائیں بارش اور حکمرانوں کی باتیں اور اقدامات ہمیں ہمارے مشن سے نہیں ہٹا سکتے ہیں
مجھے تو علامہ خادم حسین رضوی کی تقاریر علامہ اقبال کے اشعار کا مجموعہ لگا وہ بات بات پر دو چار اردو اور فارسی کے اشعار سنادیتے ہیں . لبیک لبیک کی صدائیں تصنع اور بناوٹ سے بغیر دل وجان سے بلند ھوتی ھوئی نظر آرہی تھی اور
دھرنے کے اندر وجدانی کیفیت میں سب سے زیادہ بلند کیے جانے والا نعرہ
تاجدارِ ختم نبوت
زندہ باد زندہ باد
لگاتار لگاتار لگایا جارہا تھا
شرکاء میں نوجوان اوربوڑھے افراد کی کثیر تعداد موجود ہے اور اطراف میں دور دور تک یہ لوگ پھیلے ہوئے ہیں ایسے میں کسی بھی قسم کا آپریشن انتظامیہ کے لیے بہت مشکل ہے .اسٹیج پر سے پیش کی جانے والی تقاریر میں سندھ اور کے پی کے کی نمائندگی بھی شامل ہے

پشتو کے ایک مقرر نے زبردست انداز میں جہاں دھرنے کی حمایت کی وہاں ایم ایم اے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور مولانا فضل الرحمن کوبھی نشانہ بنایا جب کہ کچھ نازیبا کلمات تبلیغی جماعت کے لیے بھی اداکیے

اگرچہ یہ موقع محل نہیں ہے مگر پھر بھی مقرر اپنے دل کی بھڑاس نکال دیتا ہے
اگرچہ ختمِ نبوت کے موضوع پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے لیکن انکا یہ طرزِ عمل بہت سے لوگوں کے لیے ناقابل فہم ہے
اگر حکومت نے اس دھرنے کو سنجیدہ نہ لیا تو نظر یہ آرہا ہے کہ جیسے ملک بھر میں دھرنے کی حمایت میں ریلیاں جلسے جلوس اور مظاہرے کیے جا رہے ہیں اسی طرح قافلے کثیر تعداد میں اس احتجاجی دھرنے میں شریک ہو کر حکومت کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں اور کسی بھی قسم کی زبردستی حکومت کے لیے اب اور آئندہ کے لئے شدید مشکلات کا سبب ثابت ہوسکتی ہے

حکومت کو دانشمندی سے کام لیتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہیے اور اگر ایک وزیر کی قربانی سے یہ معاملہ حل ہو جائے تو اس میں پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے .میڈیا کی طرف سے مکمل بائیکاٹ کے باوجود کثیر تعداد میں سرد موسم ،ھواوں اور بیماری کے باوجود اس مقام پر ڈٹ جانا اس بات کا غماز ہے کہ یہ نہ صرف سوچ سمجھ کر اور ارادے سے آئے ہیں بلکہ ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں ایسے میں ہوش مندی سے کام لینا چاہیئے اور ختم نبوت کے اس مسئلہ کو چھیڑنے والوں کو بے نقاب کرتے ھوئے کیفر کردار تک پہنچانا چاہیئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں