79

افتخارایوب نےوزیراعظم آزادکشمیرکوکابینہ میں توسیع کامشورہ دیدیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز) حلقہ ایل اے 13 غربی باغ سے سابق امیدواراسمبلی اورمسلم لیگ نواز آزادکشمیر کے سینئررہنما راجہ افتخار ایوب خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر میں گڈ گورننس اور میرٹ کا جو نظام متعارف کرایا ہے یہ حکومت کی بڑی کامیابی ہے، کارکنان اطمینان رکھیں۔

راجہ افتخارایوب ڈیجیٹل میڈیا گروپ سٹیٹ ویوز کےدفتر میں ایڈیٹرسیدخالدگر​دیزی سے گفتگوکررہےتھے۔ ا​نکا کہنا ہے کہ فاروق حیدرحکومت نے قلیل وقت میں آزاکشمیر میں بہترین اور صحت مند روایات قائم کیں. ہم توقع رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اس نظام کوکوئی ڈی ریل نہ کرسکےگا۔

انہوں نےوزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ میرٹ کی بحالی اور گڈگورننس کو لیکر اٹھائے گئے اقدامات کو ایک آئینی اور قانونی شکل دیں تاکہ یہ طریقہ کارمستقل شکل اختیارکرجائے. گڈ گورننس اور میرٹ ہی کسی بھی حکومت کی بدنامی یا نیک نامی کا باعث بنتا ہے.

انہوں نےکہا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حکومت لوگوں کی توقعات پر پوری نہیں اتری . دراصل بات یہ ہے کہ کارکنوں کے اپنے جذبات اور اپنے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں، میری بھی خواہشات ہیں لیکن جب میرٹ کی بات آتی ہے تب اگر کہیں دوسری پارٹی کا کارکن ایڈجسٹ ہوتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے.اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ظلم کی حکومت قائم رہ سکتی ہے مگر ناانصافی کی نہیں.

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں میرٹ کی بحالی کے اثرات سابق وزیراعظم سردار عتیق کے گھر تک پہنچےہیں . ٹیچرزکی حالیہ بھرتیوں کے بعد ان کی ایک قریبی رشتہ دار خاتون نے کہا ہے کہ انہوں نے کئی انٹرویوز دیئے ہیں مگر جو میرٹ موجودہ دور میں دیکھا اس کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتی. وزیر اعظم کے اس اقدام کی ہرکشمیری تعریف کررہا ہے. اگرچہ میرٹ کی بحالی کا اقدام اٹھانا آسان نہیں تھا تاہم نئی نسل کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے اپنے کارکن کی روایتی امیدوں کو بھی قربان کرنا پڑا۔ میرٹ پر ہی فہیم عباسی کو ایڈیشنل آئی جی لگایا گیا حالانکہ وہ نہ ہمارے ووٹر ہیں اور نہ ہی سپورٹر. اسی طرح آزادکشمیریونیور​سٹی میں وائس چانسلرکی حثیت سے ڈاکٹر کلیم عباسی کی تقرری کرکے فاروق حیدرنے میرٹ کی بحالی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے. ان کی تقرری میں کئی رکاوٹیں ڈالی گئی تھیں مگر وزیراعظم ڈٹ گئے.

تعمیر و ترقی کے دعوؤں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجہ افتخار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کادور حکومت لوگوں کے سامنے ہے . اس دور میں ہمارے حلقےمیں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا، ایک اینٹ بھی نہیں لگی. چوہدری مجید اپنے دوست سردار عتیق کے مشوروں پر چلتے رہے .

مسلم لیگی حکومت کو ابھی ڈیڑھ سال ہی گزرا مگرجو منصوبے اس عرصے میں شروع کیے گئے وہ بھی لوگوں کے سامنے ہیں.بشارت شہید روڈ سمیت کئی سڑکیں اور پل تعمیرکیےجارہے ہیں۔ بھرپور فنڈز حکومت مہیاکررہی ہے۔

صدرکے انتخاب کے حوالے سےانہوں نے کہا ہے کہ مسعود خان کا بطور صدر انتخاب نیک شگون ثابت ہوا۔ وہ مسئلہ کشمیر اور سفارتکاری پر عبور رکھتے ہیں . عالمی سطح پر بھی ان کا نام ہے. صدر مسعود خان کی وجہ سے ہی ترقیاتی بجٹ ڈبل ملا اور سی پیک میں حصہ ملا۔ اتنے بڑے منصوبے میں آزادکشمیر کو شامل کرنا بڑی بات ہے اور اس کا کریڈٹ بھی بجا طور پرفاروق حیدر کو جاتا ہےجھنوں نےسردارمسعود خان کاانتخاب کیا۔

غربی باغ میں مسلم لیگ کی تقسیم اور سرکاری سکیموں میں خرد برد کےالزامات بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ سیاستدانوں پر الزامات لگتے ہیں، ہم پر بھی لگ رہےہیں لیکن ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے. راجہ سجاد میرے بھائی ہیں اورہم نے ٹیم ورک کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کا اعتماد حاصل کیا تاہم مسلم کانفرنس کی خواہش پر سرکاری سکیمیں تقسیم نہیں ہوسکتیں. یونین کونسل کی سطح پر پارٹی کی مشاورت سےجس یونین کونسل کا جتنا حق ہے اسے وہ ملے گا. میں خود بھی مسلم کانفرنس میں رہا ہوں مجھے معلوم ہے کہ وہ لوگ کس طرح سکیمیں تقسیم کرتے تھے. ہمیں دل بڑا رکھنا چاہیے.انہوں نے کہا ہے کہ اگر کوئی غلط کام کروں گا تو اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں.

راجہ افتخار ایوب کا کہناہے کہ کوئی مسلم کانفرنس کے ممبر اسمبلی سے حساب لے . انہیں آج 50، 50 لاکھ مل رہے ہیں.وہ کہاں خرچ کررہےہیں؟ میں میڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہماری اورممبراسمبلی سردارعتیق احمد خان کی سکیموں کو آکر دیکھیں اگر ایک پیسے کا ہیر پھیر تو وہ ہم جواب دیں گے.

راجہ افتخار نے کہا کہ وہ بلدیاتی انتخابات کا بے تابی سے انتظار کررہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کو نچلی سطح تک پہچانے کیلئے اور عام آدمی کو شریک اقتدار بنا کر ہی سیاسی نظام میں تبدیلی آئے گی. حکومت نے بلدیاتی انتخابات کیلئے بجٹ بھی مختص کررکھا ہےتاہم طویل عرصے سے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی انتظامات پر حکومت کو وقت چاہیے۔

مسلم لیگی رہنما نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یوننز کی بحالی ناگزیر ہے . طلبہ کو آورگی سے دور رکھنے کیلئے طلبہ تنظیموں کی بحالی اچھا اقدام ثابت ہوگا. اس میں تاخیر نقصان کے علاوہ کچھ نہیں .باہمی مشاورت سے سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے کوئی حکمت عملی طے کرنی چاہیے .

کس نےآزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے اورطلبہ تنظیموں پر پابندی کو سپورٹ کیا؟ اس سوال کے جواب میں افتخار ایوب کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کا رواج ختم ہوا اورطلبہ تنظیموں پرپابندی لگی اسکو آزادکشمیر میں بھی فالوکیاگیا۔آزاد​کشمیر میں حکومتیں پاکستان میں ہونے والے اقدامات کا اثر لیتی ہیں۔بلدیاتی انتخابات نہ ہونےاور طلبہ تنظیموں پرپابندی کے باعث سیاسی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔باکردار سیاسی کارکنان پیداہونا بند ہوگئےاور سیاست میں دولتمند آگے آگئے۔

ایک سوال کے جواب میں افتخار ایوب کا کہنا ہے کہ راجہ فاروق حیدرکو کابینہ میں اضافہ کرنا چاہیے اورنظام بہتر ہونے کے بعد کارکنان کو بھی حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بناناچاہیئے۔
ویڈیو دیکھیں:

سابق امیدواراسمبلی نے گلوبل تقاضوں کے مطابق سٹیٹ ویوز ڈیجیٹل میڈیا گروپ کو خوش آئند اقدام قراردیا اور کہا کہ ہم اس اقدام پر سٹیٹ ویوز ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اوراس میڈیا گروپ کوقومی سطح پرلےجانےمیں اپنا بھرپورکرداد اداک​ریں گے.