39

سائنس نےبھی انسان کی پیدائش بارےقرآن پاک کی حقیقت کوتسلیم کرلیا

اسلام‌آباد (سٹیٹ ویوز) امریکی محققین نے انسانی پیدائش کے حوالے سے چودہ سوسال قبل قرآن کریم میں کی جانے والی بات کو بالآخرتسلیم کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں انسان کے دنیا میں آنے کے حوالے سے تحقیق کی گئی جس میں ماہرین اس بات پر پہنچے کہ انسان کی پیدائش اس زمین پر نہیں ہوئی بلکہ وہ کسی دوسری جگہ سے آئے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انسانوں کی تخلیق ایسےعناصرسے ہوئی جس کےثبوت زمین پرموجود نہیں ہیں بلکہ پیدائش کے شواہد اربوں میل دور تیرنے والی کہکشاں سےہیں۔

تحقیق کے دوران کمپیوٹر ماڈلز استعمال کیے گئے جن کے ذریعے جاننے کی کوشش کی گئی کہ ہماری کہکشاں میں پائے جانے والے مادے کے ثبوت اور کن سیاروں پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی تعلیمات کے حساب سے انسان کی پیدائش کی جگہ جنت بتائی جاتی ہے جسے اب چودہ سو سال بعد سائنس دانوں نے تحقیق کے نتیجے میں تسلیم کیا۔

مزید تفصیلات جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ انسان (آدم) کی تشکیل جن عناصر سے ہوئی اُس کے شواہد دنیا کے بجائے کائنات کی دیگر کہکشاؤں میں پائے جاتے ہیں، جس سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ انسان کسی اور سیارے سے دنیا میں آیا۔

قرآن مجید میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا تذکرہ موجود ہے. سورۃ البقرہ میں موجود آیات کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت نے حضرتِ آدم کی تخلیق کا ارادہ فرماتے ہوئے فرشتوں کو اس بات سے آگاہ کیا اور کہا کہ “میں زمین پر ایک خلیفہ بھیجنے والا ہوں”۔

سورۃ البقرۃ کی ایک اور آیت کے ترجمے کا مفہوم یہ ہے کہ جب فرشتوں نے اللہ رب العزت سے حضرتِ آدم کی تخلیق کا سُنا تو کہا کہ “تو کیا ایسے شخص کو خلیفہ بنانا چاہتا ہے جو دنیا میں جاکر خرابیاں پیدا کرے، ہم کیا تیری حمد و ثناء بیان کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں”۔