Syed Zahid Hussain Naeemi

اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

27

آپریشن فیض آباد کیا کھویا کیا پایا؟

تحریک لبیک یا رسول اللہ کی تحریک پر 21 دن تک صدائے احتجاج بلند ہوتا رہا۔ تحریک کے رہنماﺅں کا احتجاج اور مطالبہ اس بات پر تھا کہ ختم نبوت کے قانون کو چھیڑا گیا، جبکہ اس مسئلہ پر 1974ءمیں پوری قوم کا اتفاق ہو چکا ہے۔

پاکستان کے آئین اور دستور میں عقیدہ ختم نبوت کا انکار کرنے والا کافر قرار دیا جا چکا ہے۔ چونکہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی، مسیحی مدعو، مانتے ہیں، اس لئے وہ کافر ہیں۔ اس پر جب ایک بار اتفاق ہو چکا تو پھر اس قانون کو بار بار کیوں چھیڑا جاتا ہے۔ حالےہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب رکن اسمبلی کی رکنیت فارم میں حلف کا لفظ تبدیل کرکے اقرار کا لفظ لکھ دیا گیا، 36 رکنی کمیٹی سے گزرتا ہوا یہ قانون پاس ہوا۔

سینیٹ میں جاکر ووٹر فہرستوں میں مسلم اور غیرمسلم کی بحث سامنے آئی کہ کوئی شخص اگر قادیانی ظاہر نہ کرکے ووٹ لسٹ میں شامل ہو جائے تو اس کا تدارک دس دن کے اندر کر دیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
اس قانون میں سقم باقی تھا، سینیٹ میں اس پر ووٹنگ ہوئی۔ حافظ حمیداللہ اور چند مسلم لیگی ارکان نے تبدیلی کے لئے ووٹ دئےے، جبکہ دیگر نمائندگان نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس سے ےہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ ضرور قادیانیوں کے لئے کوئی نرم گوشہ رکھتا ہے جس نے حلف نامہ کی عبارت میں تبدیلی کی یا کروائی ہے، اس پر احتجاج ہوا۔ حکومت نے جلد ہی حلف نامہ کی اصل عبارت بحال کر دی اور اس معاملہ کو سہواً غلطی قرار دیا، ان کا خیال تھا کہ معاملہ دب جائے گا، لیکن شیخ رشید احمد اور کیپٹن صفدر نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ےہ سازش ہے اور قادیانی لابی پوری متحرک ہے اور ایسے لوگ پارلیمنٹ کے اندر موجود ہیں۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ اور ملک کی دیگر مذہبی قیادت نے اپنے تحفظات حکومت کے سامنے رکھے۔ راجہ ظفرالحق کی قیادت میں تحقیقاتی کمیٹی بنی جس نے تحقیق کرکے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی۔ سیاست دان اور حکومت کے ساتھ شامل مذہبی قیادت نے یہ سمجھ کر خاموشی اختیار کر لی کہ چونکہ حلف کی اصل عبارت بحال ہو چکی ہے۔ لہٰذا معاملہ ٹھیک ہو چکا ہے۔ ادھر راجہ ظفرالحق کی رپورٹ حکومت سامنے لانے میں پس و پیش سے کام لیتی رہی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ کا مطالبہ تھا کہ اگر اصل مجرموں کا تعین نہ کیا گیا تو یہ معاملہ پھر سے سر اٹھا سکتا ہے اور چونکہ یہ سب کچھ وزارت قانون کے تحت ہوا ہے، لہٰذا وزیرقانون زاہد حامد استعفیٰ دیں۔ راجہ ظفرالحق کی تحقیقاتی رپورٹ کو منظرعام پر لایا جائے اور ان خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے جن کی طرف اشارہ کیپٹن صفدر پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کر چکے ہیں۔ ذمہ داران کی سزا کا تعین کرکے انہیں سزا دی جائے۔ اس پر بہت بحث ہوئی، ٹیلی ویژن چینلوں پر ٹاک شو ہوئے، دانشوروں نے مضامین اور کالم لکھے۔ لیکن حکومت نے بجائے کوئی نرمی دکھانے کے اخبارات کے ذریعہ اشتہار دے کر اپنی صفائی پیش کی۔

اصل ذمہ داران کو چھپاتی رہی۔ جب حکومت کی طرف سے کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہ ہوئی تو تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ایک دھڑے کی قیادت کرتے ہوئے ڈاکٹر آصف اشرف جلالی لاہور سے اسلام آباد پہنچے اور چند دن دھرنے کے بعد حکومت سے کسی معاہدے کی بنیاد پر دھرنا ختم کر دیا۔ ڈاکٹرآصف اشرف جلالی کا بھی مذاق اڑایا گیا اور اس معاملہ پر سنجیدگی نہ دکھائی گئی، تو تحریک کے دوسرے رہنما علامہ خادم حسین رضوی احتجاج پر اتر آئے اور احتجاجی ریلی لے کر اسلام آباد آن پہنچے۔ اُن کا پہلے دن سے جو مطالبہ تھا 21 دن تک یہی مطالبہ رہا کہ وزیرقانون زاہد حامد کو مستعفی کیا جائے، راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ عام کی جائے اور ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ ےہ وہ جائز مطالبات تھے جن کے پورا کرنے میں کوئی امر مانع نہ تھا، لیکن حکومت وقت گزاری سے کام لیتی رہی اور دھرنے والوں کے خلاف وزارءسخت زبان استعمال کرتے رہے اور اسے خفےہ ہاتھ کی کارستانی قرار دیتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کے تانے بانے بھارت و افغانستان سے بھی جوڑتی رہی۔

جگہ جگہ کنٹینرز رکھ کر راستے بند کر دئےے گئے اور راستوں کی بندش کو بھی دھرنا احتجاج کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ اس حساس معاملہ کو بھی سیاست کا رنگ دیا گیا۔ پیمرا کے ذریعہ الیکٹرانک میڈیا کو رپورٹنگ کرنے سے روک دیا گیا، سوشل میڈیا کی بندش کر دی گئی، مذاکرات کے لئے مولانا فضل الرحمن سمیت علامہ سیّد حسین الدین شاہ، پیر نظام الدین جامی گولڑہ شریف کی پیشکش کو بھی سنجیدگی سے نہ لیا گیا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وزیرداخلہ احسن اقبال نے آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ چند ہزار افراد کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

وزیرداخلہ احسن اقبال نے تین گھنٹے کے اندر دھرنا ختم کرانے کا اعلان کیا، یوں 25 نومبر صبح 8 بجے دس ہزار سے زائد پولیس اور ایف سی کی نفری نے دو ہزار کے لگ بھگ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے کارکنوں پر دھوا بول دیا۔ لیکن سات گھنٹے گزرنے کے بعد بھی دھرنا ختم نہ کرایا جاسکا۔ پیر نظام الدین جامی گولڑہ شریف نے کہا تھا کہ ےہ چند ہزار افراد نہیں ہیں، ان کے پیچھے لاکھوں عشاقان مصطفےٰ ﷺ ہیں۔ آپریشن سے گریز کیا جائے، لیکن حکومت نے بہرحال آپریشن شروع کر دیا جس کا نتیجہ ےہ نکلا کہ پورے ملک میں دھرنے کی حمایت میں عشاقان مصطفےٰ ﷺ سڑکوں پر نکل آئے۔

اسلام آباد سے کراچی تک، بھمبر آزادکشمیر سے نیلم تک تمام شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت کو لینے کے بجائے دینے پڑ گئے۔ پولیس نے ہاتھ اٹھا لئے، آرمی چیف اپنا بیرونی دورہ مختصر کرکے وطن واپس آئے، وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے ملاقات ہوئی۔ دھرنا بغیر تشدد اور پرامن مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کا فیصلہ ہوا۔ زاہد حامد نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیا، یوں ڈی جی رینجرز اور سیکرٹری داخلہ علماءکرام اور پیران عظام کی مداخلت سے چھ نکاتی معاہدہ طے پایا جسکے مطابق وزیر قانون کا استعفیٰ، راجہ ظفرالحق کی رپورٹ تین دن میں منظرعام پر لانا، کمیٹی رپورٹ میں تعین کردہ ذمہ داران کو سزا دینا، احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات واپس لینا، وغیرہ شامل ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ےہ تو وہی مطالبات ہیں جو پہلے دن رکھے گئے تھے، لیکن حکومت نے اس پر سنجیدگی کیوں نہ دکھائی۔ اب احسن اقبال آپریشن کے حکم دینے کا سارا ملبہ عدالتوں پر اور اسلام آباد انتظامےہ پر ڈال رہے ہیں اور خود بری الذمہ ہو گئے ہیں۔ حکومت نے تو خود ”آ بیل مجھے مار“ کے محاورے پر عمل کیا اور اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑا مار کر اپنے ہی اراکین اسمبلی کو مسلم لیگ (ن) چھوڑنے پر مجبور کیا۔

صاحبزادہ نظام الدین سیالوی سمیت کئی صوبائی اور وفاقی اراکین استعفیٰ دے چکے ہیں اور ےہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ آئندہ آنے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو بہت بڑا نقصان ہو گا۔ فی الوقت اگر اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ پہلے ہی کر لیا جاتا تو نوبت یہاں تک نہ آتی کہ تشدد کی صورت حال پیدا ہوتی۔ ایک پولیس اہلکار حان سے گیا اور دھرنا احتجاج والوں سے بتایا جاتا ہے کہ چھ افراد موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔ سینکڑوں زخمی ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ کے قائدین اہلسنّت جن کو عرف عام میں بریلوی مکتبہءفکر کہا جاتا ہے سے تعلق رکھتے ہیں۔

پورا ملک گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی و شدت پسندی کا شکار ہے، تمام دنیا اعتراف کرتی ہے کہ اس پوری شدت پسندی میں اس مکتبہءفکر کا ایک فرد بھی شریک نہیں رہا، بلکہ ےہ خود دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی اُنہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا۔ ےہ ملک کا اسوداعظم ہیں اور آبادی کے لحاظ سے نوے فیصد ہیں۔ اس ملک کے قیام و تعمیر وترقی میں ان کا بنیادی کردار ہے، لیکن ےہ شانِ رسالت کے خلاف ایک جملہ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ تحریک ختم نبوت سے لے کر تحریک نظامِ مصطفےٰﷺ تک ان کا بڑا کردار ہے۔

ان کو انڈراسٹیٹمنٹ کیا گیا، جو نہیں کرنا چاہےے تھا، یہی حکمرانوں کی سب سے بڑا غلطی تھی۔ اب حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ایسی سنگین غلطی سے گریز کریں جو ان کے گلے پڑ جائے۔ وہ قوتیں بھی ہوش سے کام لیں جو ان کی امن پسندی و حب الوطنی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ےہ ان کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ اب حکومت کو چاہےے کہ وہ فی الفور معاہدے کے مطابق عملدرآمد کرے تاکہ مزید بے چینی اور اضطراب ختم ہو۔ اس آپریشن سے حکومت نے کوچھ نہیں پایا، البتہ تحریک لبیک نے بہت کچھ پایا جو وقت بتائے گا۔