20

قائد اعظم مدارس جاتے ہوئے بیماری کے باعث ٹرین میں گر گئے

اسلام آباد( سٹیٹ ویوز)اپریل 1941ء میں ہم ممبئی سے مدراس جا رہے تھے جہاں انہیں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرنا تھی۔ ہماری ٹرین ابھی مدراس سے چند گھنٹے کی مسافت پر تھی کہ وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کر غسل خانہ میں گئے۔ یہ حال دیکھ کر میرا صدمے سے برا حال ہو گیا کہ وہ چند قدم چلنے کے بعد ٹرین

کے چوبی فرش پر نڈھال ہو کر گر گئے۔ میں لپک کر ان کے پاس پہنچی اور ان سے پوچھا: ’’جِن کیا بات ہے؟‘‘ ایک روکھی پھیکی اور تھکی ہوئی مسکراہٹ ان کے لبوں پر نمودار ہوئی : ’’میں بے حد کمزوری اور تھکاوٹ محسوس کر رہا ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھ کر خود کو اٹھایا اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنی برتھ کی جانب بڑھے۔

خوش قسمتی سے ٹرین چند ہی منٹ کے بعد ایک اہم جنکشن پر پہنچ کر رک گئی، جہاں ہزاروں جوشیلے مسلم لیگی کارکن ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ میں نے آہستگی سے اپنے کمپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا اور چلا کر کہا: ’’شور مت مچائیے،

قائد اعظمؒ تھکاوٹ اور بخار کے باعث بستر پر ہیں، دوڑ کر کسی ڈاکٹر کو بلا لائیے۔‘‘ چند ہی منٹوں کے اندر ڈاکٹر آ گیا جس نے قائداعظمؒ کا معائنہ کیا اور بولا ’’جناب! آپ کو معمولی نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے، خطرے کی کوئی بات نہیں مگر آپ کو کم از کم ایک ہفتہ تک کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا مشورہ دوں گا۔

آپ کو ایک ہفتے تک بستر میں مکمل آرام کرنا چاہیے۔‘‘ اب ہم مدراس میں تھے جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہزاروں مندوبین جمع تھے۔

قائداعظمؒ اس قدر کمزور تھے کہ پہلے روز کے عام اجلاس سے خطاب نہ کر سکے مگر دوسرے روز انہوں نے صدارتی خطبہ دینے پر اصرار کیا۔ میں نے انہیں اس کے برعکس مشورہ دیا مگر وہ اپنے فیصلے پر مصر رہے۔ اس پر میں نے ان سے مختصر تقریر کرنے کی استدعا کی۔

انہوں نے یقین دلایا ’’ہاں یہ تقریر مختصر ہوگی۔‘‘ جونہی وہ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اجلاس پر گہری خاموشی چھا گئی۔ انہوں نے نوٹس کے بغیر فی البدیہہ تقریر کی۔ انہوں نے ہر نکتے کو وضاحت سے استوار کیا اور انہیں ایسی آسان زبان میں بیان کیا کہ اسے عام شخص بھی بآسانی سمجھ سکتا تھا۔

خواہ وہ اس دور کی ہندوستانی سیاست کی پیچیدگیوں اور باریکیوں سے یکسر نابلد ہی کیوں نہ تھا۔ انہوں نے ایک ایسے لیڈر کے انداز میں اپنے خیالات حاضرین تک پہنچائے جو نہ صرف اپنے ذہن کو سمجھتا تھا بلکہ اپنے پیروکاروں کے جذبات سے بھی بخوبی آگاہ تھا۔

ان کا خطاب اختصار سے بہرحال کوسوں دور تھا، کیونکہ وہ مسلسل دو گھنٹے تک تقریر کرتے رہے۔ یہ رہنما جو صاحب فراش ہونے کے باوجود اپنے عوام کے پاس جانے کے لیے بے قرار تھا، ہندوستانی مسلمانوں کی منزل مقصود کی انتہائی جرأت کے ساتھ وضاحت کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا: ’’میں آپ لوگوں کو انتہائی واضح بتا دینا چاہتا ہوں کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی منزل یہ ہے کہ ہم ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں میں مکمل آزاد ریاست کا قیام چاہتے ہیں جن میں دفاع، خارجہ امور، مواصلات، کسٹمز، کرنسی اور ایکسچینج وغیرہ جیسے امور حتمی طور پر خود ہمارے ہاتھوں میں ہوں۔

ہم کسی قسم کے حالات میں بھی آل انڈیا نوعیت کا آئین نہیں چاہتے۔ جس کے تحت مرکز میں واحد حکومت قائم کردی جائے، ہم اس پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر ایک بار ہم اس پر راضی ہو گئے تو مسلمان ہمیشہ کے لیے اور قطعی طور پر اپنا وجود کھو بیٹھیں گے۔

۔۔ جہاں تک شمال مغربی اور مشرقی ہندوستان میں ہمارے آزاد علاقوں کا تعلق ہے، ان کے بارے میں ہم نہ تو کسی طاقت اور نہ کسی مرکزی حکومت کے معاون بننا کبھی قبول کریں گے۔‘‘ مجھے ان کی کارکر دگی پر فخر تھا، مگر اس فخر کے ساتھ ان کی خرابی صحت کا اندیشہ بھی منڈلا رہا تھا،