Mehwish sardar

مہوش ناز/پہلا قدم

54

را ستہ اور صدقہ

عام طور پر راستے سے مراد وہ پگڈنڈی ،سڑک،یا کنارا ہے جس پر لوگ چل کر کسی مقام، جگہ تک پہنچاتے ہیں۔اور حقیقت میں یہ راستہ ہی ہے جو انسان کو منزل مقصو پر پہنچاتا ہے بلکہ کسی بھی سفر کو شروع کرنے سے پہلےراستے کے تصور کوہی سامنے رکھ کر منزل کے حصول کا ایک خوبصورت خیال ترتیب دیا جاتا ہے ۔راستے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک دنیاوی راستہ اور ایک دین کا ،دنیا کا وہ راستہ جس پر ہم اپنی لاتعداد خواہشوں کے ساتھ روز ان دیکھے بوجھ اٹھا ئے بہت سارے رشتوں کو اپنے پاوں کے نیچے روندتے ہوے چلتے جاتے ہیں ۔ دوسراراستہ دین کا وہ راستہ جس کا ذکر قران کریم میں ایک دعا کی صورت موجود ہے اور وہ ہےترجمہ : اھدنا اصراط المستقیم ہمیں سیدھا راستہ دکھا.

اس راستے کی آرزو بھی انسان کا حصہ بنائی گئی ہے تا کے وہ جب کھبی دنیا کے راستوں پر چلتا چلتا اوندھے منہ گرے تو ایک اور راستہ ہمیشہ اسکے سامنے موجود رہے۔راستے کی اسی طلب نے انسان کو کچے راستوں سے پکی سڑکوں اور پکی سڑکوں سے موٹرویز اور پھر ادھر ہی سے فضا میں اڑتے جہازوں اور سمندر کے پانی کی وسعتوں کو چیرتے بحری جہاز اور کشتیوں تک لے گئے.

راستے نے ہی لوگوں ،معاشرے کو آپس میں جوڑ رکھا ہے ،ورنہ فاصلے شاہد کھبی کم نہ ہو سکتے۔اور یہ حقیقت ہے کے راستے کے بنا کسے بھی قسم کی کوئی پیش قدمی نہی کی جا سکتی۔راستے کا موجودہ دور کا قانونی تصور ہمارے معاشرے میں موجود ہے جسکا خیال نہ رکھنا آپکو کسی بھی قسم کے قانونی اور اخلاقی زوال کا شکار کر سکتا ہے جبکہ اسکا واضع شعور آپکو نبی آخر ازمان ﷺ کے متعدد واقعات میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔چنانچہ نبی پاکنےراستے کی چوڑائی سات ہا تھ، یعنی کے، دس فٹ بتائی ۔

راستے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اور حقوق ،واجبات کے حق کو مد نظر رکھتے ہوے اس بات کو یقینی بنانے کا حکم بھی دیا گیا کے راستے مسافروں کے لیے محفوظ اور گزرنے والے راہ گیروں کے لیے کسی تنگی اور اذیت کا باعث نہیں بننے چایئےاور اسی لیے کسیے تکلیف دینے والی چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ قرار دیا گیا۔

ایک اور راستے کا بھی اس صدقے سے گہرا تعلق ہے جس کے بارے میں ہم جانتے نہیں اور اگر جانتے بھی ہیں تو ہم نے کھبی اسے قابل توجہ سمجھا ہی نہیں جی ہاں وہ راستہ جو ایک انسان دوسرے انسان کے لیے بناتاہے ۔وہ راستہ، دلوں کو جوڑنے، نفرتیں کم کرنے، محبتوں کے فاصلے پر رہنے والے لوگوِں کے درمیان پل بن جانے والا راستہ ہے، مگر یہ راستہ دینے والے، لوگوں کے درمیان پل بننے والے لوگ آپکو بہت کم ملیں گے۔

کچھ ایسے بھی لوگ آپکی زندگی میں موجود ہوتے ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیےآاپکو پل بنا کر کسی مقام تک پہنچاتے ہیں اور دھکا دے کر اپکو کنارے سے لگا دیتے ہیں کنارے پر لگانے والے بھی کوئی کوئی ہوت ہے ا زیاد ہ تر آپکو ڈوبتا دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں.

ہم حقیقت میں دنیا کے اس مقام پر موجود ہیں جہاں ہم ایک دوسرے سے بات کرنا تو ہین سمجھتے ہیں ،جہاں کاروبار ، اور رشتوں میں منافقت کوٹ کو ٹ کر بھری ہے ، جہاں ہماری انائیں ہمارے دلوں کے پیا ر کو بہا لے جاتی ہیں، جہاں اپنی بہت ساری نا معلوم وجوہات کی بنا پر ایک دوسرے کے ساتھ تلخ رویے ، بے اعتباری ، شک ، دوری ، ہماری زندگی کا ایک روگ بن چکی ہے۔زندگی میں ہر رشتے اور راستے کے لئے کم از کم بھی دس فٹ جگہ تو ہونی چاہیئے۔یہ دس فٹ زمینی پیمائش نہی بلکہ دلوں کے ظرف کے حساب سے ہونی چاہیے۔جبکے مذہب کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو ہمارا دین راستے وسیع کرنے کا قائل ہے نہ کے راستے بند کرنے کا،چاہے وہ کسی بھی جائز مطالبے کے لیے ہی کیوں نہ ہوں.

ہم اپنی زندگی میں ایسے بہت سارے رشتوں کو جانتے ہیں جن کو ایسے بہت زیادہ نہ سہی مگر کسی ایک راستے یا کسی ایک پل کی ضرورت ہوتی ہے یا ہماری اپنی زندگی میں ایسے بہت سارے مقام بھی آتے ہیں جب ہمیں بھی کسی ایسے پل یا راستے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو گی مگر ایسا کوئی ملا نہ ہو گا یا جو ملا ہو گا اس نے دھوکا دے دیا ہو گا، تو اب کرنے کی باری آپکی ہے، ایسے بہت سارے لوگوں کے لیے راستے اور پل بن جائیے .

جن کو آپکی ضرورت ہے،کسی کو سیدھا راستہ دکھا ئیے ، کسی کا ہاتھ پکڑ کر کسی سے ملوا دیجیے ، کسی کے درمیاں نفرت کم کروا دیں۔اگرآاپ کر سکتے ہیں تو کسی کا قرض معاف کروا دیں۔کسی کے لیے زیادہ نہیں مگر کہیں پر روزگار کا بندوبست کر دیجئے ۔کسی کے درمیاں صلح کروا دیں لوگوں کے درمیاں پل بن جائیں تا کے وہ اپکے زریعے سے ایک دوسرے سے مل سکیں،.حقیقت میں اس سے بڑا کوئی صدقہ نہیں، دو خاندانوں ،دوستوں، رشتہ داروں ،میاں بیوی،غرض کسی بھی رشتے میں کہیں فاصلہ ہے تو راستہ بن جائیں اوردو دلوں کے درمیان پل کا کام نبھائیں۔

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنھا سے راویت ہے انھوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوے سنا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جوجھوٹی بات صلح کروانے کی نیت سے کردے بشرطیکہ کے اسکی نیت صلح کروانے کی ہو.

راستے سے تکلیف دہ اور اذیت دینے والی چیزوں کو ہٹا دینا سب سے بڑا صدقہ قرار دیا گیا ہے، مجھے اس گنہگار شخص کا واقعہ یاد ہے جس نے راستے سے گزرتے ہوے کانٹوں بھری ٹہنی یہ سوچ کر ہٹائی تھی کے کسی کو تکلیف نہ پہنچے تو اسکے اتنے سے عمل کے بدلے اللہ نے اس شخص کی مغفرت کر دی تھی ۔ زندگی کا بھی ہر راستہ دلوں کا راستہ ہے ،جو دل کی بہت سی پگڈنڈیوں اور کچے پکے راستوں پر مشتمل ہے.

امام اوزاعی رحمتہ اللہ کہتے ہیں : اللہ عزوجل کو سب سے زیادہ وہ قدم پسند ہیں جو مسلمانوں کے درمیاں صلح اور باہم اصلاح کے لیے اٹھیں۔آج ہم خود دوسروں کے راستوں میں کانٹے بچھانے والے لوگوں میں شامل ہو چکے ہیں ، اور کوئی ان کانٹوں بھری ٹہنیوں کا اٹھانے والا ہم میں موجود نہیں رہا ، خدارا اس صدقے کو ضائع مت جانیں دیں.

ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا،اے لوگو!جو محض زبان سے ایمان لائے ،اور یہ ایمان انکے دل تک نہہں پہنچا،مسلمانوں کو تکلیف مت دو،جو اپنے بھائی کی عزت کے درپے ہو گا تو اللہ اسکے درپے ہو گا اور اسے ذلیل کرے گا خواہ وہ محفوظ جگہ پر چھپا ہو.

میرے نزدیک اس زمینی راستے سے کہیں زیادہ اہمیت کا راستہ و ہ ہے جو دلوں کے اندر جاتا ہے اور دلوں کو آ باد کرتا ہےجن زمینی راستوں پر چل چل کر ہم ایک دوسرے کے دلوں میں تھے وہ راستے پھر سے آباد کجئیے.نفرت اور انا پرستی کی دھول کو اس راستے سے ہٹائیے ،کانٹے بھری ٹہنیوں کو صاف کجئیے،دلوں میں گنجائش ، اور معاف کرنے کے حوصلے پیدا کر کے محبت پھیلائیے۔دلوں کے اندر نفاق پیدا نہ کجئیے ،اور کسی کے دل میں پیدا ہو جائے تو اسے ختم کروا دیجئے۔آپ کے لئے اگر کسی نے راستے بند کئے تھے تو اپ ویسا مت کریں،کیونکہ آپکا ایک عمل دلوں میں اس معاشرے میں بہت زیادہ نہ سہی مگر کچھ بہتری ضرور لا سکتا ہے ۔معاشرے میں کسی بہتری کی جانب اپنا پہلا قدم اپ خود بڑھائیے ،،اچھے راستوں کا حق ادا کیجیئے اپنے صدقات میں اضافہ کیجئے۔

دینی اور دنیاوی دونوں راستوں میں وسعت پیدا کریں ۔ راستوں کی بھی،دلوں کی بھی اور سب سے بڑھ کر صدقوں کی حافظت کیجئے کیا پتہ کل قیامت والے دن کونسا راستہ اور کونسا صدقہ آپکی ذات کے لیے زریعہ نجات بن جائے اور ہو سکتا ہے کے یہ وہی راستہ نجات ہو جو اھدنا اصراط المستقیم کی دعا ہے
اللہ اپ سب کو دلوں میں راستے بنانے والا بنائے، نہ کے راستہ بند کرنے والوں میں شامل کرے۔ آمین