نقطہ نظر/سردارعلی شاہنواز خان

46

نظام تعلیم کوپلٹنے کی ضرورت

آزادکشمیر میں بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق بجٹ کا اٹھائیس فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود کوالٹی ایجوکیشن کا فقدان ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ وہاں طلبا کم اور اساتذہ زیادہ ہوتے ہیں۔حکومت بھی کوششوں کے باوجود معیار تعلیم بہتر بنانے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔ میٹرک کے طلبا 95 فیصد سے زائد نمبر بھی لے لیتے ہیں لیکن وہ کتاب سے باہر کچھ نہیں جانتے ۔ اس صورتحال میں کوالٹی ایجوکیشن کیلئے حکومت کو بولڈ اسٹیپ لینے کی ضرورت ہے۔اس کیلئے حکومت آزاد کشمیر نئی تقرریاں کرے اور یہ تقرریاں میرٹ پر ہوں۔ یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ موجودہ ملازمین کو یکدم فارغ کرنا مشکل ہے لیکن اس کیلئے ایک طریق کار اپنایا جا سکتا ہے ۔ ملازمین(جو بھرپور کام نہیں کر سکتے) کو گولڈن شیک ہینڈ کیا جائے اور مناسب پنشن کی ادائیگی ممکن بنائی جائے ۔ ایسی تجاویز پہلے بھی آ چکی ہونگی تاہم حکومتیں اپنے ووٹ بنک کیلئے ایسا نہیں کرتیں۔

فاروق حیدر نے این ٹی ایس کی صورت میں میرٹ کی بحالی کیلئے کوششیں کی جو قابل ستائش ہیں تاہم شعبہ تعلیم میں بہتری صرف اس وقت ممکن ہو سکتی ہے جب فریش لوگوں کو سامنے لایا جائے اور مدت ملازمت 25سال یا عمر ساٹھ سال رکھنے کے بجائے فوج کی طرح کم مدت رکھی جائے تاکہ نئی نسل کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق تعلیم مل سکے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ مختلف نصاب تعلیم کے پڑھائے جانے کا ہے جس وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے سبقت لے جاتے ہیں ۔ اس کے حل کیلئے حکومت کو چاہئیے کہ وہ قانون سازی کریں اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو پرائمری اور مڈل بورڈ کے تابع کریں۔ آزاد کشمیر میں اس وقت پرائمری اور مڈل تعلیمی بورڈز اضلاع کی سطح پر موجود ہیں ۔ اس سے یکساں نصاب تعلیم پڑھایا جائے گا اور معاشرے میں پیدا ہونے والے تفریق میں کمی آئے گی۔