آگہی/عمرفاروق

33

بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ ،گریٹراسرائیل کی طرف پیش قدمی

وائٹ ہاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کررہے ہیں اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 20 سال سے کسی امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر پیش رفت نہیں کی تاہم اتنے طویل عرصے کے بعد ہم دیرینہ امن کے قریب ہیں، مقبوضہ بیت المقدس کامیاب جمہوریتوں کا دل ہے اور یہاں اسرائیلی پارلیمنٹ بھی موجود ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اقدام امن کے لیے ناگزیر تھا اس اقدام کے باوجود اسرائیل اور فلسطین کی خود مختار حیثیت قائم رہے گی جب کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تمام مذاہب کے ماننے والے پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معلوم ہے اس فیصلے کی مخالفت کی جائے گی تاہم امریکا دو ریاستی نظریے کی مشروط حمایت کرتا ہے ہمیں نفرت کی نہیں بلکہ بردباری کی ضرورت ہے اور اپنی نسلوں کو تنازعات کے بجائے امن دے کر جانا چاہتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کی تیاری کی جائے جب کہ انہوں نے خطے کے لیڈروں سے امن کی تلاش کے لیے ملکر کام کرنے کی بھی اپیل کی.

ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط بھی کردیے ہیں۔اس حکم نامے کے بعد اسرائیلی انتظامیہ نے بیت المقدس اور تاریخی شہر میں جگہ جگہ اسرائیل اور امریکہ کے جھنڈے لہرادیئے ہیں۔واضح رہے کہ 1995 میں امریکی کانگریس اسرائیل میں سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کی منظوری دے چکی ہے۔ اس کے بعد سے تمام صدور اس فیصلے پر عمل درآمد کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرتے رہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیاتھا کہ وہ امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کریں گے .

امریکی صدرکے اس اعلان کے بعدعالمی براردری اورمسلم ممالک کی طرف سے سخت ترین ردعمل سامنے آیاہے اورامرکی اقدام کی شدیدترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عالم اسلام کے لیے اشتعال انگیز ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ دنیا بھر کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصی کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ان مقامات سے مسلمانوں کی وابستگی بہت گہری ہے۔ اس نازک معاملے پر کسی بھی متنازع امریکی فیصلے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، امریکا کا یہ فیصلہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن عمل کو ناصرف متاثر کرے گا بلکہ خطے میں تنائو اور کشیدگی میں اضافے کا بھی باعث ہوگا ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس مسلمانوں کے لیے ایک سرخ لکیر ہے،امریکی صدر سفارت خانے کی منتقلی سے باز رہیں اگر امریکا نے کوئی قدم اٹھایا تو تل ابیب سے اپنے تعلقات ختم کردیں گے۔

فلسطین کی درخواست پر عرب لیگ کے قاہرہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اس قسم کا کوئی اقدام سے خطرناک نتائج مرتب ہونگے اور فلسطین اسرائیل تنازع کے ممکنہ حل کے لئے جاری کوشش میں امریکا کے کردار کا خاتمہ کردینے کے لئے کافی ہوگا۔ابو الغیط نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے بیت المقدس کی اصل حیثیت اور شناخت کو تبدیل کردے۔ پاکستان نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، امریکی اقدام مشرق وسطی کے امن عمل کی تباہی کا باعث ہوگا جب کہ پاکستان بیت المقدس کواسرائیل کا دارالخلافہ ماننے کی سخت مخالفت کرتے ہیں، امریکی فیصلے کی مخالفت میں پاکستان عالمی برادری کیساتھ ہے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صورتحال کوسنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل اقوام کے چارٹرکے مطابق نوٹس لے اور خطے میں صورتحال بگڑنے سے پہلے امریکا فیصلے پر نظرثانی کرے جب کہ اگلے ہفتے ترکی کی جانب سے اسلامک سمٹ بلانے کا خیرمقدم کرتے ہیں، اسلامک کانفرنس میں اس مسئلے پرسنجیدہ بحث ہوگی۔

یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ کے بیشتر امور اسرائیل سے کنٹرول کیے جاتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو امداد کے نام پر اتنی خطیررقم دیتا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ 14 ستمبر2016 کو امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ 10 سالہ فوجی امداد کا معاہدہ سائن کیا جس کے تحت امریکہ اسرائیل کو 38 بلین ڈالر کی امداد دے رہا ہے، امریکہ کی سلامتی کی پالیسی سے لے کر انتظامی امور تک سب یروشلم سے ہی طے پاتے ہیں۔ اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جیسے بین الاقوامی ادارے اسرائیل کے اختیار میں ہیں تو امریکہ کی پالیسیز پاکستان کے حق میں مفید کیسے ہوسکتی ہے؟۔ گزشتہ سال امریکا نے اسرائیل کیلیے 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا جس میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل میں مزید اضافے کا اعلان کردیا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے یہ اقدام گریٹراسرائیل کی طرف پیش قدمی ہے جس کی طرف یہودی ایک منصوبے کے تحت بڑھ رہے ہیں گریٹر اسرائیل کے نقشے کو انٹرنیٹ پر بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے، یہ اب کوئی رازنہیں رہا۔ اگر گریٹر اسرائیل کے نقشے کو دیکھا جائے تو اس کی ایک لکیر عراق کے شہر بغداد سے شروع ہوکر کردستان سے ترکی، اسرائیل، لبنان، اردن اور آخر میں سعودی عرب تک آتی ہے جو پورے عرب خطے کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔یہودیوں کے گریٹر اسرائیل(عظیم تر اسرائیل)کا نقشہ سعودی عرب تک وسیع ہے، جس میں مدینہ منورہ کے وہ علاقے بھی شامل ہیں، جہاں سے وہ عہد رسالت میں یہودیوں کو جلاوطن کر دیا تھا۔ مگر صد افسوس کہ ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اس حوالے سے انتہائی بے حسی کا شکار ہیں۔ وہ اسرائیل اورامریکہ کے راستے میں کیا بند باندھتے۔عراق کو برباد کرنے کے لیے کہا گیا کہ یہاں تباہ کن ہتھیار موجود ہیں، لیکن لاکھوں عراقیوں کے قتل کے بعد بھی کسی ہتھیار کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مگر عراق کے تیل کی دولت پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جو قبضہ کیا، اس پر سوال کرنے والا کوئی نہیں۔
عراق کی تباہی اور کنٹرول کا اصل مقصد وہاں موجود تیل کی دولت پر قبضہ کرنا تھا۔ اسرائیل کے معروف اخبار یروشلم پوسٹ میں 24 اگست 2015 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اسرائیل، عراق سے اپنی ضرورت کا 77 فیصد تیل حاصل کرتا ہے۔ 1300 کلومیٹر پر مشتمل تیل کی پائپ لائن باقاعدگی سے اسرائیل کو تیل فراہم کررہی ہے۔

اس کے ساتھ سرزمینِ عرب کے مختلف خطوں کی تباہی سے دنیا آگاہ ہے، عراق میں کردستان سے نئی ریاست کیلیے جدوجہد کرنے والے کردوں کی کارروائیاں خطرناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ شمالی عراق میں آزاد کردستان کیلیے ریفرنڈم کامیاب ہو گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ 75 فیصد سے زائد کردوں نے اپنے علیحدہ وطن کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ عراق نے اسے مسترد کرتے ہوئے سخت مخالفت کی ہے لیکن نحیف عراق کی سنے گا کون؟ اسرائیلی وزیراعظم نے فوری طور پر آزاد کردستان میں اسرائیلی سفارتخانہ کھولنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان معنی خیز ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اسپین میں بھی ایک علیحدگی پسند تحریک چل رہی تھی جس میں اسپین کے شمال مشرقی علاقے کاتالونیا میں ایک کامیاب ریفرنڈم کے تحت علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اسرائیل نے وہاں اپنا سفارتخانہ کھولنے کا اعلان نہیں کیا۔ وجہ عقل مند ذہنوں میں بہ آسانی سماسکتی ہے کہ اسپین نہ تو مسلم ملک ہے اور نہ ہی وہ گریٹر اسرائیل کی سرحدوں سے ملتا ہے۔

فلسطین 1948 تک بس فلسطین تھا، لیکن اسرائیلی ریاست کے بزور طاقت قیام کے بعد فلسطین اب تین حصوں اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں تقسیم ہو چکا ہے۔ شروع شروع میں یہودی بیت المقدس میں روحانی سفر یا زیارت کا بہانہ بنا کر آتے رہے اور وہیں پر رہائش پذیر ہوتے گئے اور مسلمان بے خبر غفلت کی نیند سوتے رہے، لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ ہوگیا اور یہ قبضہ 1917 سے 1948 تک برقرا رہا۔ یہود و نصاری کی سازش کے تحت نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت فلسطین میں صرف تین فیصد یہودی آباد تھے۔ جس وقت برطانیہ1948 میں فلسطین سے دستبردار ہوا اور اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا، تو اس وقت فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بمشکل سات فیصد تھی اور آج اِس وقت75 فیصد یہودی فلسطین میں نہ صرف آباد ہیں بلکہ پورا فلسطین اِن کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے پر مجبور اور لاچار ہے۔ اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطین کی آبادی 13 لاکھ تھی، اب صرف اسرائیل کی آبادی 85 لاکھ اور فلسطینی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی44 لاکھ کے قریب ہے۔پہلی عرب اسرائیل جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے، تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس)اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ (جون 1967) میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ صیہونیوں نے بڑی منصوبہ بندی سے فلسطینیوں کے مال، جائیداد اور وسائل پر قبضے پر ہی اکتفا نہ کیا، بلکہ ساتھ ہی قریبی ممالک مصر، اردن، لبنان اور شام کے وسائل پر بھی قبضہ کرنا شروع کردیا، اور یہ قبضہ آج اِس حدتک پہنچ گیا ہے کہ فلسطین بس زمین کے دو ٹکڑوں پر باقی رہ گیا ہے۔ 1948کی اسرائیل عرب جنگ میں سات لاکھ تیرہ ہزار فلسطینی مسلمان گھربار چھوڑنے، دربدر ہونے اور پناہ گزینوں کی زندگی لبنان، اردن، شام، عراق، غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں گزارنے پر مجبور ہوئے اور تازہ اعدادوشمار کے مطابق تیس لاکھ سے زائد فلسطینی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ یہودیوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ اسرائیل کو مزید وسعت دی جائے اور مسجد اقصی کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے۔یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا –

اب اسرائیل 20,770 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ہے۔ پچاسی لاکھ پر مشتمل آبادی والے ملک اسرائیل کے پاس زرمبادلہ کے 272 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں اور بیس کروڑ آبادی والے ایٹمی ملک پاکستان کے پاس صرف 20 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔ فلسطینی علاقہ 6220 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ مغربی کنارے کو بحیرہ مردار اور اردن کی سرحد لگتی ہے۔ اردن جانے کیلئے دریائے اردن پر شاہ حسین پل بنا کر جوڑا گیا ہے، جو اسرائیل کے کنڑول میں ہے۔ جبکہ غزہ پٹی کو بحیرہ روم اور مصر کی سرحد لگتی ہے۔ مصر نے1980 میں غزہ پٹی پر قبضہ کر لیا تھا، پھر 1967میں اسرائیل نے قبضہ واپس لے لیا تھا۔ پھر مصرکی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد1980 میں مصر اور اسرائیل میں بانٹ دیا گیا تھا۔ غزہ پٹی کو ستمبر 2005 میں فلسطینی اتھارٹی کو دے دی گئی۔ مصر کی سرحد کے ساتھ رفاح کراسنگ پوائنٹ ہے جواب یورپی یونین کی نگرانی میں ہے، جبکہ قریبی بیس سے اسرائیل تمام نقل وحمل کی حرکات کاجائزہ ویڈیولنک سے کرتاہے۔مغربی کنارے اور غزہ پٹی کا آپس میں چالیس کلومیٹر سے پچاسی کلومیٹر ہے۔ لیکن ایک سے دوسری جگہ جانے کیلئے اسرائیل سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے فلسطین اب صرف دوحصوں میں بچ گیا ہے ایک حصے کا نام غزہ پٹی اور دوسرے حصے کا نام مغربی کنارہ ہے جس میں بیت المقدس واقع ہے۔ قبلہ اول جس شہر میں واقع ہے اسے صدیوں پہلے عبرانی زبان میں بیت ہمقدش کہا جاتا تھا جو عربی زبان میں بیت المقدس بنا اور یورپی زبان میں اِسے یروشلم کہتے ہیں۔ بیت المقدس یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کیلئے بہت ہی مقدس اور لائق تکریم مقام ہے۔ یہودیوں کیلئے اِس لئے مقدس ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ معبد یہیں پر موجود ہے، جو بنی اسرائیل کے انبیاء کا قبلہ تھا اور اِسی شہر سے یہودیوں کی تاریخ اور ابتدا بھی وابستہ ہے۔ ہیکل سلیمانی اس خیمہ نما عمارت کو کہتے ہیں جہاں یہودی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے مقدس تبرکات والا تابوت ِسکینہ رکھا کرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی بیت المقدس پر قبضے کی مختلف جنگوں میں تباہ و مسمار کر دیا گیا اور اب اس کی صرف ایک دیوار باقی ہے، جسے دیوارِگریہ کہا جاتا ہے اور اِن جنگوں میں تابوتِ سکینہ بھی چوری کر لیا گیا، جس کا لاکھ جتن کرنے کے باوجود کہیں نام و نشان اور سراغ نہیں ملا۔ یہ وہ تابوت ِسکینہ ہے جس کو یہودی ہرجنگ میں آگے آگے لے کر چلتے تھے اور اس کی برکت اور فیض سے فتح حاصل کیا کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کی تمام دنیا کے مقابلے میں یہاں پر موجودگی زیادہ ثابت ہوتی ہے اور دوسرا یہ وہی جگہ ہے، جہاں پر اللہ تعالی نے زمین کی پرت کی ہر قسمی مٹی کو اکٹھا کر کے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تھا۔ یہودیوں کی تاریخ اور تورات کے مطابق سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ مسجد اقصی کی بنیاد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ڈالی اور پھر یہ شہر آباد ہوا۔ کافی عرصہ گزر جانے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اور شہر کی دوبارہ تجدید کرائی۔ حضرت عزیر علیہ السلام کا بھی اِسی مقدس شہر سے گزر ہوا تھا اور آپ نے شہر کو برباد اور کھنڈرات میں دیکھ کر تعجب کا اظہار کیا تھا کہ یہ ویران اور برباد شہر کیسے آباد ہوگا؟ اِسی تعجب اور حیرانگی پر اللہ تعالی نے آپ کو سوسال کیلئے موت دے دی تھی اور جب آپ دوبارہ اٹھائے گئے تو یہ شہر پھر آباد اور پررونق بن چکا تھا۔ عیسائیوں کیلئے یہ شہر اِس لئے مقدس ہے کہ یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش گاہ، ان کی تبلیغ کا مرکز اور وہ چرچ یہیں پر واقع ہے، جہاں عیسائیوں کے بقول حضرت عیسی کونعوذبااللہ کو پھانسی دی گئی تھی ۔ مسلمانوں کیلئے یہ شہر اِس لئے وجہ ِ تکریم وتحریم ہے کہ پہلے پہل مسلمان اِسی قبلہ اول کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے رہے۔ دوسرامسجد اقصی وہ عظیم تاریخی اور مقدس مسجد اور قبلہ اول ہے، جہاں پر رسول پاک ۖنے شب معراج تمام انبیا و مرسلین کو باجماعت نماز پڑھائی تھی۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا زمینی فاصلہ تقریبا تیرہ سو کلومیٹر بنتا ہے اور اِسی دوری کی وجہ ہے کہ قران کریم میں جب معراج النبی ۖکا ذکر ہوا تو اِسے مسجدِ اقصی (بہت دورمسجد)کہا گیا۔یہیں سے حضورۖ معراج پرتشریف لے گئے تھے

اِسرائیل کے ناجائز قیام کے وقت 1948ء میں بیت المقدس کی آبادی ایک لاکھ65 ہزار تھی اور آج اِس کی آبادی9 لاکھ سے زیادہ ہے، جس میں15 ہزار عیسائی، تین لاکھ مسلمان اور باقی چھ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ بیت المقدس شہر پہاڑی علاقے میں آباد ہے، جس میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہِ صیہون ہے، جس پر مسجد اقصی اور قبتہ الصخرہ واقع ہیں۔ اِسی پہاڑی کی مناسبت سے یہودیوں کو صیہونی کہا جاتاہے اور ان کی عالمی تحریک کا نام بھی تحریکِ صیہنونیت اسی پہاڑ اور علاقے کی وجہ سے ہے۔ بیت المقدس شہر اسرائیل کا دارالحکومت ہے، کیونکہ یہودیوں کے بقول حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا دارالحکومت بیت المقدس تھا۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کے تمام تر انتظامی ادارے، بلکہ اسرائیلی پارلیمنٹ، وزیراعظم اور صدرکی رہائش گاہ اور سپریم کورٹ بھی بیت المقدس میں واقع ہیں، سوائے وزارت دفاع و آبپاشی کے جو تل ابیب میں ہیں۔ بین الاقوامی برادری مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا حِصہ نہیں مانتی، اِس لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے باوجودامریکہ کے اقدام سے قبل کسی بھی ملک کا سفارتخانہ یروشلم میں نہیں تھا۔ یہی وہ بات تھی کہ جس کی بناء پرکہاجاتاتھا اسرائیل کے متنازعہ ملک ہے دنیا اِس متنازعہ مقدس شہر میں اپنا سفارتخانہ یا قونصل خانہ کھولنے کو تیار نہیں ہے۔ جبکہ فلسطینی اتھارٹی بھی بیت المقدس کوہی اپنے دارالحکومت کے طور پر دعوی کرتی ہے اور مذاکرات کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ بیت المقدس کے بغیر کوئی بھی معاہدہ قبول کرنے کو تیار نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ یروشلم یا القدس کی اِس طویل تاریخ میں یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں میں اِس پر قبضے کیلئے لاتعداد جنگیں ہو چکی ہیں۔ جس میں بیت المقدس شہر دوبار مکمل طور پر تباہ ہوا، 23بار اِس کا محاصرہ ہوا اور 52 بار اِس پر حملہ کیا گیا۔ قبضے کی اِن خونی جنگوں میں بیت المقدس شہرپر 44بار قبضہ یادوبارہ قبضہ کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں گزشتہ دنوں تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی کے اس توسیع پسندانہ پالیسی کے خلاف قرارداد منظور ہوئی تھی۔ مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست ایک بے لگام بیل ہے، جو اقوام متحدہ سمیت کسی عالمی ادارے کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ امریکہ نے یہ اقدام کرکے اقوام متحدہ کواس کی حیثیت دکھادی ہے اسرائیل کی ان تمام ناپاک جسارتوں کے باوجود مسلم حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ قبلہ اول کے منتظمین بھی مسلم حکمرانوں سے مایوس ہوکر کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کو دہائی دے رہے ہیں۔