22

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج یروشلم کے اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں

یروشلم (سٹیٹ ویوز )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج یروشلم کے اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں اور وہ ایسا کرنے والے پہلے عالمی رہنما ہوں گے۔دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے باوجود امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے عرب رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدام مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے مترادف ہوں گے اور اس سے مشرق وسطیٰ کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔اسرائیلی اور فلسطینی دونوں اس ‘مقدس’ شہر پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں اور اس کا تنازع بہت پرانا ہے۔

روشلم اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ بھی ہے۔ یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور مسیحیوں تینوں کے نزدیک اہمیت کا حامل ہے۔پیغمبر حضرت ابراہیم سے اپنا سلسلہ جوڑنے والے تینوں مذاہب یروشلیم کو مقدس مقام کہتے ہیں۔

.ہی وجہ ہے کہ صدیوں سے اس شہر کا نام مسلمان، یہودیوں اور عیسائیوں کے دلوں میں آباد ہے۔ یہ شہر عبرانی زبان میں یروشلایم اور عربی میں القدوس کے نام سے معروف ہے جبکہ یہ دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔اس شہر پر کئی بار قبضہ کیا گیا، مسمار کیا گیا اور پھر سے آباد کیا گیا۔

یہی سبب ہے کہ اس سرزمین کی تہوں میں ایک تاریخ موجود ہے۔آج یروشلم مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان تقسیم اور تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہے جبکہ اس شہر کی تاریخ ان لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتی بھی ہے۔شہر کے مرکز میں ایک قدیمی شہر ہے۔

تاریخی فن تعمیر کے نمونے سے مالا مال بھول بھلیاں جیسی تنگ گلیوں کے درمیان یہ چار حصوں مسیحی، اسلامی، یہودی اور ارمینیائی میں منقسم ہے۔اس کے چاروں جانب دیوار ہے جس کے اندر دنیا کے بہت سے مقدس مقامات ہیں۔

اور ہر حصے کی اپنی مخصوص آبادی ہے۔عیسائیوں کے دو علاقے ہیں کیونکہ آرمینیائي بھی عیسائی ہیں۔ تمام علاقوں میں قدیم ترین آرمینیا کا علاقہ ہے۔یہ آرمینیائی نسل کا قدیم ترین مرکز بھی ہے۔ سینٹ جیمز چرچ اور موناسٹری میں آرمینیائي باشندوں نے اپنی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ کر رکھا ہے۔

علاقے میں دا چرچ آف دی ہولی سیپلکر یعنی کنیسۃ القیامہ ہے جو دنیا بھر میں مسیحیوں کے لیے باعث احترام ہے۔ روایات کے مطابق یہیں حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا۔اسی کو کیلوری کا پہاڑ کہا جاتا ہے اور بعض روایت کے مطابق یہیں ان کا مقبرہ ہے

اور بعض کے مطابق وہ یہیں سے آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے۔اس چرچ کا انتظام مسیحی برادری کے مختلف فرقوں بطور خاص یونانی آرتھوڈوکس پیٹريارک، رومن کیتھولک چرچ کے فرانسسکن فرايرس اور آرمینیائي پیٹرياركٹ کے علاوہ ایتھوپیائی، قبطی اور شامی آرتھوڈوکس چرچ سے منسلک پادری بھی سنبھالتے ہیں۔

ہر سال لاکھوں لوگ یہاں آتے ہیں اور دعا کے ساتھ توبہ کرتے ہیں۔مسلمانوں کا علاقہ چاروں علاقوں میں سب سے بڑا ہے اور یہیں ڈوم آف دا راک (قبۃ الصخرہ) اور مسجد الاقصیٰ واقع ہے۔ یہ ایک سطح مرتفع پر واقع ہے جسے مسلمان حرم الشریف یا بیت مقدس کہتے ہیں۔

مسجد الاقصی اسلام کا تیسرا سب سے مقدس مقام ہے اور ایک اسلامی ٹرسٹ یعنی وقف کے ذمے اس کا انتظام و انصرام ہے۔مسلمانوں کا ایمان ہے کہ پیغمبر حضرت محمد کو یہیں سے معراج ہوئی تھی۔ہر روز ہزاروں مسلمان اس مقدس مقام پر آتے ہیں اور نماز ادا کرتے ہیں۔

رمضان کے مہینے اور جمعہ کے دن یہاں ان کی بہت زیادہ تعداد ہوتی ہے۔دیواریہودیوں کے علاقے میں کوٹیل یا مغربی دیوار ہے۔ یہ وال آف دا ماؤنٹ کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہودیوں کا مقدس مقام کبھی اس جگہ تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسی کے اندر ‘ہولی آف دا ہولیز’ یعنی یہودیوں کا مقدس ترین مقام تھا۔یہودیوں کا یقین ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اور یہیں پیغمبر ابراہیم نے اپنے بیٹے حضرت اسحاق (مسلمان حضرت اسماعیل کی قربانی کی بات کہتے ہیں) کی قربانی کی تیاری کی تھی۔

کئی یہودیوں کا خیال ہے کہ ڈوم آف دا راک ہی ہولی آف دا ہولیز ہے۔آج مغربی دیوار یہودی کی نزدیک ترین مقام ہے جہاں سے یہودی ہولی آف دا ہولیز کا تقرب محسوس کرتے ہیں۔اس کا انتظام مغربی دویار کے ربائی کے ہاتھوں میں ہے جبکہ ہر سال وہاں دنیا بھر سے لاکھوں یہودی پہنچتے ہیں۔

فلسطینی اور اسرائیلی تنازعے کے مرکز میں قدیم یروشلم شہر ہی ہے۔ یہاں کے حالات میں معمولی سی تبدیلی بھی کئی بار تشدد اور بڑی کشیدگی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یروشلم میں رونما ہونے والا ہر واقعہ اہم ہو جاتا ہے۔یہ شہر نہ صرف مذہبی طور پر اہم ہے بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔

زیادہ تر اسرائیلی یروشلم کو غیر منقسم اور بلا شرکت غیرے اپنا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں۔ اسرائیل کا ایک ملک کے طور پر سنہ 1948 میں قیام عمل میں آیا تھا۔ اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ کو شہر کے مغربی حصے میں قائم کیا گیا تھا۔ جبکہ سنہ 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ کر لیا۔

اس کے ساتھ قدیمی شہر بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے قبضے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔یروشلم پر اسرائیل کی مکمل حاکمیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا ہے جس پر اسرائیلی رہنما اپنی مایوسی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

فلسطینیوں کا موقف اس کے برعکس ہے۔ وہ مشرقی یروشلیم کو مستقبل کا اپنا دارالحکومت کہتے ہیں۔ اوراسرائیلی اور فلسطینی کے درمیان امن مذاکرات میں اس پر رضامندی کی بات بھی شامل ہے۔اس امن پراسیس کو دو قومی نظریے کے حل کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

اس کے تحت سنہ 1967 سے قبل کی سرحد پر ایک آزاد فلسطینی ملک کی تعمیر کا خیال ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ بھی درج ہے۔یروشلم کی ایک تہائي آبادی فلسطینی آبادی ہے جن میں سے بہت سے خاندان صدیوں سے وہیں آباد ہیں۔

شہر کے مشرقی حصے میں یہودی بستیوں کی تعمیر بھی تنازعے کا بڑا سبب ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت یہ تعمیرات غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل اس سے انکار کرتا ہے۔بین الاقوامی برادری کئی دہائیوں سے کہہ رہی ہے کہ یروشلم کی حیثیت میں کوئی تبدیلی صرف امن مذاکرات سے ہی آ سکتی ہے۔

لہٰذا تمام ممالک کے اسرائیل میں سفارتخانے تل ابیب میں واقع ہیں اور یروشلم میں صرف قونصل خانے ہیں۔لیکن صدر ٹرمپ اپنے سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے پر مصر ہیں۔ٹرمپ دو ممالک کے تصور سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا ملک چاہتے ہیں جس پر فریقین میں اتفاق ہو۔