38

حضرت عزرائیلؑ کیونکر موت کے فرشتے مقرر ہوئے؟ ایمان تازہ کردینے والی تحریر

اسلام آباد ( سٹیٹ ویوز)بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پر رب العالمین کا حکم ہوا کہ ایک مشت خاک زمین پر سے لاؤ بحکم الہٰی جبرائیل علیہ السلام آسمان کی بلندی سے فوراً اس زمین پر آئے کہ اب جہاں خانہ کعبہ ہے۔ آپ نے جونہی زمین سے مٹی اٹھانی چاہی

اس وقت زمین نے ان کو قسم دی کہ اے جبرائیل خدا کے واسطے مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے خلیفہ پیدا ہو گا اور اس کی اولاد بہت عاصی و گنہگار ہوگی اور اسی وجہ سے عذاب میں بھی مبتلا ہو گی میں مسکین خاک پا ہوں اللہ کے عذاب کی طاقت نہیں رکھتی ہوں، خدا کا واسطہ سن کر

حضرت جبرائیل علیہ السلام مٹی لئے بغیر واپس چلے آئے۔ (اس واپسی میں بھی اللہ کی حکمتیں پوشیدہ تھیں) آپ نے عرض کی اے رب کریم زمین نے مجھے آپ کا واسطہ دیا جس کی وجہ سے میں زمین سے مٹی نہ لا پایا۔ اسی طرح سے جبرائیل علیہ السلام پھر گئے اور میکائیل

اور اسرافیل علیہما السلام سے بھی یہ کام انجام کو نہ پہنچا۔ تب حضرت عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا ان کو بھی زمین نے منع کیا انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ جس کی قسم دیتی ہے میں اس کے حکم سے ہی آیا ہوں میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا تجھ کو لے ہی جاؤں گا۔

پس عزرائیل علیہ السلام نے ہاتھ نکال کر ایک مٹھی خاک کی بھر کر اسی سرزمین سے لے کر عالم بالا پر چلے گئے اور اللہ کی بارگاہ میں پیش کردی۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزرائیل علیہ السلام میں اس خاک سے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کروں گا اور اس کی جان قبض کرنے کے لئے تجھی کو مقرر کروں گا۔

تب عزرائیل علیہ السلام نے معذرت کی۔ کہ یارب تیرے بندے مجھے دشمن جانیں گے اور گالیاں دیں گے۔ جناب باری تعالی جل جلالہ نے فرمایا اے عزرائیل تو غم مت کر میں تمام مخلوقات کا خالق ہوں ہر ایک موت کا سبب گردانوں گا اور ہر شخص اپنے اپنے مرض میں گرفتار رہے گا۔

تب دشمن تجھ کو نہ جانے گا۔ کسی کو درد میں مبتلا کروں گا اور کسی کو تپ دق میں اور کسی کو پانی میں غرق کروں گا۔ اور تجھے کوئی قصور وار نہ کہے گا۔ (واللہ اعلم)