20

آرایس ایس نے لال چوک میں بھارتی ترنگالہرا دیا

سرینگر(نیوزڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں جاری کشیدگی کے بعد وادی کے لوگوں کو ایک اورسنگین صورتحال کا سامنا ،بھارتی تنظیم شیوسینا کی سرگرمیوں پر ریاستی عوام شش وپنج میں مبتلا ہوگئے ۔

لال چوک میں ترنگا لہرانے کی کوشش کوناکام بناتے ہوئے سٹی پولیس نے شیوسینا اوربجرنگ دل کی ریاستی شاخ کے کچھ لیڈروں اورکارکنوں کوگرفتارکرکے پولیس تھانہ کوٹھی باغ منتقل کیا ۔اس دوران بی جے پی کے ایک ترجمان نے شیوسیناکارکنوں کی گرفتاری کوبدقسمتی سے تعبیرکرتے ہوئے کہا کہ لال چوک انڈیا ہے اورکارکنوں کوترنگا لہرانے کی اجاز ت دی جانی چاہیے ،بدھ کی صبح سری نگر کے تاریخی لال چوک میں پولیس کواس وقت فوری حرکت میں آکرکارروائی کرنی پڑی جب شیوسینا اوربجرنگ دل کی ریاستی شاخ کے لیڈروں اورکارکنان نے یہاں ترنگا لہرانے کی کوشش کی ۔


بتایا جاتا ہے کہ بدھ کی صبح جب شدید سردی کے باعث ابھی سول لائنز میں بیشتر دکانات اورکاروباری مراکز بندہی پڑے تھے تو شدت پسند ہندوتنظیموں کے کچھ لیڈراورکارکن لال چوک میں نمودار ہوئے اورانہوں نے جے ہند کے نعرے بلندکرتے ہوئے یہاں واقع تاریخی گھنٹہ گھر پر بھارت کا قومی پرچم ترنگا لہرانے کی کوشش کی لیکن اسی پل پولیس کی ایک پارٹی بھی یہاں پہنچی اورانہوں نے اس کوشش کاناکام بناتے ہوئے شیوسینا اوربجرنگ دل کی ریاستی شاخ کے کچھ لیڈروں اورکارکنوں کو حراست میں لے لیا ۔خیال رہے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے شیوسینا نے لال چوک سری نگر میں ترنگا لہرانے کا اعلان کردیا۔