ادراک/ جسٹس (ر) منظورحسین گیلانی

47

تعلیمی پیکیج سے توہین عدالت تک

تعلیمی پیکیج ایک طرف سے حکومت اور اسمبلی اور دوسری طرف سے پیپلز پارٹی کے درمیان انا کا مسئلہ بنا ہوا تھا – میں نے شروع دن میں وزیر تعلیم کو براہ راست کہنے کے علاوہ میڈیا کے ذریعہ بھی یہی تجویز دی تھی جو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کے فیصلہ میں قرار دیا – اس کیس میں انتظامی اور جوڈیشل سنس ( judicial sense ) کا تقاضا یہی تھا اور حکومت کی قانونی ٹیم کو یہی مشورہ دینا چاہئے تھا، نہ معلوم سال بھر محکمہ تعلیم میں ایک ہیجانی کیفیت جاری کر کےحکومت نے سوائے سکولوں اور کالجوں کے بچوں کا وقت اور اپنی توانایاں ضائع کرنے کے علاوہ کیا پایا-

حکومت اور اپوزیشن کے دنگل میں فی الحال ، ممحکمہ تعلیم کے کالجوں کے سیکریٹری اور ڈائیریکٹر کو توہیں عدالت کا مرتکب قرار دیکر قربانی کا بکرا بنایا گیا، جس کی بنیادی طور پر ذمہ دار حکوت ہے، اس کے اہلکار نہیں، کیونکہ اہلکار حکومت کے تحریری اور زبانی احکامات پر عملدر آمد کرنے کے پابند ہوتے ہیں، اگر نہ کریں تو ان کی نوکری اور روز گار جاتا ہے ، بلخصوص ایسے hot contested cases میں جہاں سیاست دان آپس میں لڑ رہے ہیں اور حکومت کرنے والے سیاست دانوں کو اپنے کام اہلکاروں کے ذریعہ کرانے کی سہولت حاصل ہوتی ہے- مجھے ان واقعات کی علیت نہیں کہ عدالت کے کس حکم کی ان لوگوں نے خلاف ورزی کی ، لیکن مجھے اس کا یقین کرنے میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے تو وہ حکوتی سیاست دانوں کے حکم کی وجہ سے ہوئی ہوگی ، اس کا ادراک عدالت کو کرنا چاہئے تھا , اس کی تحقیق خود کرنا چاہئے تھی اور جو اس میں ذمہ دار پایا جاتا اس کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے تھی اور بھرپور ملنا چاہئے تھی، اگر عدالت نے ایسا کرنا بوجوہ مناسب نہیں سمجھا تو اس مقدمہ کہ سیاسی پہلؤں کے پس منظر میں عدالتی تحمل ( judicial restraint) کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا – توہین عدالت کا اختیار عدالتوں کے احکامات کی تعمیل اور ججوں پر قومی اعتماد کو بحال رکھنے یا اس اصول کی خلاف ورزی کرنے کا آخری ہتھیار ہوتا ہے، جس کو ہر حال میں استمعال کرنا نہ تو لازم ہے اور نہ ہی مناسب ، لیکن اس کے استمعال کرنے کا اختیار اور احتمال ہر حال میں ملحوز خاطر رہنا چاھئے اور رکھنا چاھئے- عدلییہ ہو یا مقننہ ، یہ بنیادی طور حکومت کی توسیع شدہ اختیارات کا ہی استمعال کرتے ہیں اور حکومت ہی ہر ادارے کی اچھائیوں اور برائیوں کی نمائیندہ اور ذمہ دار ہوتی ہے، اگر حکومت کی چولیں ہل جائیں یا اس کی اخلاقی، قانونی اور سیاسی ساکھ خراب ہوجائے تو اس کے ادارے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے – اس کا ادراک ملحوض خاطر رکھنا ہر ادارے کی ذمہ داری ہے-

مجھے یاد پڑتاہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ایک انگریز سیکریٹری قانون جس کا نام غالبآ Sir snelson تھا ججوں کے خلاف نازیبا الفاظ کی وجہ سے توہیں عدالت کی سزا دی تھی جبکہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم خواجہ یوسفُ صراف کو ان ہی وجوہات کی بناء پر سزا دی تھی۔ دونوں کیسز میں حکومت نے ان کی سزا معاف کر کے ان کو رہا کردیا تھا- 1993-94 میں بھی آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے ان ہی وجوہات کی بناپر سردار عتیق خان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی تھی لیکن سزا ان کے ایک دوست کو دی گئی، جس کو بھی غالبآ حکومت نے معاف کر کے رہا کردیا تھا-
وہ جفا کرتے رہیں ، ہم وفا کرتے رہیں
اپنا اپنا فرض ہے دونوں ادا کرتے رہیں
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان ہی سالوں میں حکومت نے توہین عدالت کے قانون کی ترمیم کرکے اس کے استمعال کو لگ بھگ ناممکن بنا دیا جس کو ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا، اور اس فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا کہ یہ اختیار عدالتوں کے پاس رہنا چاہئے لیکن اس کے استمعال ہر حال میں ہونا بھی نہیں چاہئے.

ہمارے ملک مین سرکاری ملازموں کو ہر حکومت اپنا ذاتی اور جماعتی ملازم سمجھتی ہے، ویسے ہی استعمال بھی کرتی ہے، اور یہ لوگ ویسے ہی استمعال بھی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو آئینی تفظ حاصل نہیں ہوتا- سرکاری ملازمون کو نہ تو غلط حکم ماننا چاہئے اور نہ ہی سیاسی حکومتوں کو ایسا حکم دینا چاہئے ورنہ نتائج ایسے ہی مرتب ہوتے رہیں گے جیسا ہوا ہے، جس میں کسی کی نیک نامی اور بھلائی نہیں ، سب ہی خسارے میں ہیں ، loser بہر حال state اور سسٹم کا ہے-