47

ایف آئی اے کاچوہدری نثارکےجعلی کزن کےڈیرےپرچھاپہ

رپورٹ: اسرارراجپ​وت
راولپنڈی: کرائم رپورٹر
ایف آئی اے سائبرکرائمز ونگ کا گلشن آباد مرکز اڈیالہ روڈ پر مشہور زمانہ جعلی پیر و مشہورٹھگ چوہدری صہیب علی کے فلیٹ پرچھاپہ ، ایف آئی اے کے اہلکاروں بشمول انسپکٹر شوکت حسین اور زنانہ اے ایس آئی چھاپہ مارٹیم میں شامل تھے.

جعلی پیر چوہدری صہیب کی بیوی مریم عرف رابعہ کی جانب سےزبردست مزاحمت کی گئی، پہلےفلیٹ کےدروازے کی کنڈی نا کھولی پھربھاگ کراندرکمرےمیں گھس گئی اوردروازہ اندرسےلاک کرلیا.

ایف آئی اے اہلکاروں نے فلیٹ کی جامع تلاشی لی، چوھدری صہیب علی کے زیر استعمال لیپ ٹاپ بھی قبضہ میں لے لیا گیا. بعد ازاں ایف آئی اے کی چھاپہ مار ٹیم نے بہت مشکل سے چوہدری صہیب کی بیوی سے سرچ وارنٹ پر سائن لیے.

واضع رہے کہ جعلی پیر چوھدری صہیب علی نے خود کو سابقہ وفاقی وزیرِداخلہ چوھدری نثار علی خان کا کزن و کاروباری پارٹنر ظاہر کرتے ہوئے ایک سادہ لوح خاندان سے کاروبار کا جھانسہ دے کر سوا چار کروڑ روپے نقد اور تقریباً دو کلو سونے کے زیورات ہتھیا لیے تھے

بعد ازاں چوھدری صہیب علی نے مظلوم خاندان کو نہ صرف ان کا پیسہ و سونا واپس دینے سے انکار کر دیا بلکہ اس خاندان کی جواں سال یونیورسٹی کی طالبہ لڑکی مہ نور وقار کو اپنی بیوی مریم عرف رابعہ کے ذریعے دھوکہ سے اپنے فلیٹ میں بلا کر اس پر تشدد کیا اور اس کی اپنے موبائل فون میں قابل اعتراض تصاویر بھی بنا ڈالیں. جعلی پیر نے پھر اس لڑکی کے موبائل فون پر اس کی قابل اعتراض تصاویر سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ پر بھیج کر دھمکیاں دیں کے اگر اس کے خاندان نے اس سے پیسہ و سونا واپس مانگا تو وہ یہ تصاویر انٹرنیٹ پر وائرل کر دے گا.

مظلوم لڑکی کے والدین نے اس وقت کے وزیر داخلہ چوھدری نثار علی خان کو شکایت کی کہ چوھدری صہیب نے آپکا کزن بن کر ہمیں لوٹ لیا اور ہماری جوان بیٹی کی قابل اعتراض تصاویر بھی بنا ڈالیں مگر چوھدری نثار نے یہ کہہ کر “یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی اپنے فیملی فرینڈز کو کروڑوں روپے دے دے” اس مظلوم خاندان کی مدد سے انکار کر دیا.

اس کے بعد یہ مظلوم خاندان روتا دھوتا ایف آئی اے کے سابقہ ڈی جی محمد آملیش کے پاس دادرسی کے لیے گیا مگر ڈی جی نے بھی چوھدری نثار علی خان کا نام سن کر کہا “ہمارے پر جلتے ہیں چوھدری صاحب تک جانے میں” اور اس خاندان کو مشورہ دیا کہ آپ وزیر داخلہ کا نام اس درخواست سے نکالو تو پھر ایف آئی اے جعلی پیر پر ہاتھ ڈال سکتی ہے.

سابقہ ڈی جی نے اس خاندان کو اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر سائیبر کرائمز ونگ نعمان اشرف بھودلا کو ریفر کیا اس دلیر افسر نے اس خاندان کو مشورہ دیا کہ آپ چوھدری نثار کا نام فی الحال درخواست سے نکال دیں.

جب ڈی جی نے کیس سائیبر کراہمز کو کیس مارک کیا تو مظلوم لڑکی نے ڈی ڈی نعمان سامنے پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس میں اس نے صاف صاف بتایا کہ اس کے خاندان کو صہیب نامی شخص نے نہ صرف خود کو چوھدری نثار علی خان کا کزن ظاہر کر کے پیسہ و سونا لُوٹا بلکہ اس کو اپنی بیوی رابعہ عرف مریم کے زریعے اپنے فلیٹ پر بلا کر تشدد کر کے، چھری دکھا کر قابل اعتراض تصاویر بنا کر بعد میں بلیک میل کیا کہ ماں باپ کو منع کرو پیسے سونا بھول جاہیں ورنہ نیٹ پر تمہیں نشر کر دوں گا

تفتیش میں تاخیر ہونے پر مظلوم لڑکی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہیومن رائٹس سیل میں ایک درخواست دی جس پر ڈی جی ایچ آر سی نے ایف آئی اے کو مقدمہ کی تفتیش کا حکم جاری کر کے رپورٹ طلب کر لی

ایف آئی اے نے تفتیش کا عمل تیز کرتے ہوئے جعلی پیر کو طلب کر کے تفتیش کی اور اسکا موبائل فون فرانزک معائنہ لیے قبضہ میں لے لیا. تاہم صہیب نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا آئی فون دے دیا جبکہ اس نے لڑکی کی تصاویر سامسنگ سے بنائیں تھی. لڑکی نے ایف آئی اے کو دوبارہ درخواست دی کہ جعلی پیر سے اصل موبائل برآمد کیا جائے. اس پر ایف آئی اے انسپکٹر شوکت حسین نے سرچ وارنٹ حاصل کر کے جعلی پیر کے ڈیرے پر چھاپہ مارا.