61

یروشلم، کیا سےکیا ہوتا رہا ؟

رپورٹ: عازش علی بٹ
سٹیٹ ویوز: اسلام آباد

5000ق م، ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یروشلم میں 7 ہزار سال قبل انسانی آبادی موجود تھی۔

1000ق م، حضرت داود علیہ السلام نے یروشلم فتح کر کے اپنی حکومت کا دارالحکومت بنایا۔

960 ق م، حضرت داود علیہ السلام کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے یروشلم میں معبدتعمیر کرایا جسے ہیکل سلیمانی کہا جاتا ہے۔

589 ق م، عراق کے حکمران بخت نصر نے یروشلم کو تاراج کر کے یہودیوں کو ملک بدر کیا۔

539 ق م ہخامنشی حکمران سائرس اعظم نے یروشلم پر قبضہ کر کے یہودیوں کو واپس شہر میں بلا لیا۔

30 عیسوی ، رومی سپاہیوں نے یسوع مسیح کو مصلوب کیا یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

638 میں مسلمانوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمر کے دور میں بازنطینیوں کو شکست دے کر یروشلم پر قبضہ کیا۔

1095 میں پوپ اربن دوم نے یروشلم مسلمانوں سے واپس لینے کیلئے یورپ بھر میں مہم چلا کر مسیحی فوجیں اکٹھی کیں۔

1099 میں مسیحی عوام، امرا اور بادشاہوں کی مشترکہ فوج یروشلم کو مسلمانوں سے چھڑا لیا، یہ پہلی صلیبی جنگ تھی۔

1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی یروشلم کومسیحیوں سے آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے۔

اگلے برسوں میں 4 صلیبی جنگیں ہوئیں لیکن مسیحی یروشلم مسلمانوں سے نہیں چھڑا سکے۔

1229 میں مملوک حکمران الکامل نے بغیر لڑے یروشلم کو عیسائی کمانڈر فریڈرک دوم کے حوالے کر دیا۔

1244ء میں یعنی15برس بعد مسلمان کمانڈر خوارزمیہ نے ایک بار پھر شہر پر قبضہ کر لیا۔

اگلے 673 برس تک یہ شہر مسلمانوں کے قبضے میں رہا . 1517 ء سلطان سلیم اول نے یروشلم کو عثمانی سلطنت میں شامل کر لیا۔

1892میں یروشلم میں ریلوے لائن بچھائی گئی۔11 دسمبر 1917 ء ، برطانوی جنرل سر ایڈمند ایلن بی نے عثمانی فوج کو شکست دیکر یروشلم پر قبضہ کر لیا۔

1947ء اقوام متحدہ نے یروشلم کو 2 حصوں تقسیم کرنے کی منظوری دی، مشرقی حصہ مسلمانوں ، مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کیا گیا۔

1948ء میں اسرائیل کا آزادی کا اعلان ۔شہر اسرائیل اور اردن میں تقسیم ہو گیا ، عرب ملکوں نے مل کر حملہ کیا لیکن انھیں اس میں شکست ہوئی۔

1950ء اسرائیلی پارلیمنٹ نے یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت قرار دیدیا لیکن دیگر ممالک نے تل ابیب میں ہی اپنے سفارتخانے رکھے۔

1967ء میں اسرائیل نے یروشمپ کے دونوں حصوں پر قبضہ کر لیا لیکن بین الاقوامی برادری اس قبضے کو ابھی 2017ء تک غیر قانونی قراردیتی ہے۔

1980ء اور 1990ء کی دہائی میں امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتا رہا۔

فروری 1992 ء امریکی صدر بل کلنٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حق میں ہیں۔

8 نومبر 1995ء کو امریکہ نے یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995ء کی منظوری دیتے ہوئے اسے باقاعدہ اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا
31 مئی 1999ء یروشلم ایمبیسی ایکٹ 1995ء کے مطابق31 مئی 1999ء تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا جانا تھا۔

امریکی صدور ہر 6 ماہ بعد سفارتخانے کی منتقلی کے حکمنامہ کو موخر کرنے کا حکم نامہ جاری کرتے رہے۔

یکم جون 2017ء ٹرمپ نے بھی 6 ماہ کیلئےسفارتخانے کی منتقلی کاحکمنامہ جاری کیا تھا۔

یکم دسمبر 2017ء کو ٹرمپ نے سفارتخانے کی منتقلی کاحکم جاری کرنا تھا جو پہلے 4 دسمبر تک ملتوی کیا۔

6 دسمبر 2017ء کو امریکہ اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔