27

ایئرچیف مارشل کاخلائی مشن بھیجنےکا اعلان

اسلام آباد (راجہ ارشد محمود/سٹیٹ ویوز) ایئر چیف مارشل سہیل امان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان آئندہ دو برسوں کے دوران خلا میں اپنا مشن بھیجےگا، انہوں نے ایئریونیورسٹی کے زیراہتمام ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اوراپنی نوعیت کے منفرد چار روزہ ٹیکنالوجی مقابلوں کے موقع پرایئرٹیک کانفرنس سے اپنےخطاب میں کہا کہ حصول تعلیم کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا احسن استعمال اور سماجی فلاح و بہبود ہونا چاہیے.

مہمان خصوصی ایئر چیف مارشل سہیل امان نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے مابین قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ پاکستانی طلباء طالبات دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں لیکن اہدافِ زندگی کو کامیابی سے حاصل کرنے کیلئے یقین محکم،مقصد سے لگاوٌ اور انتھک جدوجہد ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ ایک رول ماڈل لیڈر کو کڑے وقت میں کٹھن فیصلے کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

ایئرچیف کا مزید کہنا تھا کہ ہر انسان مساوی طور پر عزت و احترام کا مستحق ہے، اگر ہم اپنی زندگیوں میں مثبت اقدار کو پروان نہیں چڑھاتے تو ہماری کامیابی کسی کام کی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے آگاہ کیا کہ پاکستان دوست ملک چین کے تعاون سے کامیابی سے نیکسٹ جنریشن طیارہ سازی میں مصروف ہے، ایئرچیف نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عنقریب چین کے اشتراک سے پاکستان اپنا سٹلائیٹ مشن بھیجنے کے بھی قابل ہوجائے گا۔پاکستان ایئر فورس کی دفاع وطن میںاعلیٰ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی ڈرون مارگرائیں گے، پاک فضائیہ کےسربراہ کادبنگ اعلان

ایئرچیف مارشل سہیل امان نے بتایا کہ پاکستان سالانہ بنیادوں پر 16سے 20جے ایف سترہ طیارے بنارہا ہے جو ایف سولہ جہازوں سے کارکردگی میں کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی ایئر وائس مارشل (ر) فائز امیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایئریونیورسٹی کے زیراہتمام ایئرٹیک ملک بھر کے انجینئرنگ کے طالب علموں کوجدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے نالج شیئرنگ اور آئیڈیا ز کے تبادلے کا موثر پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، چار روزہ ٹیکنالوجی مقابلوں کا مقصد ملک بھر کے قابل طلباء وطالبات کی تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔ایئرٹیک کانفرنس میں شرکت کیلئے طلباء و طالبات سمیت مختلف شعبہ زندگی کے ماہرین کی کثیر تعداد موجود تھی.