Yousuf Naeenm

امریکہ کشمیرکو علیحدہ ملک بنانے کا خواہش مندہے.حریت رہنما

[su_note]1965 میں ہونے والے آپریشن جبلاٹر سے لوگ واقف ہیں.یہ ایک خفیہ آپریشن تھاجس کا کشمیریوں کو اس وقت پتہ چلا جب کشمیر کے جموں ڈویژن کے مسلم علاقوں کے دفاتر میں پاکستانی پرچم لہرائے گئے اور پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں چلنے لگی .اس دوران وادی میں بھی ہلچل شروع ہوئی تو کئی لوگ متحرک ہوئے. ان میں ایک لڑکا ایسا بھی تھا جو آگے چل کر 1989کی مسلح تحریک کا روح رواں بن گیا۔ یہ نوجوان کوئی اور نہیں تھا بلکہ آج کے معروف حریت رہنما سید یوسف نسیم تھے۔ سید یوسف نسیم نے کشمیر کی تحریک آزادی کے عسکری محاذ کے بعد حریت کانفرنس  محاذ پر جدوجہد جاری رکھی۔ اب تک کئی مرتبہ اے پی ایچ سی آزادکشمیر شاخ کے کنوینئر رہ چکے ہیں۔ مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کے ہر نکتہ سے باخبر ہیں ۔ پاکستان سمیت عالمی فورمز پر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق  بھر پور نمائندگی کرچکے ہیں ۔ گزشتہ دونوں سید یوسف نسیم نے اپنی اہلیہ محترمہ مہرالنساء کے ہمراہ ڈیجیٹل میڈیا گروپ سٹیٹ ویوز کا دورہ کیا ۔حریت رہنما کی شریک حیات مہرالنساءکسی تعارف کی محتاج نہیں ۔وہ آزادکشمیر اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر رہ چکی ہیں۔ دوبار الیکشن میں حصہ لیکر ممبر اسمبلی رہ چکی ہیں۔ وہ مسلم کانفرنس کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں ۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں آباد کشمیری مہاجرین کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے ان کے اہم مسائل حل کرنے میں مہرالنساء کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ کشمیر کے اس خوبصورت رہنماجوڑے سید یوسف نسیم اور مہرالنساء نے سٹیٹ ویوز کے دورے کے موقع پر کشمیر کے حوالے سے صحافی مقصود منتظراور ثوبیہ مشرف کے ساتھ جو بے باک گفتگو کی اس کا پہلا حصہ سٹیٹ ویوز کے ویورزکے لیے پیش خدمت ہے۔  [/su_note]
سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالد گردیزی سید یوسف نسیم اور مہرالنساء کے ساتھ محو گفتگو ہیں

سوال:آپ نے طویل مدت تک پاکستان میں حریت کانفرنس کی نمائندگی کی۔ کئی مرتبہ حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے کنوینئر رہے ۔ کیا آپ اپنی  کوشش سے مطمئن ہیں؟

سید یوسف نسیم :آزادی کی تحریکوں میں دہائیاں اور صدیاں لگتی ہیں۔ جموں و کشمیر کا جو ایشو ہے اسے بھارت نے اتنا پیچیدہ بنادیا ہے کہ عالمی برادری بھی سمجھتی تھی کہ مسئلہ کشمیر دراصل پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سرحدی تنازع ہے۔ عالمی برادری بھول گئی تھی یا کسی نے شاید دنیا تک یہ بات نہیں پہنچائی تھی کہ کشمیر دوکروڑ انسانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور یہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی تحریک ہے۔ یواین او نے اس مسئلہ کوتسلیم کیا ہے اور خود بھارت اور پاکستان اسے ایک حل طلب تنازع ماتنے ہیں۔ اب کشمیری نوجوانوں ، ماوں ،بہنوں اور بیٹیوں کی قربانی کی وجہ سے تنازع سرد خانے سے نکل کر عالمی منظر پر آگیا۔

اللہ نے مجھے عسکری اور سفارتی محاذ پر سب سے زیادہ کام کرنے کا موقع عطا کیا ، کئی پارلیمانی وفود کیساتھ ایسے اہم ممالک کے دورے کرنے کا موقع ملا جنہیں طاقت کا مرکز سمجھا جاتاہے ، وہاں کے حکمرانوں تک مسئلہ کشمیر کی اصل روح پہنچادی۔

سوال :کیا کبھی کشمیری قیادت کومسئلہ عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا فری ہینڈ ملا ہے ؟

سید یوسف نسیم :جی۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے دور میں جب نوابزادہ نصراللہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے اس وقت انہوں نے کشمیریوں کو مکمل فری ہینڈ دیا تھا تاکہ کشمیری خود دنیا کے ہرفورم پر جائیں ،اپنے مسئلے کو بیان کریں اور دنیا کشمیریوں کو سنے۔ اس دور میں یقینی طور پر مسئلہ کشمیر کی خاطرخواہ پذیرائی ہوئی۔ اسی دور میں کشمیرکویواین اومیں آبزرور کا سٹیٹس ملا۔

اس کے بعد حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم کو پوری دنیا میں کشمیریوں کا نمائندہ تسلیم کیا گیا۔  علاوہ ازیں اوآئی سی ، یورپی یونین اور دیگر فورمز پر کشمیریوں کے وفود گئے جہاں انہوں نے کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی۔ تمام فورمز پر بھارتی مظالم کے ثبوت پیش کیئے ۔ جنیوا ،ہیومین رائٹس کمیشن، ایشیا واچ، انٹرنیشنل پیس بیورو اور دنیا کی دیگر تسلیم شدہ این جی اوز کے پروگراموں میں گئے اور بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی ، کشمیر میں رائج کالے قوانین سے متعلق ثبوت کے ساتھ بات کی۔ الحمداللہ اب ہمیں اپنے کام کا آوٹ پٹ بھی نظر آنے لگا ہے۔

سٓوال: آپ کی تیس سالہ جدوجہد سے انکار نہیں لیکن اس کا ابھی تک صرف یہ نتیجہ ہوا کہ زیادہ سے زیادہ کوئی نہ کوئی ملک کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کرتا ہے۔ اصل ایشو کے حل کے حوالے سے آج تک مثبت اشارے نہیں ملے ۔ ایسا کیوں؟

سید یوسف نسیم :آپ بجا فرمارہے ہیں۔ جہاں تک یواین، او آئی سی اوریورپی یونین کا تعلق ہے وہاں صرف ممبر ممالک کے نمائندے جاتے ہیں ۔ ہم براہ راست ان فورمز پر نہیں جاسکتے ، کسی  نہ  کسی طریقے سے ان فورمز پر جانے کی انٹری لینی پڑتی ہے۔ جہاں تک اے پی ایچ سی کی پہنچ ہے وہاں کشمیر کی بات ہوتی ہے۔ حریت ایک تحریک کوچلارہی ہے ،یہ کوئی حکومت نہیں اور نہ ہی اس کے پاس بجٹ ہے،دہلی میں آفس کھولا وہ بھارتی حکومت نے بند کردیا۔جموں میں گئے تو وہاں ہمارے رہنماوں پر حملے ہوئے ۔

سوال: پاکستان کی کشمیر پالیسی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

سید یوسف نسیم :ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستانی حکومتوں کی پالیسی حالات اور موسموں کے ساتھ بدلتی رہی جس کی وجہ سے ہم منزل کے عین قریب پہنچ کر بھی زیرو ہوگئے  ۔ میں یہ وثوق سے کہوں گا کہ پچھلے پانچ سال سے کشمیرکمیٹی اورحکومت کی کشمیر پالیسی کہیں نظر نہیں آئی ۔ پاکستان کو یواین او نے مسئلہ کشمیر کا فریق تسلیم کیا، ہندوستان نے یواین او میں جو کیس کیا تھا وہ پاکستان کیخلاف کیا تھا اسلئے جب تک پاکستان کشمیرکے حوالے سے ٹھوس پالیسی نہیں اپناتااور پاکستان کی قیادت ، آزادکشمیر کی مسلمہ قیادت اور بالخصوص مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت ایک پیج پر نظر نہیں آئے گی تب تک کوئی واضح کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔

سید یوسف نیسم ایک سوال کے جواب کے دوران ایک انداز

سوال: انفارمیشن کا موثردور ہے، جنگیں میڈیا پر لڑی جارہی ہیں ۔ کیاکہیں پاکستانی حکومتوں کا یہ رویہ کشمیریوں کے بیانیہ پر اثر انداز تو نہیں ہوگا ؟

سید یوسف نسیم : یہ اہم سوال ہے، یقینا آر پارکشمیریوں کی غالب اکثریت خود کو پاکستانی تصور کرتی ہے اورجو کشمیریوی قوم بالخصوص نوجوان نسل نے جو قربانیاں دیں وہ خالصتا اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی خاطر دیں لیکن جہاں تک حکومتی پالیسی کا تعلق ہے تو ہم اپنی نوجوان نسل کو مطمئن نہیں کرپاتے کہ پاکستان کا بحیثیت فریق کردار کافی ہے ۔ جس ازیت میں بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی محاذ پرڈٹے ہوئے ہیں اور جس طریقے سے وادی کشمیر کے طول و عرض میں وہاں کی بچے ، بچیاں اور مرد و زن قربانیاں دے رہے ہیں اس کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کی حکومت کشمیر کے بارے میں ٹھوس پالیسی اپنائے ۔
یہاں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ بھارت سمیت اینٹی پاکستان ممالک چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ کشمیری پاکستان سے دور ہوجائیں ، میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پاکستانی قوم کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتی ہے اگرپاکستانی حکمران بھی اسے اپنی شہ رگ  سمجھیں تو آنے والے وقت میں جو پانی کی بندش پر لڑائی کا خدشہ ہے اس کے حوالے   سے قبل از وقت حکمت عملی بنا ئی جاسکتی ہے۔

سوال: کیا آپ تحریک آزادی کے بیس کیمپ کی حکومت کے رول سے مطمئن ہیں؟

سید یوسف نسیم :اس وقت پاکستان اور آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہے لیکن بدقسمتی سے آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم کے پاس تحریک آزادی کیلئے ایک روپے کا نہ بجٹ ہے اور نہ ہی ان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی آئینی کردارموجودہے۔ سردارعبدالقیوم خان کے دور میں معاملات بہتر تھے۔قائد اعظم کی کشمیر پالیسی واضح تھی جس کو نوابزادہ نصراللہ نے فالو کیا کہ کشمیر ی اپنے کیس کو خود عالمی فورمز پر لے جائیں اور پاکستان پشت پر رہے۔ بیس کیمپ کا ایک رول تھا اور قائد اعظم کے نظریہ کے مطابق یہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ہے نہ کہ آزادکشمیر گورنمنٹ۔ جسے  پوری ریاست کو آزادکرانا ہے  لیکن بدقسمتی ہے کہ جس حکومت کے پاس تحریک آزادی کیلئے دس روپے کا بجٹ نہ ہو وہ کیا کردار اداکرسکتی ہے۔الٹا اس سے تحریک پر منفی اثر پڑرہا ہے۔

سوال: دنیا میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو کیسے روکا جاسکتا ہے ؟ 

سید یوسف نسیم :میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح وادی کشمیر میں عوام نے ظلم سہے اور اپنے حق کیلئے بھارت کیخلاف ڈٹے رہے ، دنیا حیران ہے کہ یہ کشمیری کس چیز کے بنے ہوئے ہیں۔ میں یہ یقین کیساتھ کہتا ہوں کہ بھارت اخلاقی طورپر کشمیر میں جنگ ہارچکا ہے اب مودی سرکار نے 80ہزارکروڑروپے اس تحریک کو دبانے کیلئے مختص کیا ہے لیکن بھارت چاہیے کچھ بھی کرے اسے ہرقدم پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور اسے ختم کرنے کیلئے پالیسی اور حکمت عملی ازسر نوترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پالیسی بنائے ۔ کشمیری اس پالیسی کو لیکر دنیا بھر میں لابنگ کریں تو نتائج حوصلہ افزا ہونگے ۔

سوال :حریت کانفرنس کے رہنماوں پر یہ الزام لگ رہا ہے انہوں نے تحریک پر توجہ دینے کی بجائے اپنے گھروں اور تجوریوں کو بھرا۔ بھارتی ایجنسیوں نے کئی حریت رہنما و ں  کومنی لانڈرنگ کیسز میں گرفتار کیا ۔ کیا وجہ ہے کشمیرکے لوگ سڑکوں پر آنے کے بجائے خاموش ہیں؟

سید یوسف نسیم :جنگ اور تحریکیں پیسے کے بغیر نہیں چلتیں۔ کسی بھی تحریک کو دنیا میں اجاگر کرنے کیلئے مختلف اوقات میں مختلف ممالک کے دورے کرنے پڑتے ہیں اور یہ پیسے کے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ الزامات لگتے ہیں لیکن میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ تحریک کشمیرکسی معجزے سے ہی چل رہی ہے۔یہ ہندوستان کا شوشہ ہے کہ لوگوں نے فنڈز ہڑپ کیے ، پیسے کھائے ۔ اگرچہ بھارتی ایجنسی نے پوری حریت قیادت پر الزامات لگاکر تحقیقات کیں مگر وہ اپنے کسی بھی الزام کو حقیقی رنگ نہ دے سکی ۔’

بھارتی میڈیا نے جب اس بے بنیاد منی لانڈرنگ کے معاملے کواچھا لا تومجھے بھی شک گزرا کہ شاید اس بات میں کوئی حقیقت ہے لیکن وقت نے پھر ثابت کیا کہ ایسا کچھ نہیں ۔ آزادکشمیرحریت چیپٹر میں 25 سے زائد تنظیموں کے نمائندے موجود ہیں جن میں سے اکثریت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی جائیدادیں فروخت کرکے یہاں اراضی لی اور مکان بنائے

یقین کریں حریت رہنما ڈاکٹر اعلیٰ ، غلام محمد صفی اور دیگر نے اس پار کشمیر میں اپنی زمین فروخت کرکے یہاں سر چھپانے کیلئے چھت لی۔ کچھ نے ایل او سی ٹریڈ کرکے پیسے کمائے ۔گوکہ ہم اس ٹریڈ کیخلاف تھے ۔

سید یوسف نسیم اور مہرالنساء کا سٹیٹ ویوز ٹیم کے ساتھ گروپ فوٹو

سوال :دورہ حاضر کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امید کی کوئی کرن نظر آرہی ہے ۔ اگر حل ہوگا تو کب ہوگا؟ یا کشمیری نوجوان اسی طرح مرتے رہیں گے۔

سید یوسف نسیم : اس وقت بھارت کے تمام دانشور، فوج ، ایجنسیاں ، بھارت کے دوست جو پاکستان میں بھی موجود ہیں ، ان سب کی یہ کاوش ہے کہ کشمیرکی لیڈر شپ سے کسی طریقے سے کشمیریوں کا اعتماد اٹھ جائے۔ بھارت نے فوجی طاقت آزمائی، کالے قوانین کا سہارا لیا،قتل و غارت کا بازار گرم کیا لیکن وہ کشمیریوں کی آواز دبانے میں ہر محاذ پر ناکام رہا ۔ اب وہ نئی سازش کے تحت لیڈرشپ کو ٹارگٹ بنانا چاہتا ہے ۔

 سید علی شاہ گیلانی جن کی عمر نوے سال ہے ، عمر کے اس حصے میں کیا وہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھیں گے یا قوم کی آزادی  کو اہمیت دینگے ۔ کیا وہ کرپٹ ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں لیکن بھارتی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کے دلوں سے ان کی محبت نکال دی جائے ۔ شومئی قسمت اس میں ہمارے کچھ دوست بھی شامل ہیں۔
دوسری بات یہ کہ بھارت مذاکرات کا ڈھونگ رچارہا ہے ۔ آج کل یہ کام سابق سربراہ آئی بی دنیشور شرما کو سونپا گیا ہے جن کا رویہ کبھی بھی کشمیریوں کے حق کیلئے مثبت نہیں رہا ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے سربراہان کے درمیان مذاکرات کے جو72 دور گزرے ان میں ناکامی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آیا ۔

تاشقند معاہدہ ناکام ہوا، شملہ ایکارڈ فیل ہوا، لاہور ڈیکلریشن بھی کوئی نتیجہ نہ دکھا سکا ۔ ناکامی کی وجہ کیا ہے سب جانتے ہیں کیوں کہ اس میں کشمیری شامل نہیں تھے۔کشمیر کے آخری مہاراجہ ہری سنگھ سے بھارتی حکومت کا معاہدہ قائمہ ہوا لیکن وہ ناکام ہوا۔ کیوں؟ کیونکہ اس میں پاکستان شامل نہ تھا،اندراعبداللہ ایکارڈ ہوا وہ بھی فلاپ ہوا کیونکہ اس میں پاکستان موجود نہ تھا۔ کشمیریوں نے اس ایکارڈ کو شب خون کا نام دیکر ظلم کیخلاف بندوق اٹھائی۔

یہاں یہ ببانگ دہل کہہ رہا ہوں کہ کوئی بھی غیرت مند کشمیری بھارت سے ایسے مذاکرات نہیں کرسکتا اور نہ ہی کبھی کرے گا کیونکہ ان مذاکرات سے کسی کو کچھ نہیں ملنے والا  ۔
حقیقت میں آزادی تو اسی دن ملی تھی جس دن مقبول بٹ شہید تہاڑ جیل میں پھانسی پر چڑھے ۔ جس دن افضل گورو شہیدنے تحتہ دار کو چوما ۔ جس دن سری نگر میں شہید اشفاق وانی نے اپنا گرم لہو بہایا۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیر فرزندان نے جو اپنے لہو سے شمع جلائی اسے دنیا کی کوئی طاقت بجھا نہیں سکتی۔ وہ دن دور نہیں جب اس آزادی کا ہم جشن منائیں گے۔ اتحاد اور اتفاق سے اس منزل کو جلد پائیں گے، انشاء اللہ ۔

Yousuf Nassem Mehrun nissa (1)
حریت رہنما  یوسف نسیم اور سابق ڈپٹی سپیکر مہرالنساء کے ساتھ مقصود منتظر کا گروپ فوٹو

سوال :  پروفیسر عبدالغنی بٹ کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ وہ رات کی تاریکی میں بھارتی مذاکرات کار دنیشور سے ملے ہیں۔

سید یوسف نسیم :دیکھیں آفیشل حیثیت سے کسی حریت رہنما نے شرما سے ملاقات نہیں کی ۔پروفیسر صاحب سینئر رہنما ہیں وہ اس ملاقات کو مذاکرات کا نام نہیں دے سکتے اگر وہ چاہیں بھی تو کس سے مذاکرات کریں گے، دنیشوریا کوئی اور مذاکرات کرکے انہیں کیا دے سکے گا ۔ امید  ہے کہ پروفیسر صاحب ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

سوال : کچھ عرصہ سے ایسی خبریں گردش کررہی ہیں کہ کشمیری عوام پاکستان کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ آپ کا کیا خیال ہے ۔ کیا یہ صرف افواہیں یا ان میں کوئی صداقت بھی ہے۔

سید یوسف نسیم : اس بات میں شک نہیں کہ کشمیریوں نے روز اول سے الحاق پاکستان کا نعرہ بلند کیا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 257 میں یہ بات درج ہے کہ جب کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کرینگے توکشمیرکی پوزیشن کا تعین کشمیری قیادت خود کرے گی۔ یواین او قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے پاس بھی صرف دو آپشن موجود ہیں ۔ یہ عالمی ایگریمنٹ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں کے دستخط موجود ہیں۔ قانونی اورآئینی پوزیشن یہی ہے لیکن کشمیرکے اندر جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نامی تنظیم روز اول سے موجود ہے آج بھی اپنی ذمہ داری نبھارہی ہے اور جے کے ایل ایف اس سوچ کی تائید کرتی ہے، آزادکشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں اس تنظیم کے نمائندے موجود ہیں۔  ان کا نظریہ خود مختار کشمیر ہے۔ لیکن حریت کانفرنس میں 31 تنظیمیں وہ ہیں جو الحاق پاکستانی کی حامی ہیں۔

تاہم یہ کہنے میں عار نہیں کہ مستقبل کا دارومدارحکومت پاکستان کی پالیسی پر ہے کہ کیا پاکستان حکومت کشمیریوں کو فری ہینڈ دیتی ہے یا نہیں،کیا وہ کشمیریوں پر اعتماد کرتی ہے۔ کیاوہ آزادکشمیر میں ان کے اندرونی خود مختاری پر اعتماد کرتی ہے یا نہیں ۔

سیاسی طورپر کشمیریوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔ اگر ان چیزوں پرحکومت پاکستان نظر ثانی کرتا ہے تو الحاق کا نعرہ بلند ہوتا رہے گا ۔ اگر خدانخواستہ حکومت پاکستان نے پالیسی ٹھیک نہ کی تو کشمیریوں میں خود مختار کشمیر کی سوچ تیزی سے پروان چڑھی گی۔ کشمیر چار ایٹمی قوتوں کے درمیان ایک خطہ ہے ، چاروں ممالک نہیں چاہیں گے کہ کشمیرکے پلیٹ فارم سے امریکہ کوئی فائدہ اٹھاسکے ۔یہ کہنا بھی ضرور سمجھتا ہوں کہ امریکہ چاہتا ہے کہ کشمیر ایک علیحدہ ملک بن جائے ۔ایک اور بات وہ یہ کہ خومختار ریاست کے حامی کشمیری بھی پاکستان کیخلاف نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ خودمختار کشمیر نظریہ کے بانی مقبول بٹ شہید بھی پاکستان کے ساتھ محبت کرتے تھے۔