بھارتی فوج نے داداجی کی آنکھیں نکال لیں،واقعہ نے چین سے نہیں بیٹھنے دیا

عبدالغنی لون ولد علی محمد لون 1960ء میں مقبوضہ کشمیرکے ضلع پونچھ کے ایک گاؤں گگڑیاں ساؤجیاں میں پیدا ہوئے .ابتدائی تعلیم آبائی علاقے سے حاصل کی.ساتویں جماعت پاس کرنے کے بعد گھریلو مشکلات اور معاشی مسائل کے باعث تعلیم کو ادھورا چھوڑنا پڑا. زمانہ طالب علمی سے ہی تحریک سے بہت لگاؤ تھا. اس وقت اکثر اوقات یہ معمول تھا کہ جس راستے سے بچے سکول آتے جاتے تھے اسی راستے پر بھارتی فوج کی چیک پوسٹ ہوا کرتی تھی اور ہر طالب علم کے لیے ضروری ہوتا تھا کہ وہ یہاں سلیوٹ کرنے کے بعد “جے ہند” کا نعرہ لگا کے آگے جائے مگر عبدالغنی لون اس وقت بھی قابض فوج کو نفرت کی نظر سے دیکھتاتھا.انہوں نے کبھی جئے ہند کا نعرہ نہیں لگایا. اس انکار کی پاداش میں ان کو کئی بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب تک سکول آتے جاتے رہے انڈین آرمی کے لیے عذاب بنے رہے.1992میں ہجرت کرکے آزاد کشمیر آئے گزشتہ دو دہایئوں سے مہاجر کیمپ منگ بجری میں ریائش پذیر ہیں اور اتنے ہی عرصہ سے مہاجرین کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں. 1984ء سے لیکر اب تک تحریک آزادی کو بڑے قریب سے دیکھا اور خود بھی عملی طور پر اس تحریک کا حصہ رہے .وہ بابا غنی کے نام سے مشہور ہے.صحافی ارشاد بٹ نے عبدالغنی لون صاحب کے ساتھ خصوصی گفتگو کی جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے –

کشمیری مہاجر عبدالغنی لون گزرے ہوئے سخت ترین ایام کے بارے میں تفصیلات بتارہے ہیں

سوال :بابا بچپن کے حالات اور ابتدائی تعلیم کے بارے میں کچھ بتائیں

جواب…یہ 966اءکی بات ہے جب میری عمر 6 سال تھی.میرے دادا عبدالصمد لون کو 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس جرم کی پاداش میں ان کی آنکھیں نکالی گئیں. ان کے بازو اور ٹانگیں توڑ کر ان کو زندہ جلا دیا گیا اور پھر ایک پہاڑی سے نیچے گرا دیا گیا اس کے بعد 1966ء میں میرے نانا غلام محمد اور میرے دو ماموں محمد زمان اور ثناء اللہ اور حقیقی چچا غلام نبی کو شہید کیا گیا ان واقعات کے بعد ہمارے گاؤں میں بدامنی کا دور شروع ہوا .

سوال:والد صاحب کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا تھا؟

جواب. ..1965 میں ہی میرے والد محترم سکندر بنی جو کہ جموں کے واقع ہے وہاں گئے اور وہاں سے کھیتی باڑی کے لیے ایک بیل خرید کر لائےابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ انڈین آرمی نے گرفتار کر لیا اور الزام لگایا کہ یہ بیل آپ نے سرحد پار یعنی پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر سے لایا ہے اس جرم میں ان پر ایک ماہ تشدد کرتے رہے اور بعد میں ثبوت نہ ہونے کے باعث چھوڑ دیا .

پھر جب کبھی بھی ہمارے علاقے میں کسی جگہ کچھ معمولی سی کشیدگی ہوتی اس کا نزلہ میرے خاندان پے ضرور گرتا تھا.میں نےاپنی ابتدائی تعلیم کے لیے 1967ءمیں سکول میں داخلہ لیا اور صرف آٹھویں جماعت تک ہی تعلیم حاصل کر سکا کیوں کہ معاشی حالات اس قابل نہیں‌تھے کہ میں‌آگے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتا .جس سکول میں زیر تعلیم تھااسی سکول میں ایک طلباء تنظیم مسلم جانباز سٹوڈنٹ کے کے نام سے تحریک آزادی کے لیے کام کر رہی تھی اس میں ،میں نے بھرپور حصہ لیا .اس تنظیم نے کشمیری نوجوانوں کے اندر آزادی کا شعور پیدا کرنے میں‌اہم کردار ادا کیا.

سوال :آزادی کی تحریک چلانے پر بھارتی فوج کا آپ کے ساتھ سلوک کیسا تھا؟

جواب:ظاہر ہے بھارتی فوج کا ہمارے ساتھ وہی سلوک تھا جو ایک قابض اور غاصب فوج کا ہوتا ہے .1978ء میں ایک حوالدار ماتا رام بی ایس ایف 104 بٹالین اور صوبیدار گفتا رام نے ھمارے لوگوں پر بے حد ظلم و تشدد کیا.

سوال:کشمیر کے کس لیڈر سے آپ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ؟

جواب:1971ءکے بعد سارے کشمیر میں مقبول بٹ ایک قومی لیڈر بن چکے تھے میرے چچا بشیر احمد لون جو کہ مظفرآباد میں ریائش پزیر ہیں اور محاز رائے شماری کے جنرل سیکرٹری بھی رہے. ان کے مقبول بٹ صاحب کے ساتھ گہرے تعلقات تھے. اس دوران ہم ان سے صرف ان کے قصے سنتے تھے اور ان کی زندگی کی جدوجہد سے میں بہت متاثر ہوا.

سوال :آپ نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے عملی جدوجہد کا آغاز کب کیا؟
جواب:1984ءمیں بٹ صاحب کو تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر شہید کیا گیا تو پورے کشمیر میں ہر طرف یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر نوجوان مقبول بٹ کی شہادت کا سن کر ان کے نظریے پر جان نچھاور کرنے کو تیار تھا. .بس اس وقت میرے دل میں انڈین آرمی اور حکومت کے لیےبغاوت پیدا ہوئی اورمیں عملی طور پر تحریک میں شامل ہوا.

سوال:آپ نے سب سے پہلے کس تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی؟

جواب:سب سے پہلے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اس کے علاوہ ڈاکٹر فاروق حیدر رشید حسرت، سردار معروف خان ،راجہ مظفر.،خواجہ سیف دین، ماسٹر افضل،حق نواز صاحب اور امان اللہ خان صاحب کی سربراہی میں بھی NLA میں کام کیا.

سوال: آپ نے ہجرت کب کی؟

جواب:ایک بار تحریک کے دوران 1984ء میں ایل او سی کراس کی مگر دوران تحریک پھر واپس چلا گیاجبکہ بعد میں 1992ء میں اپنے سارے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے آزاد کشمیر آگیا تھا-

سوال:آپ کی ہجرت کی وجوہات کیا تھیں؟

جواب:یوں تو مقبوضہ وادی میں گزری زندگی کا ہر دن ایسا تھا جو ہجرت پر مجبور کرتا تھا لیکن 1992ءمیں بھارتی فوجی جوانوں کی ہلاکت اور بھارتی فوج کی سپلائی کو تباہ کرنے کا الزام برائے راست مجھ پر تھا اور اس الزام کی وجہ سے میں بھارتی فوج کو مطلوب تھا جسکی وجہ سے میرے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا یہ ایک ایسا واقعہ تھا جسکی وجہ سے ہمیں ہجرت کرنا پڑی.

سوال: خونی لکیر کو عبور کرتے وقت کیا احساسات و جذبات تھے اور آزاد کشمیر میں آپ سے کیسا برتاؤ کیا گیا؟

جواب:خونی لکیر کو عبور کرتے وقت ہم آزادی کے جذبہ سے سر شار تھے .ہم پر امید تھے کہ جلد آزادی جیسی نعمت ہمیں نصیب ہو گی. کیونکہ تحریک ان دنوں عروج پر تھی ہم سمجھ رہے تھے کہ چند دن بعد آزادی حاصل کر کے اپنے گھر کو لوٹنا ہو گا..مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا.بقول شاعر
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

اور اگر بات کی جائے آزاد کشمیر کے عوام کی تو انھوں نے ہمارا والہانہ استقبال کیا مہاجر اور انصار کا وہ جذبہ نظر آیا جو نبی کریم (ص)کے دور میں نظر آیا تھا. اس وقت آزاد کشمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور ممتاز حسین راٹھور جسے درویش صفت انسان وزیراعظم آزاد کشمیر تھے .انھوں نے مہاجرین کی خوب داد رسی کرتے ہوے اپنے آبائی گاؤں میں پناہ دی .کیونکہ ممتاز حسین راٹھور صاحب خود بھی تحریک آزادی کشمیر سے واقفیت کے ساتھ ساتھ عملی طور پر تحریک آزادی کشمیر کا حصہ رہے ان سے بڑھ کر بھلا ہجرت کرنے والوں کا درد کون جان سکتا تھا؟انھوں نے مہاجرین کا بے حد خیال رکھا.

سوال:آپ تحریک آزادی کشمیر کو کس تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور کشمیری عوام سے آزادی کتنی دور ہے؟

جواب:میں مقبوضہ کشمیر کی عوام بالخوص بچوں ،ما ؤں اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جھنوں نے اپنا لہو دے کر اس تحریک کو زندہ رکھا ہوا ہے-برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد پورے کشمیر میں ایک نعرہ بڑامشہور ہوا.
ہم کیا چاہتے آزادی   ہے حق ہمارا آزادی
بھارت طاقت کے زور پر تحریک کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں پرامن مظاہرین پر کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے اس کیساتھ ساتھ پیلٹ گن کا استعمال کر کے جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے . لہٰذا اقوام عالم اور عالمی عدالت انصاف بھارت کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ درج کر کے اسے انصاف کے کٹہرے میں لائے جہاں تک بات ہے آزادی کتنی دور ہے تو مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک اور ان کا جذبہ دیکھ کر بہت قریب دکھائی دیتی ہے . اگر آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوام بشمول مہاجرین کو دیکھا جائے تو ان کے اندر عملی طور پر وہ تڑپ نہیں دیکھا ئی دیتی  .

سوال:آپ کیونکہ گزشتہ 20 سال سے کیمپ کی نمائندگی کرتے ہیں کیا اس زندگی سے آپ خوش ہیں؟

جواب:ہرگز نہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی آزاد پرندے کو ایک بند پنجرے میں قید کر کے اسے دانہ پانی دیا جا رہا ہو یہی مثال ہمارے مہاجرین کی ہے-

سوال: قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
جواب:میری کشمیری عوام اور حکومت آزاد کشمیر سے استدعا ہے کہ تمام تر سیاسی اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر تحریک آزادی کشمیر کے لیے عملی کردار ادا کریں اور مہاجرین جموں و کشمیر سے گذارش ہے کہ آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہ کر عملی طور جس مقصد کے لیے آئے تھے اس کو جاری رکھیں اوراپنی نوجوان نسل کو تحریک آزادی کشمیر اور تاریخ کشمیر سے مکمل متعارف کرایا جائے.

سوال:کیا اگر آپ کو باعزت واپس بھیج دیا جائے تو آپکی کیا رائے ہے ؟
جواب:کبھی نہیں کیونکہ آزادی کے خواب کی تعبیر بناء لوٹنا موت سے کم نہیں.