Tehzibun nasia

مردوں کے معاشرے میں تہذیب النساء خواتین کیلئے مشعل راہ بن گئیں

رپورٹ : مقصود منتظر
اسلام آباد:سٹیٹ ویوز

” ہرکامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ والی کہاوت” اب پرانی ہوگئی کیونکہ اب خواتین ہرمیدان میں مردوں سے دو قدم آگے نکل چکی ہیں . آزادکشمیر کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر اورکمشنر بحالیات تہذیب النساء کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے مختصر عرصے میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ انتظامی امور میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے مرد افسران  کو پیچھے دھکیل دیا.

آزادکشمیر کے پسماندہ علاقہ  سے تعلق رکھنے والی تہذیب النساء نے 2007میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اوراس وقت نئے بننے والے ضلع ہٹیاں بالا میں پہلی خاتون اسسٹنٹ  کمشنر کی ذمہ داری سنبھالی اور ساتھ ہی انہیں آزادکشمیر کی طرف سے  ایل او سی ٹریڈ اتھارٹی کی ذمہ داری  بھی سونپی گئی ۔ اس کے بعد ضلع مظفر آباد کی ایڈیشنل ڈی سی بھی رہیں۔

دوہزار تیرہ میں انہیں ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بنایا گیاتو یہ آزاد خطے کی پہلی خاتون ڈی سی  ہوئیں جبکہ 2017میں تہذیب النساء کو پہلی خاتون کمشنر بحالیات بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔۔ تہذیب النساء نے جس لگن سے اپنی ذمہ داری نبھائی اس پر مرد ڈی سی حضرات بھی رشک کرتے ہیں۔

کمشنر بحالیات بننے والی تہذیب النساء کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں۔ کھلی کچہریوں کا انعقاد، مسائل زدہ علاقوں کے دورے،عوامی شکایات پر نوٹس لینا تہذیب کا معمول بن رہا۔ انتظامی امور کو بھی بڑی مہارت اور پھرتی سےنمٹاتی ہیں ۔

ایمانداری اور لگن سے فرائض کی انجام دہی کی بدولت  اعزاز پانے والی  یہ خاتون شہریوں کے دل پہلے  ہی جیت چکی ہیں تاہم اب سوشل میڈیا پر بھی انہیں خوب سراہا جارہا ہے۔ بعض شہری تہذیب النساء کو خواتین کیلئے مشعل راہ قراردیتے ہیں جبکہ دیگر انہیں مردوں کے معاشرےمیں بہادر لیڈی کا خطاب دیتے ہیں۔

Tehzibun nasia

تہذیب النساء کے بارے میں مزید جاننے کیلئے ویڈیو دیکھیں ۔